کیا عمران نے جرنیلوں کی یقین دہانی پر لانگ مارچ ختم کیا؟

دنیا کے معتبر ترین برطانوی جریدے اکانومسٹ نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے ذریعے پاکستان کی تباہ حال معیشت کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اکانومسٹ کے مطابق پی ٹی آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ
عمران خان نے چند جرنیلوں کی اس یقین دہانی کے بعد لانگ مارچ روک دیا تھا کہ نئے الیکشن اسی سال ہوں گے
، تاہم مخلوط حکومت نے ایسی کسی یقین دہانی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ہوں گے۔
شاران بلوچ، مرحومہ کریمہ بلوچ سے متاثر نکلی
اکانومسٹ نے اپنی تازہ ترین اشاعت میں کہا ہے کہ شہباز شریف کی مخلوط حکومت کی طرف سے لئے گئے تکلیف دہ معاشی اقدامات اب عمران خان کو یہ جواز فراہم کریں گے کہ وہ حکومت کو لوگوں کی نظروں میں امریکی کٹھ پتلی اور عوام دشمن ثابت کرے۔ اسکا کہنا یے کہ نومبر 2022 میں نئے آرمی چیف کی تقرری سے موجودہ سیاسی توازن مزید غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو جائے گا جس کے اثرات پاکستانی معیشت پر بھی پڑھیں گے حالانکہ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے پاکستان کو استحکام کی سخت ضرورت ہے۔
اکانومسٹ کے مطابق شہباز حکومت کو ابھی مزید غیر مقبول اقدامات کرنے ہوں گے۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ بجلی پر سبسڈی میں مذید کٹوتیوں کا بھی امکان ہے جس کا براہ راست نتیجہ مہنگائی کی صورت میں سامنے آئے گا اور سارا بوجھ عوام پر منتقل ہو جائے گا۔ عمران خان اس صورت حال کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے حالانکہ آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے معاہدے انہی کی حکومت نے کیے تھے۔ یاد رہے کہ عمران خان نے ملک میں فوری الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کےخلاف احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے لیکن حکومت ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ اکانومسٹ کا کہنا یے کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور قبل از وقت الیکشن کروانے سے میکرو اکنامک استحکام کو بہتر بنانے کے مقصد سے توجہ ہٹ جائے گی۔
اکانومسٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے الیکشن سے پہلے عبوری حکومت بنانے کی صورت میں آئی ایم ایف کی جانب سے ایسی حکومت کو سنجیدگی سے لینے کا امکان نہیں ہے جو چند ہفتوں کے کیے اقتدار میں آئے گی، خاص طور پر اس خطرے کے پیش نظر کہ امریکہ مخالف عمران خان دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ عمران کے احتجاج کی وجہ سے اب تک نئے وزیر اعظم شہباز شریف موجودہ بحران سے نمٹنے کیلئے کوئی ٹھوس حکمت عملی وضع نہیں کر سکے۔ احتجاج نے ان کا دھیان دوسری جانب بٹا رکھا ہے۔ اکانومسٹ لکھتا ہے کہ عدم اعتماد کے ووٹ سے وزارت عظمٰی سے ہٹائے جانے کے بعد عمران میدان چھوڑنے سے انکاری ہیں۔ انہوں نے نئی حکومت کو گرانے کی دھمکی دیتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج شروع کر رکھا ہے اور وہ اپنی اقتدار سے بے دخلی کو حزب اختلاف اور امریکا کی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکا کے ناقابل قبول مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ دوسری جانب امریکا نے عمران کے الزامات کو بکواس قرار دیا ہے، عمران واضح الفاظ میں افواج پاکستان پر بھی تنقید کر رہے اور چاہتے ہیں کہ فوج اپنی نیوٹریلٹی ختم کرکے ان کے ساتھ کھڑی ہو جائے اور حکومت پر فوری الیکشن کے لیے دباؤ ڈالے تاکہ وہ دوبارہ برسر اقتدار آنے سکیں۔
اکانومسٹ کے مطابق عمران نے تازہ ترین ہنگامہ 25 مئی کو کیا جب انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر مارچ کیا اور نئے انتخابات کے اعلان تک دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ لیکن ان کے حامیوں کی تعداد غیر متاثر کن تھی۔ لہذا آخر میں، انہوں نے اپنا دھرناے کا احتجاجی منصوبہ ختم کر دیا۔ مارچ اچانک منتشر ہونے پر قیاس آرائیاں جاری ہیں، عمران کہتے ہیں کہ وہ خونریزی کو روکنا چاہتے تھے اسلحے دھرنا نہیں دیا۔ لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حامیوں کی غیر متاثر کن تعداد سے مایوس تھے اسلحے واپس چلے گے۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چند جرنیلوں کی اس یقین دہانی کے بعد مارچ کو روک دیا گیا تھا کہ انتخابات اسی سال ہوں گے، لیکن حکومت نے ایسی کسی یقین دہانی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ہوں گے۔ عمران نے فوری الیکشن کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں 6 روز بعد دوبارہ اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود وہ پشاور میں ہی مقیم ہیں اور جلسے جلوسوں پر زور دے رہے ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ ان کے اسلام آباد فوری واپس آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔اکانومسٹ کا کہنا یے کہ نئے وزیر اعظم، شہباز شریف کی حکومت نے مغرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے عارضی اقدامات کیے ہیں۔ لیکن انہوں نے ابھی تک وراثت میں ملنے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی وضع نہیں کی۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عمران کے احتجاج نے ان کا دھیان بٹا رکھا ہے۔ ملک کی مالی حالت ابتر ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں پاکستانی معیشت کو نقصان مذید پہنچا ہے جو پہلے ہی کئی عشروں سے بدانتظامی سے دوچار ہے۔ مئی میں افراط زر کی شرح 13.8 فیصد تک پہنچ گئی، اپریل کے اوائل سے روپیہ ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کا 8 فی صد کھو چکا ہے۔ 20 مئی تک پاکستان کے غیر ملکی ذخائر کم ہو کر 10 ارب ڈالر ہو چکے تھے، جو صرف چھ ہفتوں کے لیے درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی تھے۔ یہ ذخائر 2019 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر ہیں۔ لہذا مخلوط حکومت شدید مشکلات کا شکار ہے اور عمران خان کا احتجاج اس میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
