جنرل حمید گل سے جنرل فیض تک ISI چیفس کیا گل کھلاتے رہے

پاکستانی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جنرل حمید گل سے لے کر جنرل فیض حمید تک آئی ایس آئی کے تقریبا تمام سربراہان ہی منتخب سیاسی حکومتوں اور وزرائے اعظم کے خلاف مسلسل سازشیں کرتے رہے جن کا بنیادی مقصد فوج سے زیادہ ان کے ذاتی مفادات کا حصول ہوتا تھا۔ اپنے لامحدود اختیارات کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ایسا وقت بھی آ گیا کہ آئی ایس آئی کا سربراہ فوج کے سپہ سالار سے بھی زیادہ طاقتور سمجھا جانے لگا۔ آئی ایس آئی کے جن سربراہان کو اپنے آرمی چیف سے بھی زیادہ طاقتور خیال کیا جاتا تھا ان میں لیفٹینینٹ جنرل احمد شجاع پاشا، لیفٹینینٹ جنرل ظہیر الاسلام اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سر فہرست ہیں۔ پاشا، ظہیر اور فیض کو اپنے آرمی چیفس یعنی اشفاق کیانی، راحیل شریف اور قمر باجوہ سے بھی زیادہ طاقتور سمجھا جاتا تھا اور اسی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان تینوں کا نام سیاسی تنازعات میں آتا رہتا ہے۔ حمید گل، شجاع پاشا، ظہیر اسلام اور فیض حمید میں ایک مماثلت یہ پائی جاتی ہے کہ انہیں "پروجیکٹ عمران خان” کا معمار خیال کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں عمران کو 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے وزارت عظمی پر فائز کیا گیا۔ فیض حمید کو تو اب تک عمران خان کا چیف منصوبہ ساز خیال کیا جاتا تھا اور اسی وجہ سے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا چکے ہیں اور کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں۔

ماضی میں کچھ سابق آئی ایس آئی چیفس کو اپنے دور میں کی گئی حرکتوں پر وضاحتیں دینا پڑیں تو بعض کے خلاف پاک فوج کو خود انضباطی کارروائی کرنا پڑی۔ اس کی تازہ مثال لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید ہیں جن کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی ’خلاف ورزیوں‘ پر کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور آئی ایس آئی چیف اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایسی کارروائیاں کی جن کی بنیاد ہر انکا کورٹ مارشل لازمی تھا۔ فیض حمید 2019 سے 2021 کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورِ میں آئی ایس آئی کے سربراہ رہے تھے۔ ان کے پیشرو جنرل عاصم منیر تھے جنہیں عمران خان نے بشری بی بی کی کرپشن بارے آگاہ کرنے پر ہٹا دیا تھا۔ فیض حمید نے دسمبر 2022 میں جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے فوری بعد قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی کیونکہ وہ خود اس عہدے کے امیدوار تھے۔ فیض حمید نے عمران خان کے ساتھ مل کر جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے کی ہر سازش کی لیکن کامیاب نہ ہو پائے۔

فیض نے عمران خان کے گرفتاری کے بعد بھی فوج میں پرو عمران خان دھڑے کے افسران کے ساتھ مل کر جنرل عاصم منیر کے خلاف سازش جاری رکھی لہذا آج وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی امور کے مبصرین فیض حمید کی گرفتاری کو پاک فوج کی حالیہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے فوج اور ملک کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یاد ریے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کا باس وزیراعظم ہوتا ہے اور وہ اپنی مرضی کے کسی بھی شخص کو اس عہدے پر فائز کر سکتا ہے۔ مگر یہ اور بات ہے کہ زیادہ تر اس عہدے پر فوج کا حاضر سروس سینیئر افسر ہی تعینات کیا جاتا ہے جو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز ہوتا ہے اور اسے عموما آرمی چیف کی مرضی سے ہی تعیینات کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں آئی ایس آئی کے متعدد سربراہان کو دوران ملازمت یا پھر ملازمت کے بعد تحقیقات کا سامنا کرنا ہڑا۔ بینظیر بھٹو جب پہلی بار وزیر اعظم بنیں تو انھوں نے آرمی چیف سے بات کر کے اپنے خلاف سازش کرنے والے آئی ایس آئی چیف حمید گل کو ہٹا کر ان کی کور کمانڈر ملتان کے طور پر تعیناتی کرا دی۔ انکی جگہ جب تاریخ میں پہلی مرتبہ پہلی بار ایک ریٹائرڈ جنرل شمس الرحمان کلو کو ایجنسی کا سربراہ تعینات کیا گیا تو تب کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے ’ایم آئی‘ یعنی ملٹری انٹیلیجنس پر انحصار بڑھا دیا اور یوں آئی ایس آئی بھی وزیراعظم کو زیادہ اور بروقت معلومات دینے سے قاصر رہی۔ دراصل مرزا اسلم بیگ کو بے نظیر بھٹو کا یہ فیصلہ پسند نہیں ایا تھا لہذا انہوں نے وزیراعظم کے خلاف سازش شروع کر دی۔ بعد ازاں فوج میں یہ روایت مضبوط ہو گئی کہ اس عہدے پر وہی تعینات ہو گا جو حاضر سروس جرنیل ہو۔ یوں آئی ایس آئی کا عملاً کنٹرول وزیر اعظم کے دفتر کی بجائے فوج کے پاس ہی رہتا ہے اور وہ وزیر اعظم کی بجائے آرمی چیف کے لیے کان اور انکھ کا کام کرتا ہے۔ فیض حمید کی مثال اس لیے مختلف ہے کہ وہ خود آرمی چیف بننا چاہتے تھے لہذا انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ آئیڈیل تعلقات بنا کر رکھے۔

آئی ایس آئی چیفس پر سیاسی مداخلت کہ الزامات کا جائزہ لیا جائے تو عمران خان کو سیاست میں لانے والے جنرل حمید گل کے بعد جنرل اسد درانی کا نام آتا ہے۔ اسد درانی کو 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو ہرانے کے لیے آئی جے آئی سے وابستہ سیاستدانوں میں کروڑوں روپے تقسیم کرنے کے الزامات کا سامنا رہا۔ موصوف اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ میں پیشیاں بھگتتے رہے اور پھر عدالت کے سامنے مہران بینک سکینڈل میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں ایسا کرنے پر انکے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے مجبور کیا۔ سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کے اپنے فیصلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اس معاملے میں مزید تفتیش کرنے اور اس سکینڈل میں ملوث فوجی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دے کر کیس نمٹا دیا تھا۔

مصنف شجاع نواز کے مطابق فوجی آمر ضیاالحق کی موت کے بعد پنجاب میں بینظیر بھٹو کو ’ہرانے کے لیے‘ ڈی جی آئی ایس آئی حمید گل نے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے ساتھ مل کر اپوزیشن جماعتوں کا ایک اتحاد ’آئی جے آئی‘ کے نام سے قائم کیا۔
جب اسد درانی ڈی جی آئی ایس آئی بنے تو ان کے ذریعے اس اتحاد میں شامل جماعتوں میں ’پیسے تقسیم کروائے گئے‘ جس کا حلف نامہ اسد درانی نے سپریم کورٹ میں دیا تھا۔ لیکن افسوس کہ اسلم بیگ اور اسد درانی دونوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کی جا سکی۔اسد درانی کو ایک مرتبہ پھر تب جی ایچ کیو کے چکر لگانا پڑے اور کورٹ مارشل کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھی۔ تاہم انہیں نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی قید کی سزا دی گئی حالانکہ وزارت دفاع نے ان پر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے جیسے الزامات عائد کیے تھے۔

اکتوبر 1999 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف جنرل مشرف کی جانب سے فوجی بغاوت ہوئی اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیاالدین بٹ کو گرفتار کر کیا گیا جنھیں نواز شریف نے مشرف کی جگہ آرمی چیف تعینات کیا تھا۔ فوجی بغاوت سے قبل ضیاالدین بٹ نے ایک سال تک ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر فرائض سرانجام دیے تھے۔ کہا جاتا یے کہ ’ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر تعیناتی کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ضیاالدین فوجی حلقوں میں ایک ایسے جنرل کے طورپر مشہور ہو گئے تھے جن کا نوازشریف سے خون کا رشتہ تھا۔‘ پرویز مشرف کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کے مطابق جنرل ضیا الدین نے وزیر اعظم ہاﺅس کی دہلیز پر اصرار کیا کہ وہ نئے چیف آف آرمی سٹاف ہیں اور ٹرپل وَن بریگیڈ کے دستوں کو ان کی کمانڈ میں ان کے حکم کو ماننا ہو گا۔ تاہم ’کرنل شاہد علی نے ان کی بات سننے سے انکار کر دیا۔ بعدازاں ان کی حفاظت پر مامور ایس ایس جی کمانڈوز نے ہتھیار ڈال دیے جس کے بعد زبردستی ان سے ’سرنڈر‘ کرایا گیا۔‘

پاکستانی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین ائی ایس ائی سربراہان میں ایک نام لیفٹننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کا بھی ہے جنہوں نے 2008 کے الیکشن کے بعد بننے والی پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سازش کی اور فوج کے کمانڈر ان چیف یعنی صدر آصف زرداری کو میمو گیٹ سکینڈل میں پھنسانے کی کوشش کی تاکہ اپنے عہدے میں مزید توسیع لے سکیں۔ احمد شجاع پاشا پر ایک سینیئر صحافی سید سلیم شہزاد کے قتل کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

حالیہ تاریخ میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ظہیر الاسلام 2014 میں عمران خان کی تحریک انصاف اور طاہر القادری کی جماعت کے دھرنوں کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئے اور یہ الزام لگایا گیا کہ یہ دھرنے وہ عمران خان کو اقتدار میں لانے اور نواز شریف کو نکالنے کے لیے کروا رہے ہیں۔ اسی لیے ان کی ریٹائرمنٹ سے دو ماہ قبل ہی ان کے جانشین کے نام کا اعلان کر دیا گیا تھا تاکہ وہ مزید کوئی "یکی” نہ کر سکیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ کے ایک اہم رکن اور انکے قریبی ساتھی اسحاق ڈار نے اگست 2015 کو بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے ایک ’سازش تیار کی تھی‘ جس کے ذریعے وہ فوجی اور سول قیادت کو ہٹا کر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ بعد ازاں نواز شریف نے بھی ایک پریس کانفرنس میں ظہیر الاسلام پر یہی الزامات دہرائے اور کہا کہ انھیں استعفی دینے یا پھر طویل رخصت پر جانے کا پیغام دیا گیا تھا۔ ظہیر الاسلام پر اپریل 2014 میں کراچی میں حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی سازش تیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے متنازع ترین آئی ایس آئی سربراہان میں اخری نام جنرل فیض حمید کا اتا ہے جنہیں اس وقت کوٹ مارشل کا سامنا ہے۔ لیکن کچھ تجزیہ کاروں کے خیال میں جنرل فیض حمید کا معاملہ باقی آئی ایس آئی سربراہان سے قدرے مختلف ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے معروف مصنفہ عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ ’فیض حمید کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایک حاضر سروس فوجی سربراہ کے خلاف افسران اور اہلکاروں کو اُکسانے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔‘ ان کے مطابق اس وقت فیض حمید کا معاملہ بظاہر ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد کے معاملات سے متعلق ہے اور ’آئی ایس آئی کے دیگر سربراہان سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘
انکا کہنا تھس کہ فیض حمید کے خلاف کارروائی میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں زیادہ زور ان کی ’ریٹائرمنٹ کے بعد کی سرگرمیوں‘ پر دیا گیا ہے، یعنی دوران ملازمت انھوں نے جو کیا اس کے لیے بظاہر یہ محاسبہ نہیں ہو رہا ہے کیونکہ جو ہاؤسنگ سوسائٹی والا معاملہ ہے یہ سات سال پرانا کیس ہے جس پر اگر فوج میں واقعی مؤثر احتساب کا عمل ہوتا تو پھر تب ہی ان کا احتساب ہو جاتا۔ اسی لیے یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بالاخر فیض حمید کو 9 مئی کی سازش تیار کرنے کے الزام کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اور وہ اس سکسلے میں عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بھی بن سکتے ہیں۔

Back to top button