حق دو بلوچستان تحریک نے دوبارہ حکومت مخالف دھرنا دے دیا

حکومت کی جانب سے حق دو بلوچستان تحریک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق وعدے پورے نہ کیے جانے پر مولانا ہدایت اللہ کی زیر قیادت دوبارہ سے دھرنا دے دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے گوادر کے باسیوں نے مولانا کی قیادت میں 31 روز کا دھرنا دیا تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد بلوچستان حکومت نے ان سے مذاکرات کئے تھے اور تمام مطالبات پر ایک ماہ کے اندر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کروائی تھی، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور اب حق دو بلوچستان تحریک نے دوبارہ سے اپنے دھرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

حکومت بلوچستان کی وعدہ خلافی کو دوبارہ دھرنے کی وجہ قرار دیتے ہوئے حق دو تحریک کے قائد کا کہنا ہے کہ مقررہ مدت میں معاہدے کے مطابق انکے مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا لہذا ان کے پاس دوبارہ دھرنا دینے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ مولانا ہدایت اللہ کا کہنا ہے کہ سمندر میں غیرقانونی ٹرالرز اب بھی دندناتے پھر رہے ہیں اور سمندری حیاتیات کی نسل کشی کر کے مقامی ماہی گیروں کو بیروزگار کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ مولانا ہدایت اللہ نے اس مرتبہ اورماڑہ شہر میں زیروپوائنٹ کے مقام پر دھرنا دیا ہے جس کے بعد یہ مقام آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کا کہنا ہے کہ معاہدے کی پاس داری نہ ہونے کے خلاف دھرنا جاری رہے گا۔ درھرنے میں شریک افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ ہم خاموش بیٹھیں گے، وہ غلطی پر تھے۔ یہ ایک مقام کا دھرنا ہے، غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والے، لوگوں کی شرکت دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے کہتا ہوں آنکھیں کھولیں اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، مسائل حل کریں۔ اب گوادر، کیچ، اعر پنجگور کے مختلف شہروں میں مسلسل ایسے دھرنے ہوں گے اور مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو یکم مارچ سے گوادر میں بھی پھر سے دھرنا ہو گا۔

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سربراہ سانحہ مری کے ذمہ دار قرار

یاد رہے کہ 16 دسمبر کو وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں حکومتی وفد نے تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے ساتھ مذاکرات کیے جس میں چیک پوسٹوں، غیر قانونی ماہی گیری کے خاتمے اور مقامی سطح پر سرحدی تجارت کی بحالی سمیت بیشتر مطالبات کے حل کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اوماڑہ میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت اللہ نے کہا ہے کہ حکام کی عدم توجہی کے باعث صوبے بھر میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا کہ صوبائی حکومت مکران کے ساحل کے قریب غیر قانونی ماہی گیری کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے گی اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت سے وابستہ افراد کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ماہی گیری جاری ہے اور ابھی تک سرحدی تجارت کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ گوادر اور دیگر علاقوں کے لوگ اب بھی چیک پوسٹوں پر فورسز کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں حالانکہ ان کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تربت میونسپلٹی کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی شروع نہیں کی اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے پاس ان کی تنخواہیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔

انہون نے بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے لاپتا نوجوانوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ بھی کیا۔ مولانا ہدایت اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ دھرنا ختم کروانے کے لیے تھا اور اب انہیں ماموں بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Back to top button