کیا پنجاب حکومت راوی ریور منصوبہ بچا پائے گی؟

اگرچہ حکومت پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے راوی ریور فرنٹ منصوبے کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم عدالت عالیہ کی جانب سے جن بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اسکے پیش نظر قانونی ماہرین کو کہتے ہیں کہ حکومت کے لیے اس منصوبے کو بحال کرنا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق عملی طور پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد نئے سرے سے اراضی کے حصول کا عمل شروع کرنا پڑے گا اور اس کے لیے حکومت کو ضروری قانونی سازی بھی کرنا ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو یہ تمام کام کرنے میں مزید اچھا خاصا وقت لگے گا اور تب تک اس کی معیاد ویسے ہی ختم ہو جائے گی۔ اگر حکومت ایسا کر بھی لیتی ہے تو ماہرین کے مطابق راوی ریور فرنٹ کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے مختص کیے جانے والے بجٹ میں کم از کم 20 سے 30 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

دوسری صورت میں پنجاب حکومت کے پاس سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ماہرین کے مطابق اگر سپریم کورٹ کی طرف سے بھی پنجاب حکومت کو ریلیف نہ ملا تو عدالتی احکامات کی روشنی میں پراجیکٹ میں ضروری تبدیلیاں کرنے میں اتنا وقت لگ جائے گا کہ حکومت کی مدت ختم ہو جائے گی۔ اس کے بعد دریائے راوی کے کنارے بسائے جانے والے راوی ریور فرنٹ منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ آنے والی حکومت کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔

یاد رہے کہ راوی ریور فرنٹ نامی اس منصوبے کے تحت ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ پر محیط نئے شہر میں جدید تقاضوں کے مطابق رہائش کے ساتھ ساتھ جنگلات، جھیلیں، بیراج اور جزیرے قائم کیے جائیں گے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنائے جانے والے شہروں کی طرح اس میں ایجوکیشن سٹی، سپورٹس سٹی اور میڈیکل سٹی بنانے کے ذیلی منصوبے بھی شامل ہیں۔

اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ دار راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی یا روڈا کے مطابق مکمل ہو جانے کے بعد یہ دریا کے کنارے پر بنایا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا شہر ہو گا جو 46 کلو میٹر کے علاقے پر پھیلا ہو گا۔ روڈا کے مطابق اس منصوبے سے قدرتی ماحول کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی بحالی بھی ممکن ہو پائے گی اور اس میں تعمیر کیے جانے والے تین بیراجوں میں پانچ لاکھ 85 ہزار کیوسک پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ستمبر سنہ 2020 میں اس منصوبے کے باقاعدہ افتتاح کے موقع پر کہا تھا کہ یہ منصوبہ ’پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘ ان کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف بیرونی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی بلکہ لاکھوں افراد کو روزگار بھی ملے گا تاہم لاہور ہائیکورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے راوی ریور فرنٹ منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے سوالیہ نشان پیدا کر دیے ہیں۔

بھارت کا 170 پاکستانیوں کو ویزے دینے سے انکار

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس قانون کی چند بنیادی دفعات کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا۔ عدالت نے منصوبے کے لیے درکار اراضی حاصل کرنے کے عمل کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے جاری نوٹیفیکیشنز کو ختم کر دیا ہے۔ عدالت نے اس منصوبے اور اس کے تحت بنائی جانے والی سکیموں کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق سوال یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ سے ادے کوئی فوری ریلیف نہ ملا تو حکومت اس منصوبے کو آگے کیسے بڑھا سکے گی۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ راوی منصوبے کے لیے روڈا ایکٹ 2020 کے مطابق ’ماسٹر پلان ایک بنیادی دستاویز ہے اور تمام سکیمیں اس ماسٹر پلان کے مطابق بنتی ہیں‘ تاہم عدالت کے مطابق روڈا 2020 کے اس ایکٹ کے مطابق ایک آزادانہ ماسٹر پلان بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اس لیے اس ماسٹر پلان کی غیر موجودگی میں بنائی جانے والی کوئی بھی مزید سکیمیں غیر قانونی ہیں۔

Back to top button