کیا مودی حکومت حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کر دے گی؟

سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا اور ان کی حمایتی جماعتوں کی جانب سے انڈیا میں پناہ گزین شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کا مطالبہ تو کیا جا رہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مودی حکومت ایسا کرے گی یا نہیں؟ یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اپنے ہی لگائے ہوئے آرمی چیف کی جانب سے الٹی میٹم ملنے کے بعد استعفی دے کر بھارت روانہ ہو گئی تھیں اور ابھی تک وہیں پر مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش کی نئی حکومت انکی حوالگی کا باقاعدہ مطالبہ کرنے سے پہلے ان کے خلاف درج مقدمات کا جائزہ لے رہی ہے لیکن اس دوران شیخ حسینہ کی سیاسی مخالف خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور ان کی چھوٹی اتحادی جماعتوں نے مطالبہ کیا یے کہ وہ شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے۔

تاہم دہلی میں مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے خلاف مقدمات درج ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان حوالگی کے معاہدے کے تحت انھیں واپس بھیجنے کے امکانات کم ہیں کیونکہ موجودہ قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔
اس سوال پر کہ بنگلہ دیش کی جانب سے شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست آئی تو انڈیا کیا کرے گا، وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ یہ مفروضے پر مبنی سوال ہے اور کسی فرضی سوال کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔
لیکن فی الحال اس سوال کا جواب دینے سے گریز کرنے کے باوجود، انڈین حکام نے اس امکان کو رد نہیں کیا ہے کہ جلد یا بدیر ایسی درخواست ڈھاکہ سے آ سکتی ہے۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی اعلیٰ قیادت نے بھی عندیہ دیا ہے کہ یہ معاملہ زیادہ دیر تک ’فرضی‘ نہیں رہے گا۔

بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر ایم توحید نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’وزارت داخلہ اور وزارتِ قانون شیخ حسینہ کے خلاف درج مقدمات کی بنیاد پر فیصلہ کریں گی کہ آیا انڈیا سے ان کی حوالگی کی درخواست کی جائے گی یا نہیں اور درخواست کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان حوالگی کے معاہدے کے تحت انھیں بنگلہ دیش کے حوالے کرنا ضروری ہو گا۔ لیکن
حقیقت یہ ہے کہ ڈھاکہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ اس معاہدے کے تحت حوالگی کی درخواست کے باوجود شیخ حسینہ کو واپس لانا آسان نہیں ہو گا۔ شیخ حسینہ گذشتہ 50 برس سے انڈیا کے قابل اعتماد اور وفادار دوستوں میں سے ایک ہیں اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انڈیا انھیں عدالتی عمل کا سامنا کرنے کے لیے بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کرے گا جہاں انھیں سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے اس معاہدے میں کئی ایسی شرائط یا دفعات ہیں، جن کی بنیاد پر انڈیا شیخ حسینہ کی حوالگی سے انکار کر سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ درخواست کو قانونی پیچیدگیوں کی بنیاد بنا کر طویل عرصے تک زیر التوا بھی رکھا جا سکتا ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم شق میں کہا گیا ہے کہ جس شخص کی حوالگی کی جائے گی اس کے خلاف الزامات اگر سیاسی نوعیت کے ہوں تو درخواست کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی جرم ‘سیاسی تعلق’ ہے تو ایسے معاملات میں حوالگی سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جن جرائم کو سیاسی نہیں کہا جائے گا ان کی فہرست بھی کافی طویل ہے اور ان میں قتل، اغوا، بم دھماکے اور دہشت گردی جیسے جرائم شامل ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے خلاف اب تک جو مقدمات درج کیے گئے ہیں ان میں قتل اور اجتماعی قتل کے مقدمات شامل ہیں اور اس کے علاوہ اغوا اور تشدد کے مختلف الزامات بھی ہیں نتیجتاً پہلی نظر میں انھیں سیاسی قرار دے کر مسترد کرنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ سنہ 2016 میں اصل معاہدے میں ترمیم کر کے ایک شق کا اضافہ کیا گیا جس سے منتقلی کا عمل بہت آسان ہو گیا۔ اس تبدیلی کا مقصد مفرور افراد کو جلد اور آسانی سے حوالے کرنا تھا۔ترمیم شدہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ملزم کی حوالگی کی درخواست کرتے وقت، متعلقہ ملک کو ان الزامات کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور صرف متعلقہ عدالت سے وارنٹ گرفتاری پیش کرنے کو ایک درست درخواست تصور کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عدالت بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے خلاف کسی بھی مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے، تو بنگلہ دیشی حکومت صرف اسی بنیاد پر انڈیا سے ان کی حوالگی کی درخواست کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود معاہدے میں ایسی کئی شقیں موجود ہیں جن کی مدد سے متعلقہ ملک کو حوالگی کی درخواست مسترد کرنے کا حق حاصل ہے۔ مثال کے طور پر، اگر اس شخص کے خلاف اس ملک میں کوئی مقدمہ زیر التوا ہے جس سے حوالگی کی درخواست کی گئی ہے، تو اس مقدمے کی بنیاد پر درخواست کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم شیخ حسینہ کے معاملے میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو ان کے خلاف انڈیا میں کوئی مقدمہ زیر التوا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان ہے۔

Back to top button