پنجاب کے انتظامی معاملات پر حمزہ شہباز کی گرفت مضبوط

بالآخر پنجاب میں گورنر کی تعیناتی اور صوبائی کابینہ کے اعلان سے صوبے میں جاری سیاسی کشمکش میں ٹھہراؤ آنے لگا ہے جس سے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی پوزیشن بھی مضبوط ہو گئی ہے۔ تاہم یہ پیش رفت عمران خان کیلئے ایک بری خبر ہے کیونکہ وہ دوبارہ سے لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن اب وفاق کے ساتھ ساتھ حمزہ شہباز کی پنجاب حکومت بھی پوری طاقت سے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرے گی۔

خیال رہے کہ پنجاب پچھلے کئی ماہ سے سیاسی اور انتظامی غیریقینی کا شکار رہا ہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ صوبے میں نئے گورنر کی تعیناتی اور صوبائی کابینہ کی حلف برداری کے بعد صورتِ حال میں تبدیلی آنا شروع ہوگی۔ بلیغ الرحمٰن کے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے مرحلے میں پنجاب کی آٹھ رکنی کابینہ نے بھی حلف اٹھا لیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں دیگر ارکانِ اسمبلی کی کابینہ میں شمولیت کا امکان ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ چودھری پرویزالٰہی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں حمزہ شہباز شریف کے بطور وزیراعلیٰ الیکشن کے خلاف دائر کردہ درخواست پر بھی کوئی مثبت فیصلہ آنے کا امکان نہیں۔ خیال رہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران حمزہ شہباز نے 197 ووٹ حاصل کیے تھے، جس میں 25 ووٹ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے تھے جو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ڈی سیٹ ہوگئے ہیں۔

زرداری نے ایک منجھے ہوئے کپتان کو کیسے کلین بولڈ کیا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار افتخار احمد سمجھتے ہیں کہ گورنر پنجاب کی تعیناتی سے پنجاب کی سیاست میں بہت بہتری آئے گی۔ اِس کے ساتھ ہی صوبے کے انتظامی معاملات میں بھی بہتری کی توقع ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعلٰی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اُس کی کابینہ نہ ہو۔ اور کابینہ اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک گورنر نہ ہو کیوں کہ گورنر ہوگا تو صوبائی کابینہ کا حلف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر کی تعیناتی ایک مثبت اور آئینی عمل ہے۔ ان کے بقول گورنر کے بغیر صوبائی کابینہ بن ہی نہیں سکتی تھی۔ ظاہر ہے کہ جب سابق گورنر نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے حلف نہیں لیا تو کابینہ سے حلف کون لیتا۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کی سابق حکومت نے چوہدری سرور کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا کر عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب بنایا تھا۔ جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد عدالت عالیہ کے حکم پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ان سے حلف لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھی بات ہے کہ صدرِ پاکستان کو یہ احساس ہوا کہ وہ ایک آئینی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ وہ صرف ایک سیاسی جماعت کے کارکن نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے صدر ہیں۔ یہ ان کی ایک آئینی ذمہ داری تھی۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید سمجھتے ہیں کہ پنجاب کا سیاسی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، جس کی وجہ پاکستان کے صدر اور گورنر پنجاب کا آپس میں ایک لائن پر ہونا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر یہ چاہ رہے تھے کہ وہ گورنر پنجاب کو نہ ہٹائیں۔ مگر نئے گورنر کی تعیناتی ایک اچھی خبر ہے، جن کی نامزدگی موجودہ حکومت نے کی تھی۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب سیاسی بحران کی وجہ سے آئینی مشکلات اور دیگر مسائل کا شکار تھا۔ صوبے بھر میں غیر یقینی کی صورتحال تھی، کوئی سیاسی انتظامیہ نہیں تھی۔ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، کابینہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل تھے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے معاملات چلانے کے لیے بہت ساری چیزوں پر کابینہ کی منظوری چاہیے ہوتی ہے، کابینہ کے نہ ہونے سے بہت سے کام التوا کا شکار تھے مگر اب بہتری کی توقع ہے۔ کابینہ بننے کے بعد پنجاب میں سیاسی اور انتظامی صورتِ حال بہتر ہونے کی توقع ہے۔

دوسری جانب افتخار احمد کہتے ہیں کہ اگر وزیرِاعلیٰ پنجاب کو اعتماد کے ووٹ کی ضرورت ہوئی تو نئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔ یہ ان کی ایک آئینی ذمہ داری ہے جس کے لیے وہ کسی بھی وقت حمزہ شہباز کو اعتماد کے ووٹ کے لیے کہہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیے گئے 25 منحرف ارکان کی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای سی پی کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں اس وقت منتخب ارکان کی تعداد کم ہو گئی ہے ۔ ان نشستوں پر ضمنی انتخاب کے بعد پتا چلے گا کہ حمزہ شہباز اعتماد کا ووٹ لے سکتے ہیں یا نہیں۔

احمد ولید کی رائے میں یہ ایک سیاسی پہلو ہے آیا نئے گورنر بلیغ الرحمٰن حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ گورنر کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے جب کہ اس سے قبل جو گورنر تھے پنجاب پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ البتہ اس کے باوجود اگر گورنر سمجھتے ہیں کہ آئینی طور پر حمزہ شہباز کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے تو وہ ایسا کرنے کو کہہ سکتے ہیں۔ اگرمسلم لیگ (ن) کے اتحادی جماعتوں کے ساتھ ایوان میں نمبرز پورے ہیں تو گورنر سے وزیراعلیٰ مشاورت بھی کر سکتے ہیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی کی سیاست سے متعلق احمد ولید نے کہا کہ کابینہ بننے کے بعد اگر صوبہ پنجاب میں سیاسی استحکام آتا ہے تو ممکن ہے کہ پرویز الٰہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدے سے عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی نے پہلے تکنیکی بنیادوں پر اپنے خلاف عدم اعتماد کو غیر مؤثر کرایا تھا۔ البتہ افتخار احمد سمجھتے ہیں کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن پر سیاسی جماعتوں کا دباؤ نہیں ہوگا۔تمام سیاسی جماعتیں جو حکومتی اتحاد میں شامل ہیں وہ گورنر پنجاب کے ساتھ تعاون کریں گی۔ تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ گورنر اگر کوئی غیرآئینی اقدام اٹھاتے ہیں تو ان کا حق ہے کہ وہ ان پر تنقید کرے۔ انہوں نے صوبے میں گورنر راج سے متعلق کہا کہ ایسی باتیں وہ جماعتیں یا شخصیات کرتی ہیں جن کا آئین پر کوئی اعتماد اور یقین نہیں ہوتا۔ ایسی جماعتیں آئین کے ساتھ کھلواڑ کرتی ہیں۔ ایسی شخصیات صرف وہ آئین مانتی ہیں جو صرف اُن کے لیے ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پیر کی رات تک ضمنی انتخابات کے حوالے سے کشمکش کا شکار تھی کہ آیا اسے ضمنی الیکشن میں حصہ لینا ہے یا نہیں۔ ان کی اطلاعات کے مطابق وہ ضمنی الیکشن میں حصہ لیں گی کیوں کہ الیکشن کمیشن ضمنی الیکشن کے شیڈول کا اعلان کرچکا ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید سمجھتے ہیں کہ حمزہ شہباز کی بطور وزیراعلٰی پنجاب اپنی ترجیحات نہ ہونے کے برابر ہوں گی۔ کیوں کہ تمام تر ترجیحات ان کی جماعت نے اور خاص طور پر شہباز شریف اور لندن میں بیٹھے نواز شریف نے طے کرنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ لندن میں موجود نواز شریف ہی ہر فیصلے کی منظوری دیتے ہیں۔

Back to top button