2035 تک دنیا کی نصف آبادی موٹاپے کا شکار ہو سکتی ہے

دنیا بھر میں 2035 تک نصف آبادی کے موٹاپے کا شکار ہونے کا امکان ہے، مناسب تدارک نہیں کیا گیا تواس سے طرح طرح کے مسائل پیدا ہوں گے اور عوام یا حکومتوں کی جیب پر لگ بھگ 4.32 ٹریلیئن ڈالر سالانہ اضافی خرچ کرنا ہوں گے۔
دنیا بھر میں فربہی پر نظر رکھنے والی تنظیم ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن نے ایک مفصل جائزے کے بعد ’ورلڈ اوبیسٹی اٹلس‘ 2023 جاری کیا ہے۔ اس کے تحت ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو اگلے 12 برس میں مزید ڈیڑھ ارب بڑے اور 40 کروڑ بچے موٹاپے کے چنگل کے شکار ہوجائیں گے۔ اس طرح کرہ ارض پر موٹے افراد کی تعداد لگ بھگ 4 ارب تک پہنچ سکتی ہے جو کل آبادی کا 51 فیصد ہوگی۔
رپورٹ میں اس تشویش کا اظہارکیا گیا ہے کہ بڑوں کے مقابلے میں 5 سے 19 برس کے بچے قدرے تیزی سے فربہی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور یوں اوائل عمر میں ہی وہ طرح طرح کے امراض کے شکار ہوسکتے ہیں جن میں ذٰیابیطس، بلڈ پریشر، سانس کے امراض اور امراضِ قلب شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپے کے جن پر بروقت قابو پانا بہت ضروری ہے۔
