کیا پاکستانی حکام تحریک طالبان کو نکیل ڈال پائیں گے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان حکومت ختم ہونے کے بعد تحریک طالبان نے اپنی پاکستان مخالف دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور سکیورٹی فورسز پر بڑے حملے کیے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی نے 29 نومبر 2022 کو جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے اگلے ہی روز کوئٹہ میں ایک خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر کے یہ پیغام دیا کہ وہ ریاست پاکستان کے خلاف کھلم کھلا جنگ شروع کر چکی ہے۔ تاہم حکومت اور فوجی قیادت نے بھی تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کا عندیہ دے دیا ہے۔
اپنی تازہ تحریر میں حامد میر بتاتے ہیں کہ اسلام آباد میں ہائی الرٹ نے وفاقی دارالحکومت کی فضا میں خوف وہراس پھیلا رکھا ہے۔ جگہ جگہ ناکے لگائے جا چکے ہیں، راولپنڈی اور پشاور کی طرف سے آنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ پولیس اور خفیہ ادارے روزانہ درجنوں افراد کو حراست میں لے رہے ہیں اور کالعدم تحریک طالبان سے وابستہ عسکریت پسندوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے 23 دسمبر 2022 کو اسلام آباد پولیس پر خودکش حملہ کرنے والے بمبار کی شناخت ہو چکی ہے۔ بائیس سالہ ثاقب الدین کا تعلق کُرم ایجنسی سے تھا، اور وہ کرک سے مردان پہنچا تھا۔ اس نے رات وہاں گزاری پھر صوابی سے ایک سہولت کار کے ساتھ مسافر بس میں راولپنڈی آ گیا جہاں ایک اور سہولت کار نے اسے بارود سے بھری جیکٹ فراہم کی، اس نے راولپنڈی سے کچھ فون کالیں بھی کیں جنکا سراغ مل چکا ہے۔ راولپنڈی سے ٹیکسی میں بیٹھ کر وہ اسلام آباد کے ریڈزون کی طرف روانہ ہوا لیکن راستے میں پولیس نے روک لیا اور اس نے خود کش حملہ کر دیا، اسکے علاوہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد کی ویڈیو بنا کر دھمکی کے ساتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والا شخص بھی گرفتار کیا جا چکا ہے اور اس کا تعلق بھی ٹی ٹی پی کے ساتھ ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان کے دور حکومت میں ٹی ٹی پی نے اپنے کچھ گرفتار ساتھیوں کی رہائی کے عوض سیز فائر کا اعلان کیا تھا لیکن عمران کی فراغت کے بعد یہ سیزفائر ختم کر دیا گیا اور سکیورٹی فورسز پر بڑے حملے شروع کر دیے گئے ۔ چنانچہ قومی سلامتی کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب ٹی ٹی پی سے مزید مذاکرات نہیں کئے جائیں گے اور اس سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ یہ کوئی راز نہیں رہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد ایک بڑے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسی لئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان پر حملہ کرنے والوں کی پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں۔ اس بیان سے یہ تاثر لیا گیا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں پر بھی حملہ کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کے دور حکومت میں ٹی ٹی پی کی سرحد پار پناہ گاہوں پر فضائی حملے کئے جا چکے ہیں، اس لئے افغانستان میں طالبان حکومت کے ذمہ داروں نے خواجہ آصف کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
حامد میر کے بقول یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اگست 2021ء میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا اور طویل عرصے کے بعد پاک افغان سرحد کی سویلین آبادی ایک دوسرے کی بمباری کا نشانہ بنی۔ اس صورتحال میں پاکستان کی سیاسی قیادت اور طالبان کی قیادت کو جس بالغ نظری اور حکمت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا وہ نظر نہیں آئی۔ پہلے تو عمران نے خیبر پختونخوا میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیا اور پھر وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے عمران خان پر افغانستان سے دہشت گرد امپورٹ کرنے کا الزام لگا دیا۔ طالبان کے بعض وزراء اور ایک طالبان کمانڈر جنرل مبین خان کے بیانات سے مزید غلط فہمیاں پھیل گئیں۔ دونوں ممالک کے ذمہ داران یاد رکھیں کہ اقتدار و اختیار ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ یہ آتا جاتا رہتا ہے، اقتدار و اختیار کو نفرتیں پھیلانے کیلئے استعمال نہ کریں۔ حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام میں بہت سی غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کے مشترکہ دشمن چاہتے ہیں کہ ہم آپس میں لڑتے رہیں۔ اس لئے دونوں اطراف کے اہلِ اقتدار و اختیار احتیاط سے کام لیں۔ مشکل وقت میں اگر ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا تو کسی پر احسان نہیں کیا۔ یہ ہمارا دینی فریضہ تھا، آج افغانستان میں پاکستان کو برا کہنا ایک فیشن ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت صرف پاکستان پر تنقید کرے، حقائق سے چشم پوشی نہیں کر سکتی۔
انکا کہنا ہے کہ حال ہی میں طالبان نے پورے افغانستان میں خواتین پر یونیورسٹیوں کے دروازے بند کر دیئے ہیں، اس قدم کی اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم اوآئی سی نے بھی مذمت کردی ہے۔ 57 اسلامی ممالک ایک طرف اور طالبان دوسری طرف کھڑے ہیں، پاکستان کے وہ علماء جنہوں نے اگست 2021ء میں طالبان کو کابل فتح کرنے پر مبارکباد دی تھی، اب وہ بھی طالبان سے گزارش کر رہے ہیں کہ خواتین پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرنا خلاف اسلام ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب اور مولانا زاہد الراشدی سمیت کئی پاکستانی علماء افغان طالبان کے استادوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ سب اگر کسی فیصلے پر نظرثانی کیلئے اصرار کر رہے ہیں تو انکی رائے نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح بلاول بھٹو مت بھولیں کہ افغان باغیوں کو پاکستان میں پناہ گاہیں فراہم کرنے کا سلسلہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں شروع ہوا تھا جب برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمت یار کو آئی جی ایف سی نصیر اللہ بابر کا دست شفقت فراہم کیا گیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ دہشت گردی کرنے والوں سے کوئی رعایت نہ برتی جائے لیکن حالات کی نزاکت کو بھی سامنے رکھیئے۔ آپ ایٹمی طاقت ضرور ہیں لیکن دوسروں کو دھمکیاں دینے سے پہلے قومی سلامتی کے معاملات پر اتفاق رائے تو قائم کر لیں۔ اتفاق رائے قائم کرنا مشکل ہے تو بڑے بڑے بیانات مت دیا کریں کیونکہ ان بیانات میں جھلکتی تاریخ سے لاعلمی آپ کی مزید کمزوریوں کو بے نقاب کر دیتی ہے۔
