کیا اب مولانا ڈیزل حکومت کیخلاف عمران کا ساتھ دیں گے؟

شہباز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے گھاس نہ ڈالنے پرماضی قریب میں ایک دوسرے کو برے برے القابات اور الزامات سے نوازنے والے مولانا فضل الرحمان اور عمران خان شہباز حکومت کی نفرت میں ایک بار پھر شیر و  شکر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ جیل سے باہر موجود پی ٹی آئی قیادت اور مولانا نے ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے ملکر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یوآئی کے ماضی کے اختلافات اور بیانات کو سامنے رکھیں تو مولانا ڈیزل اور اڈیالہ کے عمرانڈوکا سچے پریمی بننا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔

خیال رہےکہ پاکستان میں انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف اور دیگر چھ جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد نے ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے نام سے تحریک شروع کر رکھی ہے جبکہ پی ٹی آئی اس کے علاوہ بھی ایک نیا اپوزیشن اتحاد بنانے کیلئے کوشاں ہے دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام پاکستان فضل الرحمان نے بھی احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔اگرچہ دونوں تحریکوں کا مقصد بظاہر انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاج ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے درمیان باہمی اختلافات اور سیاسی بیان بازیوں کی وجہ سے دونوں جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہو پائی ہیں۔

تاہم اگر جمیعت علمائے اسلام اور تحریک انصاف ہاتھ ملاتی ہیں اور دونوں جماعتوں کی حکومت مخالف جاری الگ الگ احتجاجی تحریک ایک ہو جاتی ہے تو یقینا یہ پاکستان میں ایک بڑی احتجاجی تحریک کا روپ دھار لے گی۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہوگا کہ جمیعت علماء اسلام اور تحریک انصاف ایک سٹیج پر مشترکہ احتجاجی تحریک چلا رہے ہوں گے۔اس سے قبل پرویز مشرف دور میں امریکہ مخالف احتجاج اور عدلیہ بحالی تحریک کے دوران مولانا فضل الرحمان اور عمران خان سٹیج شیئر کر چکے ہیں۔

بشری بی بی اور علیمہ خان میں  PTI پر قبضے کی جنگ بے نقاب

دوسری جانب مبصرین کے مطابق اس وقت عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر ہیں اور خیبر پختونخوا میں انہیں مولانا فضل الرحمان سے اب کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔ ’اب ان کی جماعت کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس قیادت کا فقدان ہے۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان اس وقت مقتدر حلقوں پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس لیے اب تحریک انصاف مولانا فضل الرحمان کی قیادت جب کہ فضل الرحمان تحریک انصاف کی مقبولیت کو اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ ان کی سیاست کی لغت میں تمام فیصلے فعل حال کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر مولانا فضل الرحمان نو اگست 2023 کو اقتدار سے نکلنے کے بعد نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے خلاف ہو سکتے ہیں تو اس وقت وہ مقتدر حلقوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے عمران خان کے ساتھ اتحادی بھی بن سکتے ہیں۔’اس لیے غالب امکان ہے کہ مستقبل قریب میں حکومت مخالف احتجاجی تحریکیں ایک ہو جائیں۔‘

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اس بات کا دکھ ہے کہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو تو ان کا حصہ دیا گیا ہے تاہم جمیعت علماء اسلام کو ان کے جائز حصے سے بھی محروم کر دیا گیا ہے اس لیے وہ نون لیگ، پیپلز پارٹی اور مقتدر حلقوں سے برابر نالاں ہیں۔’مولانا کا شکوہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں ان کی جماعت اور ان کے اپنے صاحبزادے بھی شامل تھے اور یہ مشکل وقت تھا جب لوگوں نے حکمران اتحاد کو صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا اور پی ڈی ایم کے سربراہ بھی مولانا فضل الرحمان تھے۔ مشکل وقت میں ساتھ دینے کی وجہ سے ان کا خیال تھا کہ جس طرح نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو عام انتخابات میں حصہ ملا ہے انہیں بھی حصہ ملے گا لیکن صورتحال اس کے برعکس سامنے آئی۔ ‘

مبصرین کے مطابق اگرچہ مقتدر حلقوں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے مایوس ہونے کے بعد ہی مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کا آپشن استعمال کرنے پر غور تو شروع کر دیا ہے۔’تاہم دونوں جماعتوں کے گزشتہ ایک دہائی کے تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی اتحاد ہو سکے گا یا نہیں اس بارے میں کوئی بھی پیشگوئی کرناممکن نہیں کیونکہ دونوں کے درمیان نفرت کی حد تک مخالفت رہی ہے۔‘ تاہم اگر یہ اتحاد ہوتا ہے تو ملکی سیاسی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ نقصان مولانا کا ہی ہوگا کیونکہ انھوں نے تحریک  انصاف کے خلاف بہت زیادہ مذہبی کارڈ کا استعمال کیا تھا اور مولانا عمران خان کو ریاست دشمن فتنہ قرار دیتے رہے ہیں۔

Back to top button