مہنگی الیکٹرک کاریں بنانے والی 2 چینی کمپنیوں کی پاکستان میں اینٹری

چین کی دو آٹو موبائل کمپنیوں نے پاکستان میں اپنی مکمل تیار شدہ الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے اور انکے پلانٹ لگانے کا اعلان تو کر دیا یے لیکن ان کاروں کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ انہیں انتہائی امیر ترین طبقہ ہی خرید پائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ بی وائی ڈی اور چنگان دونوں چینی کمپنیوں کی الیکٹرک کاروں کی قیمت کروڑوں میں ہے۔ ایسے میں آٹو موبائل ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سستی الیکٹرک گاڑیاں بنانے کی منصوبہ سازی کرنی چاہیے تاکہ وہ ٹویوٹا کرولا اور ہونڈا جیسی کمپنیوں کو ٹکر دے سکیں۔
پاکستان میں کار پروڈکشن پلانٹ لگانے کا اعلان کرنے والی بی وائی ڈی یعنی Buy Your Dream نامی
کمپنی عالمی شہرت رکھتی ہے جو لگژری گاڑیاں بنانے والی امریکی موبائل کمپنی بی ایم ڈبلیو کو ٹکر دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ یورپ اور امریکہ میں پہلے ہی اپنی کافی پہچان بنا چکی ہے۔ پاکستان میں اپنی گاڑی متعارف کروانے والی دوسری چینی آٹو موبائل کمپنی ‘چنگان’ ہے جو پہلے ہی پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل انجن کی گاڑیاں تیار کر رہی ہے۔
بی وائی ڈی کمپنی نے پاکستان میں میگا موٹرز کے ساتھ مل کر ملک میں اپنی پہلی تین گاڑیاں متعارف کرائی ہیں۔ اپنی کار کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ایک بار مکمل چارچنگ کے بعد 11 سو کلو میٹر تک چلائی جا سکتی ہے۔ سن 1995 میں اپنے سفر کا آغاز کرنے والی بی وائی ڈی اس وقت دنیا بھر کے چھ برِاعظموں کے 91 ممالک میں گاڑیاں فروخت کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے 20 سال قبل بجلی سے تیار ہونے والی گاڑیوں کے میدان میں کام شروع کیا تھا۔ اس وقت کمپنی میں سات لاکھ سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور اب اس کمپنی نے کراچی میں اپنا پروڈکشن پلانٹ لگانے کا بھی اعلان کیا ہے جو سال 2026 تک اپنی پروڈکشن شروع کر سکتا ہے۔ کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صارفین کو بہترین اور جدید گاڑیاں میسر آسکیں گی۔
دوسری جانب چین ہی کی ایک اور آٹو موبائل کمپنی ماسٹر چنگان نے ‘دیپال’ کے نام سے اپنی الیکٹرک وہیکلز پاکستان میں متعارف کرائی ہیں جو سپورٹس لگژری سیڈان اور ایس یو وی ماڈل پر مشتمل ہیں۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی سیڈان کار ایک بار چارجنگ فل کرنے کے بعد 540 کلو میٹر جب کہ ایس یو وی 485 کلومیٹر تک چلنے کے قابل ہے۔ ماسٹر چنگان کے سی ای او دانیال ملک کا کہنا ہے کہ ملک میں دو ہزار سے زائد بجلی سے چلنے والی گاڑیاں اس وقت موجود ہیں لیکن اس کے باوجود اس حوالے سے چیلنجز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا چیلنج یہ ہے کہ ملک میں ایسی الیکٹرک کاریں متعارف کرائی جائیں جن کی قیمت مناسب ہو۔ اس لیے ان کی کمپنی نے کوشش کی ہے کہ ایسی گاڑیاں مارکیٹ میں لائی جائیں جن کی قیمت پرانی جنریشن کی گاڑیوں اور ہائی برڈ ماڈل سے کسی حد تک موازنے پر ہوں۔ ان کے بقول دوسرا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کی بیٹری لائف ایسی ہوکہ وہ لمبی ڈرائیو کے قابل ہوں۔ اس لیے چنگان موٹرز کی ایس یو وی کار لاہور سے اسلام آباد کا سفر سنگل چارج پر مکمل کرسکتی ہے یا شہر کے اندر بھی ایک ہفتے تک بغیر کسی چارجنگ کے یہ گاڑی چلائی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسرا بڑا چیلنج ایسے نیٹ ورک کا قیام کا ہے جس کے ذریعے ملک میں ان کی آفٹر سیل سپورٹ موجود ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے چنگان موٹرز نے گاڑیوں کے مالکان کو آٹھ سال یا دو لاکھ 40 ہزار کلو میٹر تک کی وارنٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں چوتھا چیلنج چارجنگ کا انفراسٹرکچر قائم کرنے کا ہے۔ اس وقت ملک کے پانچ شہروں میں یہ سہولت موجود ہے جسے بڑھا کر 17 شہروں میں یہ سہولت قائم کی جارہی ہے جن میں 23 چارجنگ پوائنٹس ہوں گے۔
یاد رہے کہ اس وقت دیپال کے ایس یو وی ماڈل کی قیمت ایک کروڑ 65 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے جب کہ سیڈان ماڈل کی ایکس فیکٹری قیمت ایک کروڑ 55 لاکھ روپے ہے۔
دوسری جانب بی وائی ڈی کمپنی کی جانب سے اب تک قیمتوں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن اندازہ یہی ہے کہ اس کی قیمت کروڑوں میں ہوگی۔
آٹو موبائل شعبہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان چینی الیکٹرک کار کمپنیوں کی پاکستان میں اینٹری سے فائدہ اٹھا کر دنیا میں لیفٹ ہینڈ ٹریفک سسٹم کے مطابق چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں کا مرکز بن سکتا ہے۔ لیفٹ ہینڈ ٹریفک سسٹم میں عموماً ڈرائیور سیدھے ہاتھ پر ہوتا ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ڈرائیور رائٹ سائڈ پر موجود ہوتا ہے۔ تجزیہ کار پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کی آمد کا خیر مقدم تو کر رہے ہیں لیکن وہ یہاں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں توسیع کی گنجائش نہیں دیکھتے۔ پاکستان کے معروف آٹو ایکسپرٹ مشہور علی خان نے دو نئی چینی کار ساز کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا یے کہ پاکستان میں الیکٹرک کاروں کی آمد سے سے اس شعبے میں نئی ٹیکنالوجی آنے کے ساتھ ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے لیکن الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں اس وقت اتنی زیادہ ہیں کہ یہ ملک کے انتہائی امیر ترین طبقے تک ہی محدود رہیں گی۔ مشہود خان نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان میں ایک اور بڑا مسئلہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر کا بھی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں آ بھی جائیں تو انہیں چارج کرنے کے لیے بہت ہی کم الیکٹرک سٹیشنز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی وائی ڈی کا پاکستان میں بجلی کی گاڑیاں تیار کرنا اس لیے اہم ہے کہ یہاں کم لاگت میں گاڑیاں تیار کرکے کمپنی اسے دنیا کے ان 60 ممالک میں فروخت کر سکتی ہے جہاں لیفٹ ہینڈ ٹریفک سسٹم کے مطابق ڈرائیونگ ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل چین نے بعض قسم کی گاڑیوں کی تیاری کے لیے تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ویت نام کو مرکز بنایا تھا اور اب بجلی سے تیار شدہ گاڑیوں کا مرکز پاکستان بھی بن سکتا ہے۔ یہاں تیار کی جانے والی گاڑیاں برآمد کر کے پاکستان کو کثیر غیر ملکی زرِ مبادلہ مل سکتا ہے۔
جب مشہود سے پوچھا گیا کہ اس وقت پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا لہازا ایسے میں بی وائی ڈی کمپنی کا پاکستان الیکٹرک گاڑی متعارف کروانے کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے؟ جواب میں مشہود علی خان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان کے معاشی حالات کو دیکھ کر یہاں سرمایہ کاری کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن یہ ایک بڑی کمپنی ہے اور اس کے خیال میں پاکستان کے معاشی مسائل چند سال میں کم ہوجائیں گے اور یہاں صورتِ حال بہتری کی جانب گامزن ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسائل حل کر دیے جائیں تو الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری میں پاکستانی صارف بھی دلچسپی لے سکتے ہیں۔
آٹو ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ اگر حکومت اہم پالیسی مسائل کو حل کرتی ہے تو الیکٹرک کاریں صارفین کے لیے زیادہ قابل رسائی بن سکتی ہیں۔ اس کے لیے تمام الیکٹرک گاڑیوں کے مینوفیکچررز کو مراعات کی پیشکش، ایسی گاڑیوں کے لیے فنانسنگ کی سہولت اور ان کی درآمد پر ٹیکسز کو کم کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے پاکستان کا ایندھن کا درآمدی بل کم ہو سکتا ہے جو اس وقت 15 ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب اس سے ماحول دوست گاڑیوں کی تعداد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کے لیے 30 سے زائد لائسنسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ لیکن یہ تمام ہی موٹر سائیکل اور رکشہ کی تیاریوں کے لیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حکومتی اقدامات، ماحولیاتی خدشات، مارکیٹ میں موجود صلاحیت، مقامی مینوفیکچرنگ کی امید، لاگت کی بچت اور صارفین کا اس جانب بڑھتے ہوئے رحجان کے باعث ملک میں اس کا دائرہ کار بتدریج پھیل رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے نزدیک الیکٹرک گاڑیوں کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے چینلجز میں سرمایہ کاری کی کمی، سڑکوں کا خراب انفراسٹرکچر، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، روپے کی قدر میں کمی، چارجنگ کا محدود انفراسٹرکچر جیسے مسائل شامل ہیں۔
چین کی دو آٹو موبائل کمپنیوں نے پاکستان میں اپنی مکمل تیار شدہ الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے اور انکے پلانٹ لگانے کا اعلان تو کر دیا یے لیکن ان کاروں کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ انہیں انتہائی امیر ترین طبقہ ہی خرید پائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ بی وائی ڈی اور چنگان دونوں چینی کمپنیوں کی الیکٹرک کاروں کی قیمت کروڑوں میں ہے۔ ایسے میں آٹو موبائل ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سستی الیکٹرک گاڑیاں بنانے کی منصوبہ سازی کرنی چاہیے تاکہ وہ ٹویوٹا کرولا اور ہونڈا جیسی کمپنیوں کو ٹکر دے سکیں۔
پاکستان میں کار پروڈکشن پلانٹ لگانے کا اعلان کرنے والی بی وائی ڈی یعنی Buy Your Dream نامی
کمپنی عالمی شہرت رکھتی ہے جو لگژری گاڑیاں بنانے والی امریکی موبائل کمپنی بی ایم ڈبلیو کو ٹکر دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ یورپ اور امریکہ میں پہلے ہی اپنی کافی پہچان بنا چکی ہے۔ پاکستان میں اپنی گاڑی متعارف کروانے والی دوسری چینی آٹو موبائل کمپنی ‘چنگان’ ہے جو پہلے ہی پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل انجن کی گاڑیاں تیار کر رہی ہے۔
بی وائی ڈی کمپنی نے پاکستان میں میگا موٹرز کے ساتھ مل کر ملک میں اپنی پہلی تین گاڑیاں متعارف کرائی ہیں۔ اپنی کار کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ایک بار مکمل چارچنگ کے بعد 11 سو کلو میٹر تک چلائی جا سکتی ہے۔ سن 1995 میں اپنے سفر کا آغاز کرنے والی بی وائی ڈی اس وقت دنیا بھر کے چھ برِاعظموں کے 91 ممالک میں گاڑیاں فروخت کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے 20 سال قبل بجلی سے تیار ہونے والی گاڑیوں کے میدان میں کام شروع کیا تھا۔ اس وقت کمپنی میں سات لاکھ سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور اب اس کمپنی نے کراچی میں اپنا پروڈکشن پلانٹ لگانے کا بھی اعلان کیا ہے جو سال 2026 تک اپنی پروڈکشن شروع کر سکتا ہے۔ کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صارفین کو بہترین اور جدید گاڑیاں میسر آسکیں گی۔
دوسری جانب چین ہی کی ایک اور آٹو موبائل کمپنی ماسٹر چنگان نے ‘دیپال’ کے نام سے اپنی الیکٹرک وہیکلز پاکستان میں متعارف کرائی ہیں جو سپورٹس لگژری سیڈان اور ایس یو وی ماڈل پر مشتمل ہیں۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی سیڈان کار ایک بار چارجنگ فل کرنے کے بعد 540 کلو میٹر جب کہ ایس یو وی 485 کلومیٹر تک چلنے کے قابل ہے۔ ماسٹر چنگان کے سی ای او دانیال ملک کا کہنا ہے کہ ملک میں دو ہزار سے زائد بجلی سے چلنے والی گاڑیاں اس وقت موجود ہیں لیکن اس کے باوجود اس حوالے سے چیلنجز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا چیلنج یہ ہے کہ ملک میں ایسی الیکٹرک کاریں متعارف کرائی جائیں جن کی قیمت مناسب ہو۔ اس لیے ان کی کمپنی نے کوشش کی ہے کہ ایسی گاڑیاں مارکیٹ میں لائی جائیں جن کی قیمت پرانی جنریشن کی گاڑیوں اور ہائی برڈ ماڈل سے کسی حد تک موازنے پر ہوں۔ ان کے بقول دوسرا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کی بیٹری لائف ایسی ہوکہ وہ لمبی ڈرائیو کے قابل ہوں۔ اس لیے چنگان موٹرز کی ایس یو وی کار لاہور سے اسلام آباد کا سفر سنگل چارج پر مکمل کرسکتی ہے یا شہر کے اندر بھی ایک ہفتے تک بغیر کسی چارجنگ کے یہ گاڑی چلائی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسرا بڑا چیلنج ایسے نیٹ ورک کا قیام کا ہے جس کے ذریعے ملک میں ان کی آفٹر سیل سپورٹ موجود ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے چنگان موٹرز نے گاڑیوں کے مالکان کو آٹھ سال یا دو لاکھ 40 ہزار کلو میٹر تک کی وارنٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں چوتھا چیلنج چارجنگ کا انفراسٹرکچر قائم کرنے کا ہے۔ اس وقت ملک کے پانچ شہروں میں یہ سہولت موجود ہے جسے بڑھا کر 17 شہروں میں یہ سہولت قائم کی جارہی ہے جن میں 23 چارجنگ پوائنٹس ہوں گے۔
یاد رہے کہ اس وقت دیپال کے ایس یو وی ماڈل کی قیمت ایک کروڑ 65 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے جب کہ سیڈان ماڈل کی ایکس فیکٹری قیمت ایک کروڑ 55 لاکھ روپے ہے۔
دوسری جانب بی وائی ڈی کمپنی کی جانب سے اب تک قیمتوں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن اندازہ یہی ہے کہ اس کی قیمت کروڑوں میں ہوگی۔
آٹو موبائل شعبہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان چینی الیکٹرک کار کمپنیوں کی پاکستان میں اینٹری سے فائدہ اٹھا کر دنیا میں لیفٹ ہینڈ ٹریفک سسٹم کے مطابق چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں کا مرکز بن سکتا ہے۔ لیفٹ ہینڈ ٹریفک سسٹم میں عموماً ڈرائیور سیدھے ہاتھ پر ہوتا ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ڈرائیور رائٹ سائڈ پر موجود ہوتا ہے۔ تجزیہ کار پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کی آمد کا خیر مقدم تو کر رہے ہیں لیکن وہ یہاں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں توسیع کی گنجائش نہیں دیکھتے۔ پاکستان کے معروف آٹو ایکسپرٹ مشہور علی خان نے دو نئی چینی کار ساز کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا یے کہ پاکستان میں الیکٹرک کاروں کی آمد سے سے اس شعبے میں نئی ٹیکنالوجی آنے کے ساتھ ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے لیکن الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں اس وقت اتنی زیادہ ہیں کہ یہ ملک کے انتہائی امیر ترین طبقے تک ہی محدود رہیں گی۔ مشہود خان نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان میں ایک اور بڑا مسئلہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر کا بھی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں آ بھی جائیں تو انہیں چارج کرنے کے لیے بہت ہی کم الیکٹرک سٹیشنز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی وائی ڈی کا پاکستان میں بجلی کی گاڑیاں تیار کرنا اس لیے اہم ہے کہ یہاں کم لاگت میں گاڑیاں تیار کرکے کمپنی اسے دنیا کے ان 60 ممالک میں فروخت کر سکتی ہے جہاں لیفٹ ہینڈ ٹریفک سسٹم کے مطابق ڈرائیونگ ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل چین نے بعض قسم کی گاڑیوں کی تیاری کے لیے تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ویت نام کو مرکز بنایا تھا اور اب بجلی سے تیار شدہ گاڑیوں کا مرکز پاکستان بھی بن سکتا ہے۔ یہاں تیار کی جانے والی گاڑیاں برآمد کر کے پاکستان کو کثیر غیر ملکی زرِ مبادلہ مل سکتا ہے۔
جب مشہود سے پوچھا گیا کہ اس وقت پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا لہازا ایسے میں بی وائی ڈی کمپنی کا پاکستان الیکٹرک گاڑی متعارف کروانے کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے؟ جواب میں مشہود علی خان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان کے معاشی حالات کو دیکھ کر یہاں سرمایہ کاری کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن یہ ایک بڑی کمپنی ہے اور اس کے خیال میں پاکستان کے معاشی مسائل چند سال میں کم ہوجائیں گے اور یہاں صورتِ حال بہتری کی جانب گامزن ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسائل حل کر دیے جائیں تو الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری میں پاکستانی صارف بھی دلچسپی لے سکتے ہیں۔
آٹو ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ اگر حکومت اہم پالیسی مسائل کو حل کرتی ہے تو الیکٹرک کاریں صارفین کے لیے زیادہ قابل رسائی بن سکتی ہیں۔ اس کے لیے تمام الیکٹرک گاڑیوں کے مینوفیکچررز کو مراعات کی پیشکش، ایسی گاڑیوں کے لیے فنانسنگ کی سہولت اور ان کی درآمد پر ٹیکسز کو کم کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے پاکستان کا ایندھن کا درآمدی بل کم ہو سکتا ہے جو اس وقت 15 ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب اس سے ماحول دوست گاڑیوں کی تعداد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کے لیے 30 سے زائد لائسنسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ لیکن یہ تمام ہی موٹر سائیکل اور رکشہ کی تیاریوں کے لیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حکومتی اقدامات، ماحولیاتی خدشات، مارکیٹ میں موجود صلاحیت، مقامی مینوفیکچرنگ کی امید، لاگت کی بچت اور صارفین کا اس جانب بڑھتے ہوئے رحجان کے باعث ملک میں اس کا دائرہ کار بتدریج پھیل رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے نزدیک الیکٹرک گاڑیوں کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے چینلجز میں سرمایہ کاری کی کمی، سڑکوں کا خراب انفراسٹرکچر، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، روپے کی قدر میں کمی، چارجنگ کا محدود انفراسٹرکچر جیسے مسائل شامل ہیں۔
