حسینہ واجد نے اپنی حکومت گرانے کا الزام امریکا پر عائد کردیا

بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کی وجہ سے مستعفیٰ ہونے والی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے امریکا پر اپنی حکومت گرانے کا الزام عائد کرتےہوئے کہاکہ مجھے اقتدار سےاس لیے نکالا گیا کیوں کہ میں نے امریکا کو سینٹ مارٹن کے جزیرے پرکنٹرول دینے سے انکار کردیا تھا۔
حسینہ واجد کے حامی بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کے 5جج مستعفی
طلبہ کے کوٹہ سسٹم کےخلاف پر تشدد احتجاج کےباعث 5 اگست کو حسینہ واجد وزارت عظمیٰ سےمستعفی ہوگئیں تھیں اور ملک سےفرار ہو کر بھارت میں پناہ لےرکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے قریبی دوستوں کو پیغام بھجوایا ہے،جس میں انہوں نے دعویٰ کی کہ امریکا سینٹ مارٹن کے جزیرے پر کنٹرول حاصل کرناچاہتا تھا جس کے ذریعے وہ خلیج بنگال پرتسلط قائم کرنا چاہتاتھا۔
شیخ حسینہ واجد نے بنگلہ دیشی عوم کو خبردار کیاکہ وہ بنیاد پرستوں کی باتوں میں نہ آئیں، میں اقتدار میں رہ سکتی تھی اگر میں سینٹ مارٹن جزیرے پرخود مختاری چھوڑ دیتی اور امریکا کو خلیج بنگال پرتسلط قائم کرنےدیتی، انہوں نے کہاکہ میں نے صرف اس لیے استعفیٰ دیاکہ مجھے مزید لاشیں نہ دیکھنی پڑیں،وہ طلبہ کی لاشوں کےذریعے اقتدار میں آناچاہتے تھے تاہم میں نےاس کی اجازت نہیں دی اور مستعفیٰ ہونے کافیصلہ کیا۔
