حکومتی جرگے، کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات بغیر نتیجہ ختم

کالعدم تحریک طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات بغیر کسی پیشرفت ختم ہوگئے جبکہ سیز فائر غیر معینہ مدت تک پر اتفاق برقرار رکھا گیا ہے۔
طالبان کی ثالثی میں حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان کابل کے انٹر کانٹینینٹل ہوٹل میں دو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات ختم ہوگئے ہیں جس کے بعد حکومت پاکستان کا قبائلی عمائدین، سیاست دانوں اور ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل 57 رکنی جرگہ واپس آ گیا۔

کراچی حملے میں خاتون کو استعمال کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟

جرگہ کے ایک سینئر رکن نے بتایا کہ مجموعی طور پر ماحول بہت مثبت رہا، ٹی ٹی پی کا اپنا نقطہ نظر تھا اور ہم اپنا مؤقف رکھتے ہیں، اس لیے طویل بحثیں ہوئیں، خواہش تھی کہ کے پی کے سے انضمام ختم کر کے فاٹا کی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کی، ہم اسے کالعدم کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، جرگے کے رکن کے مطابق ہم نے اہم اسٹیک ہولڈرز بشمول سیاسی اور عسکری قیادت سے باہمی مشاورت اور بات چیت کے لیے ٹی ٹی پی سے 3 ماہ کا وقت مانگا ہے۔
جرگہ کے سینئر رکن نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ٹی ٹی پی کو مذاکرات کی میز پر لانے میں افغانستان کی طالبان حکومت نے اہم کردار ادا کیا، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ ٹی ٹی پی کے تنازع کا خاتمہ افغانستان کے بہترین مفاد میں ہے۔
دوسری جانب طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے بتایا کہ ہماری سرزمین سے کوئی بھی حملہ پاکستان کو ناراض کرسکتا ہے اور اس طرح ہمارے پڑوسی ملک کے ساتھ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جس کے اسلامی امارت کے لیے عالمی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ تاہم ہم ’ٹی ٹی پی‘ کو مجبور نہیں کرنا چاہتے جس نے ہمارے ساتھ مل کر امریکیوں کے خلاف جہاد کیا اور قربانیاں دیں۔ اس لیے یہ زیادہ بہتر ہو گا کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی ایک دوسرے کو کچھ رعایتیں دینے کے بعد امن معاہدہ کر لیں۔

Back to top button