حماس نے اسرائیلی جاسوسی نظام کا پول کیسے کھولا؟

حماس نے جارحانہ حکمت عملی کے تحت اپنے سے کئی گنا طاقتور اور جدید ترین اسلحہ اور جاسوسی نظام کے حامل اسرائیل پر حملہ کر کے اسے ایسی زد پہنچائی ہے جس کو وہ صدیوں یاد رکھے گا۔ اس حملے نے نہ صرف اسرائیل کا تکبر خاک میں ملا دیا ہے بلکہ اس کے جدید جاسوسی نظام کا بھی پول کھول دیا ہے۔ سینئر صحافی نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ آتش انتقام سے مغلوب ہوئی اسرائیلی ریاست اب غزہ کی پٹی میں کئی دہائیوں سے جانوروں کی طرح محصور کیے 20لاکھ فلسطینیوں کو نہایت سفاکی سے موت کے منہ میں دھکیلنا چاہے گی۔ اس کی جانب سے برتی سفاکی نام نہاد مہذب دنیا ’واجب وجائز‘ ٹھہرائے گی۔ جواز یہ پیش کیا جائے گا کہ غزہ سے آئے ’دہشت گردوں‘ نے معصوم شہریوں خاص طورپر خواتین کے ساتھ ’ظلم وبربریت‘ کی انتہاﺅں کو چھونے والا رویہ اختیار کیا۔اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کا مزید کہنا ہے کہ ہفتے کے دن اسرائیل کے جنوبی علاقوں میں جو ہوا صہیونی ریاست کا نائن الیون شمار کیا جائے گا جس کا حساب چکانے کے لیے ایسے حملوں کی زد میں آئے ممالک کے لیے محاورے والے سات خون معاف کردیے جاتے ہیں۔
نصرت جاوید کے مطابق چند روز گزرجانے کے بعد تقریباً ہر مسلم ملک سے عقل کے بے تحاشا غلام عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی ایک تنظیم حماس نے ہفتے کے دن اسرائیل کے جنوب میں ہوئے واقعات کے ذریعے صہیونی نسل پرستوں کو ’اشتعال‘ دلایا۔انھیں نہایت سفاکی سے بدلہ لینے کو ’اکسایا‘۔ جو منطقی جواز دنیا بھر میں اسرائیل کی آتش انتقام کو جائز ٹھہرانے کے لیے گھڑے جائیں گے ان کے شوروغوغا کی وجہ سے کوئی یاد ہی نہیں رکھے گا کہ 20 لاکھ انسانوں پر مشتمل غزہ کی پٹی کوانسانوں سے پاک کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ فلسطینی ہونے کے جرم میں وہاں آباد انسانوںکو ظالم کا جھاڑو محض خس وخاشاک ہی تصور کرتے ہوئے کوڑے کی صورت اٹھاکر سمندربرد کرنا چاہے گا۔
نصرت جاوید کا مزید کہنا ہے کہ امریکا اور یورپ کی ریاستیں بھی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے بہت مرعوب رہتی ہیں۔ مذکورہ ایجنسی سے ریٹائر ہوئے کئی افراد ایشیائی،افریقہ اور لاطینی امریکا کی بے شمار ریاستوں نے بھاری بھر کم تنخواہیں اور مراعات پر اپنی ملازمت میں لے رکھے ہیں۔اسرائیل سے آئے یہ ’ماہرین‘ آمرانہ حکومتوں کو اپنے ناقدین پر کڑی نگاہ رکھنے کی تربیت دینے کے علاوہ مخالفین کو بے اثر بنانے کے ہتھکنڈے بھی سکھاتے ہیں۔ اسرائیل ہی میں انٹرنیٹ کا ایک ایسا نظام بھی ایجاد ہوا جو اب نہایت مہنگے داموں اپنے عوام پر کامل کنٹرول کے جنون میں مبتلا ریاستوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ اس نظام کی بدولت آپ کے زیر استعمال ٹیلی فون اور لیپ ٹاپ میں ایسا وائرس داخل کردیا جاتا ہے جو ان آلات کو غیرمحفوظ بنادیتا ہے۔ ایسے آلات کے ہوتے ہوئے آپ اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے ہوئے بھی ریاستی کارندوں کو ٹی وی پردکھائے کسی لائیو شو کے کردار کی طرح 24 گھنٹے نظر آسکتے ہیں۔ ایسے ’قابل رشک‘ اور ذہن کو حیران کردینے والی ٹیکنالوجی کے ’موجد‘ مگر یہ نہیں جان پائے کہ فلسطینیوں کی ایک تنظیم کیا منصوبہ بنارہی ہے۔ہفتے کے روز جو ہوا وہ ’اچانک‘ ہوہی نہیں سکتا تھا۔ مزاحمت کار غزہ کی پٹی سے غباروں کی طرح فضا میں اڑکر اسرائیل کے جنوب میں واقعہ ان بستیوں میں اترے جہاں کی زمین کو فلسطینیوں سے چھین کر صہیونی نسل پرستوں نے اپنی آبادی میں بدل دیا تھا۔ فضا کے علاوہ کئی مزاحمت کار سمندر کے ذریعے بھی ایسی بستیوں میں داخل ہوئے۔
نصرت جاوید کے مطابق اسرائیل کو کاملاً مفلوج، خوفز دہ اور بے بس دکھانے کے لیے اہم ترین حربہ اس نظام کو مفلوج بنانا تھا جو صہیونی ریاست کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا نے بھاری بھر کم رقم سے کھڑا کیا تھا۔۔اس لوہے کے گنبد کی بدولت ہوتا یہ ہے کہ اسرائیل کے شہروں کا رخ کرنے والے ہر میزائل کی نشاندہی کے بعد ممکنہ ہدف رکھتے علاقوں میں سائرن ازخود بول اٹھتے ہیں۔ وہاں مقیم شہری ’پناہ گاہوں‘ میں چلے جائیں تو گنبد ہی سے ایک میزائل اڑتا ہے جو خودکارانہ نظام کی بدولت اسرائیل کی طرف بڑھتے میزائل کو فضا میں روک کر پاش پاش کردیتا ہے۔ہفتے کے روز مگر غزہ کی پٹی سے بیک وقت پانچ ہزار میزائل اسرائیل کی جانب داغ دیے گئے۔ حملہ آور میزائلوں کی تعداد اور بارش کی طرح مسلسل آمدنے ’گنبد‘ کے اوسان خطا کردیے۔ اسرائیل کے دفاع کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سے بنایا نظام کھوکھلے ڈھانچے کی صورت ڈھیر ہوگیا۔
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے قابل رشک تصور ہوتے جاسوسی نظام کو پچاس سال بعد ایسے ’جھٹکے‘ سے نبردآزما ہونا پڑا ہے۔اس سے قبل1973ءمیں بھی ایسا ہی واقعہ ہوا تھا جب مصر اور شام کی افواج نے زیرک اور خفیہ رکھی منصوبہ بندی کے بعد اسرائیل کو ’یوم کپور‘ کی مذہبی تعطیل کے دوران بوکھلادیا تھا۔ اس جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیل شکست کھاکراپنے خاتمے کی جانب بڑھتا دکھائی دیا تھا۔چند دنوں بعد مگر اسرائیل نے اپنے اتحادیوں سے آئی کمک کی وجہ سے جنگ کاپانسا پلٹ کررکھ دیا۔
اب کی بار اسرائیل کی جابر ریاست کی محدودات دو ممالک کی منظم افواج نے بے نقاب نہیں کی ہیں۔ یہ حیران کن واقعہ ایک تنظیم کے ہاتھوں ہوا ہے جسے گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل تباہ کرنے کی کاوشوں میں مصروف رہا ہے۔ ہفتے کے دن اس تنظیم نے جس انداز میں اسرائیل کو نشانہ بنایا اس کی تیاری کے لیے یقینا کئی ماہ درکار تھے۔سوال اٹھتا ہے کہ دنیا کی بے شمار آمرانہ حکومتوں کو ’باغیوں‘ پر نگاہ رکھنے اور انھیں مختلف ہتھکنڈے سے کنٹرول کرنے کے حربے سکھانے والااسرائیل اپنے ہی ملک کے خلاف تیار ہوتے منصوبے کا بروقت سراغ کیوں نہیں لگاپایا۔یہ سوال مگر اس وقت عالمی میڈیا میں اٹھایا نہیں جائے
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8 ججز کیلئے 10 گھر کیوں مانگ لئے؟
گا۔
