کیا حکومت اب بھی ایک پیج کی کرامت سے فیضیاب ہو رہی ہے؟

سینئیر صحافی اور لکھاری نصرت جاوید کا کہنا یے کہ موجودہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ملکی تاریخ کے بے بس ترین اپوزیشن بیٹھی نظر آتی ہے جسکی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ کپتان حکومت ابھی تک ”ایک پیج“ کی کرامت سے فیض یاب ہو رہی ہے۔ نصرت کا کہنا ہے کہ میں نے آج تک ایسی لا چار اپوزیشن نہیں دیکھی، اس کے باوجود وزیر اعظم عمران خان اپنی مخالف اپوزیشن کی کامل بے بسی سے لطف اندوز ہونے کی بجائے طیش میں اور اگر مجھے نکالا ٹائپ کی دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں عمران خان کا غضب دیکھتا ہوں تو وہ فلمی گانا یاد آ جاتا ہے جو ”روٹھے ہو تم۔ تم کو کیسے مناؤں پیا“ والی بے کلی کا اظہار کرتا ہے۔پارلیمان میں عمران خان کی تحریک انصاف کو اپنے تئیں اکثریت میسر نہیں۔ ان کی حکومت اتحادیوں کے تعاون سے برقرار ہے۔

الیکشن کمیشن عمران کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے

اتحادیوں کی بیساکھیوں پر قائم حکومتیں اس ملک میں ہمیشہ مشکلات میں گھری رہی ہیں۔ مثال کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حامد ناصر چٹھہ کے مستعاردیے میاں منظور وٹو کے ناز نخرے اٹھاتی رہی۔ ایم کیو ایم نے محترمہ اور نواز شریف کی دونوں حکومتوں کو 1990 ء کی دہائی میں چین سے رہنے نہیں دیا۔

اگست 2018 ء سے آج تک عمران حکومت کو ویسی دشواریوں سے کبھی نبردآزما ہونا نہیں پڑا۔ قانون سازی میں رکاوٹوں کا سامنا ہو تو فون کھڑک جاتے ہیں اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے ایک ہی دن میں 33 قوانین منظور ہو جاتے ہیں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی سے ایک ہی نشست کے دوران منی بجٹ کے علاوہ 15 دیگر قوانین بھی منظور کروالئے گئے۔ ایسی آسانیوں کے ہوتے ہوئے بھی عمران خان مگر یہ دھمکی دینے کو مجبور ہوئے کہ اگرانہیں پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہ کرنے دی گئی تو وہ ”خطرناک“ ہوجائیں گے۔

Back to top button