اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8 ججز کیلئے 10 گھر کیوں مانگ لئے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت سے اپنے 8 حاضر سروس ججز کیلئے کیٹیگری ٹائپ ون کے 10؍ سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ مانگ لی ہے جبکہ دوسری طرف حکومت نے بغیر چون و چرا کے اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عدالت کے ججز کیلئے ٹائپ ون کیٹگری کے 10؍ گھر الاٹ کردے گی۔
دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری ذریعے نے سوال اٹھایا ہے کہ عدالت کے جس جج کے پاس اسلام آباد یا راولپنڈی میں اپنا یا خاندان کا گھر ہے تو کیا ایسے جج کو سرکاری رہائش الاٹ کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ذریعے نے نشاندہی کی کہ رہائش مختص کرنے کے قواعد اکاموڈیشن ایلوکیشن رولز 2002ء کے تحت، ایک سرکاری ملازم جو اپنے نام پر یا اپنی شریک حیات یا زیر کفالت بچوں کے نام پر، اپنی پوسٹنگ کے اسٹیشن پر مکان کا مالک ہے، اسے سرکاری رہائش کی اجازت نہیں ہوگی اور اسے گھر کی سیلف ہائرنگ کی اجازت ہوگی۔ ان قوانین میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم الاٹمنٹ کے وقت ایک حلف نامہ جمع کرائے گا کہ وہ اپنے نام یا اپنے خاندان کے کسی فرد کے نام پر مکان کا مالک نہیں اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس سرکاری ملازم کے پاس اپنے یا خاندان کے نام پر اسٹیشن کے مقام پر ملکیت میں گھر ہے تو ایسے سرکاری ملازم کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی جائے گی۔ تاہم، ذرائع نے واضح کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو سرکاری رہائش کی الاٹمنٹ کا معاملہ اکاموڈیشن ایلوکیشن رولز 2002ء کے تحت دیکھا جاتا تھا لیکن اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق، الاٹمنٹ صدارتی حکم کے تحت ہوگی اور اسی لیے ججز کے نام الاٹمنٹ کے منتظر ایسے افراد کی فہرست یعنی جنرل ویٹنگ لسٹ میں شامل نہیں کیے جائیں گے جنہوں نے سرکاری رہائش کیلئے درخواست دی تھی۔
خیال رہے کہ 8؍ ستمبر 2023ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو لکھے گئے خط میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے یکم ستمبر کے ایک حکم میں سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے ساتھ خط و کتابت شروع کریں تاکہ عدالت کو آگاہ کیا جا سکے کہ وفاقی حکومت صدارتی آرڈر کے ذریعے ججز کو رہائش کی فراہمی کے معاملے سے کیسے نمٹے گی اور عدالت میں کیٹگری ٹائپ ون کے الاٹیز کی نظرثانی شدہ فہرست جمع کرائی جائے گی جس میں ججوں کو فراہم کردہ رہائش اور دی جانے والی رہائش کی لسٹ سے ہٹ کر معلومات شامل ہوں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ججز کا نام جنرل ویٹنگ لسٹ میں شامل نہیں کیے جائیں گے اور الاٹیز کی فہرست سے ان کے نام خارج کر دیے جائیں گے۔
12 ستمبر کو رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری ہاؤسنگ کو خط لکھ کر بتایا کہ معزز ججز 1997 کے صدارتی حکم 3 کے مطابق سرکاری رہائش کے حقدار ہیں، قابل ذکر ہے کہ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی وزارت نے 6؍ گھر فراہم کر رکھے ہیں جو ججز کے پاس ہیں۔ خط میں مزید لکھا ہے کہ اس عدالت میں ججز کی منظور شدہ تعداد 10 ہے، تمام معزز ججوں کو سرکاری رہائش کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ صدارتی حکم 3 برائے 1997ء کے تحت مزید چار گھر الاٹ کیے جائیں۔ 14 ستمبر کو
سری لنکا کا پاکستان کو فتح کیلئے 345 رنز کا ہدف
ہاؤسنگ کی وزارت نے رجسٹرار کو اس یقین دہانی کے ساتھ جواب دیا کہ معزز ججوں کو چار ٹائپ ون گھر الاٹ کیے جائیں گے۔
