ٹیسلا کے مالک نے ٹویٹر خریدنے کا فیصلہ ملتوی کیوں کیا؟

دنیا کے امیرترین افراد میں شمار ہونیوالے سپیس ایکس کمپنی کے چیف انجینئر اورالیکٹرک کار کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون ریو مسک نے ابتدائی معاہدے کے باوجود سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر کو مقررہ مدت میں 44 ارب ڈالرز ادا کر کے خریدنے کا فیصلہ بظاہر ملتوی کر دیا ہے۔

ایلون مسک نے اپریل 2022 میں ٹوئٹر کے فی شیئر کی قیمت 54 ڈالرز لگا کر مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ کو خریدنے کا اعلان کیا تھا اور ٹوئٹر کے ڈائریکٹرز نے ان کی پیش کش کو قبول بھی کرلیا تھا۔ لیکن اب انہوں نے ٹوئٹر پر کروڑوں جعلی اکاؤنٹس کی موجودگی کا جواز بنا کر اسے جلد بازی میں نہ خریدنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ٹوئٹر کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایلون مسک کو خریداری کے لیے دی گئی قانونی مہلت کی مدت دو جون کو ختم ہو چکی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل سے بلوچ نوجوان کس نے اغوا کیا؟

اب ٹوئیٹر کی خریداری کے معاہدے کی تکمیل ڈائریکٹرز کی دوبارہ منظوری سمیت حکومتی اداروں کی اجازت سے مشروط ہوگی، ٹوئٹر نے ٹرسٹ ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اب ایلون مسک کو اس ایکٹ کے تحت دوبارہ خریداری کی اجازت لینا ہو گی اور نئے معاہدے کرنا پڑیں گے۔ ٹوئٹر کی انتظامیہ کے مطابق ایلون کو امریکی سیکیورٹی ایکسچینج کی تفتیش کا بھی سامنا ہے اور ان سے پوچھا گیا ہے کہ وہ ٹوئیٹر خریدنے کی صورت میں اتنی خطیر رقم کیسے منتقل کریں گے اور اس کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

دوسری جانب ایلون نے ٹوئٹر کی خریداری کے لیے درکار 44 ارب میں سے 33 ارب ڈالر کی رقم حاصل کرلی ہے جب کہ باقی ماندہ رقم وہ ایکوئٹی فنانسنگ کے تحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ٹوئٹر انتظامیہ کے بیان کے بعد ایلون مسک کی جانب سے مائکرو بلاگنگ کو خریدنے کا اپریل میں ہونا والا معاہدہ قانونی طور پر بھی ختم ہو گیا یا نہیں؟

یاد رہے کہ ایلون مسک نے ٹوئیٹر کی خریداری کے لیے کوئی ایڈوانس یا ضمانتی رقم جمع نہیں کروائی تھی۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایلون مسک ٹوئٹر کو خریدنے کا فیصلہ معطل کر دیں گے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، ایلون کے لیے خریداری کے معاہدے کی مہلت ختم ہونے پر ٹوئٹر کے شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا اور حصص مارکیٹ میں اسکے فی شیئر کی قیمت 40 ڈالرز سے بھی تجاوز کر گئی۔ واضح رہے کہ ایلن مسک نے ٹوئیٹر کی خریداری کا اعلان کر کے صارفین سے پوچھا تھا کہ وہ اس میں کس قسم کی تبدیلیاں چاہتے ہیں، جبکہ مسک نے ٹوئیٹر پوسٹ میں دو سے تین تبدیلیوں کا بھی اشارہ دیا تھا، جس سے صارفین کافی پرجوش تھے۔

Back to top button