شہبازشریف نے سویلین سپریمیسی کا جنازہ کیسے نکالا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سرکاری عہدیداروں کی اسکریننگ کا باضابطہ اختیار فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو تفویض کرنے کا فیصلہ شدید عوامی تنقید کی زد میں آ گیا ہے اور اسے سویلین سپریمیسی سرنڈر کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

ملائیکا اروڑا کم عمرمردوں کی دیوانی کیوں ہیں؟

یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے باضابطہ طور پر انٹرسروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی کو سرکاری عہدیداروں کی بھرتی، تقرر اور تعیناتیوں سمیت ترقیوں سے قبل ان کی اسکریننگ کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ ماضی میں یہ ذمہ داری انٹیلی جینس بیورو کے ذمہ تھی لیکن شہباز نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی وفاداری کا یقین دلوانے کے لیے نہ صرف مخلوط سویلین حکومت کا وقار داؤ پر لگایا ہے بلکہ اپنی ساکھ کو بھی صفر کر دیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی اور دیگر کئی جماعتوں نے شہبازشریف کی جانب سے اتنا حساس فیصلہ یکطرفہ طور پر لینے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا گلہ ہے کہ شہباز کوئی بھی اہم فیصلہ کرتے وقت وفاقی کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیتے حالانکہ تمام پالیسی فیصلے اتحادیوں کے مشاورت سے کیے جانے چاہئیں۔

تاہم حکومتی ذرائع کا اصرار ہے کہ آئی ایس آئی عمران خان کے دور حکومت سے ہی سرکاری افسران کی سکریننگ کا کام کر رہی تھی لیکن اب ایسی روایت کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا ہے کیونکہ اسے باقاعدہ پروٹوکول کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سویلین افسران کو فوجی افسران کی سکریننگ کا اختیار نہیں تو فوجیوں کو سویلین افسران کی سکریننگ کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ جب سے شہباز شریف برسراقتدار آئے ہیں وہ فوجی قیادت کے سامنے بچھے چلے جارہے ہیں اور اتنا حساس فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے ہی مشورہ کر لیتے۔ ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ شہباز شریف نے ماضی میں بطور وزیراعلی ہر سرکاری محکمے میں فوجی افسران کو گھسایا اور اب سویلین بیوروکریسی کو تباہ کرنے کے لیے انکی اسکریننگ کا اختیار بھی فوجی ایجنسی کو دے دیا ہے جو کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کے منہ پر تھوکنے کے مترادف ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ’سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے سیکشن 25 کی ذیلی دفعہ نمبر ایک کے ذریعے حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایس آئی کو تمام سرکاری افسران کی تصدیق اور اسکریننگ کے لیے اسپیشل ویٹنگ vetting ایجنسی کا درجہ دے دیا ہے۔مذکورہ قوانین سول سرونٹ ایکٹ کے سیکشن 25 کی ذیلی دفعہ نمبر ایک اور ایس آر او 120 کے تحت وزیر اعظم کو سول بیوروکریسی کے لیے قوانین بنانے یا ترمیم کرنےکا اختیار دیتے ہیں۔ آئی ایس آئی کو vetting ایجنسی کے طور پر نوٹیفائی کرنے کی ہدایت 06 مئی 2022 کو وزیر اعظم آفس سے جاری کی گئی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرکاری عہدیداروں کو اہم عہدوں پر تعینات کیے جانے سے پہلے انٹیلی جینس بیورو ان کے بارے میں اپنی رپورٹس بھیجتے تھا لیکن اب یہ ذمہ داری آئی ایس آئی کو دے دی گئی ہے۔ بیوروکریٹس کی ترقی کے وقت یہ رپورٹس خاص طور پر سینٹرل سلیکشن بورڈ کو بھیجی جاتی ہیں، حالانکہ اعلیٰ عدالتوں نے ماضی میں کچھ معاملات میں ایسی انٹیلی جنس رپورٹس کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سول سرونٹ ایکٹ میں ایسی کوئی قانونی شق نہیں جو سرکاری ملازمین کے لیے ایجنسی کی اسکریننگ کو لازمی قرار دے۔

سرکاری عہدیدار کے مطابق نئے نوٹیفکیشن کے باوجود آئی بی کی جانب سے بھی معمول کے مطابق رپورٹس بھیجی جاتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ حکومت نے اب آئی ایس آئی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کو قانونی تحفظ دے دیا ہے اس لیے اب ان کو عدالتوں میں ایک جائز قانونی دستاویز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک سابق سیکریٹری نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیر اعظم کے پاس بیوروکریسی کے لیے قوانین بنانے یا ان میں ترمیم کرنے کا اختیار ہے لیکن بہتر ہوتا کہ اگر سول بیورو کریسی آئی ایس آئی کو جانچ کے عمل کا باضابطہ چارج دینا چاہتی تھی تو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ’تقرر، ترقی اور تبادلے کے قواعد‘ میں ترمیم کے لیے ایک قانونی ریگولیٹری آرڈر جاری کرتی۔ انہوں نے کہا کہ قواعد میں ترمیم نہ کیے جانے تک محض ایک نوٹیفکیشن آئی ایس آئی کی رپورٹ کو قانونی حیثیت نہیں دے گا اور اسے عدالتی جانچ پڑتال کے دوران ایک جائز دستاویز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

عہدیدار نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سرکاری عہدیداروں کے ابتدائی تقرر میں آئی ایس آئی کی جانب سے جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بجائے آئی ایس آئی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ مسلح افواج سے سول بیوروکریسی میں شامل ہونے والے افسران کی اسکریننگ کرے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیز سے کلیئرنس نہ صرف سرکاری عہدیداروں کی ترقی کے عمل کا ایک لازمی حصہ ہے بلکہ یہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کے جج کی توثیق اور ترقی کے وقت بھی چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان انٹیلی جنس ایجنسیز کی رپورٹس پر غور کرتا ہے۔

Back to top button