پاکستان نے 29 برس بعد انڈیا کو شکست سے کیسے دوچار کیا؟

سینئیر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ آج اگر پاکستان میں کرکٹ زندہ ہے تو ان جنونی کھلاڑیوں کی وجہ سے ہے جو سفارش اور اقربا پروری کی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے لڑتے رہتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ انکی محنت اور قربانیوں کو بڑے لوگ بڑی بڑی جگہوں پر فروخت کر دیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ کی کہانی دراصل پاکستان کے اس سسٹم کی کہانی ہے جس میں بابر اعظم کو اس کا اپنا شہر لاہور اپنی ٹیم سے نہیں کھلاتا، چنانچہ وہ اسلام آباد سے آ کر کھیلتا ہے اور جب خود کو ثابت کر کے ہیرو بن جاتا ہے تو سارا کریڈٹ لاہور لے لیتا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ زیادہ پرانی بات نہیں، 1996ء میں پاکستان، بھارت اور سری لنکا نے مل کر جنوبی ایشیا میں کرکٹ کا ورلڈ کپ منعقد کرایا تھا۔ آج بھارت کی کرکٹ ٹیم پاکستان آکر کھیلنے کیلئے تیار نہیں اور چیمپئنز ٹرافی کے تمام میچ دبئی میں کھیل رہی ہے۔ایک طرف بھارت کے کرکٹرز پاکستان آنے کیلئے تیار نہیں، لیکن دوسری طرف بھارت کے بہت سے سپورٹس جرنلسٹ چیمپئنز ٹرافی کے نام پر ویزے حاصل کرکے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ بھارت کے ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر نے مجھے پیغام بھیجا کہ ان کا سپورٹس رپورٹر پاکستان آ رہا ہے لہازا میں اس کا بابر اعظم کے ساتھ انٹرویو فکس کرا دوں۔ میں نے ایڈیٹر موصوف سے پوچھا کہ آپ کی کرکٹ ٹیم تو یہاں آنے کیلئے تیار نہیں تو آپ نے اپنا رپورٹر کیوں بھیج دیا؟ کہنے لگے بھیا جی! ان باتوں کو چھوڑو، پاکستان ایک بہت بڑی پراڈکٹ ہے جو ہمارے انڈیا کی پالیٹکس اور فلم انڈسٹری سے لیکر کرکٹ تک ہر جگہ بہت بکتی ہے۔ دراصل آج کل انڈیا میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ ہم نے تو پاکستان میں جاکر کھیلنے سے انکار کیا، پی ایس ایل میں انڈین کرکٹرز کو کھیلنے سے روکا لیکن اس کے باوجود پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ختم نہ ہو سکی اور آج وہاں چیمپئنز ٹرافی ہو رہی ہے ۔ایڈیٹر صاحب نے کہا کہ ہم نے اپنا رپورٹر اس لئے بھیجا ہے کہ وہ ایک فیچر سٹوری تیار کرے کہ پاکستان میں کرکٹ کی کامیابی کی اصل کہانی کیا ہے؟

چیمپئنز ٹرافی کی کوریج کیلئے بھارت سے آنے والے سپورٹس بلٹس اپنی کہانیوں میں پتہ نہیں کیا لکھیں گے لیکن اگر آپ نے پاکستان اور بھارت میں فرق سمجھنا ہے تو دونوں ممالک کے کرکٹ سسٹم کو سمجھیں آپ کو آسانی سے فرق سمجھ آ جائے گا۔ پاکستان اور بھارت میں عوام کی اکثریت کو اس کھیل سے جنون کی حد تک لگائو ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ سال 2013 میں پاکستان کے سابق فارن سیکرٹری اور پی سی بی کے سابق سربراہ شہر یار خان نے ایک کتاب لکھی جس کا دیباچہ عمران خان نے تحریر کیا تھا۔ اس کتاب میں شہر یار خان نے پہلی بار تحریک پاکستان میں کرکٹ کے کردار کو بیان کیا۔ 1947ء میں پاکستان اور بھارت قائم ہونے کے بعد 1952ء میں پہلی مرتبہ پاک بھارت کرکٹ سیریز ہوئی، یہ سیریز 1948ء کی پاک بھارت جنگ کے چار سال بعد شروع ہوئی اور پاکستانی ٹیم بھارت کے دورے پر گئی۔ 1955 میں بھارتی ٹیم پاکستان آئی تو دس ہزار سے زائد بھارتی شائقین ویزے لیکر میچ دیکھنے پاکستان آئے۔ اس وقت لاہور میں کوئی بڑا سٹیڈیم نہیں تھا لہٰذا لاہور میں باغ جناح گرائونڈ پر ٹیسٹ میچ ہوتا تھا۔ قذافی اسٹیڈیم بہت بعد میں بنایا گیا۔

حامد میر کے مطابق بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ کے درمیان طویل ترین ڈیڈ لاک 1961ء سے 1978ء کے درمیان تھا۔ 17سال تک دونوں ممالک نے آپس میں کرکٹ نہیں کھیلی۔ 1978ء میں جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر مرارجی ڈیسائی کی حکومت نے بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجی تو کرکٹ میچوں کے دوران بھٹو کو رہا کرو کے نعرے لگ گئے۔ لاہور کے ایک میچ میں بیگم نصرت بھٹو صاحبہ اپنے خاوند کی رہائی کیلئے نعرے لگاتے ہوئے پولیس کی لاٹھی چارج کا نشانہ بن گئیں ۔جنرل ضیاء نے کرکٹ کو سیاست سے توجہ ہٹانے کیلئے استعمال کیا اور پیپلز پارٹی نے کرکٹ میچوں کو بھٹو کی رہائی کیلئے آواز اٹھانے کا ذریعہ بنایا۔ پاکستان اور بھارت میں طویل عرصے کے بعد شروع ہونے و الے کرکٹ میچوں کےباوجود حالات بہتر نہ ہوئے اور 1984ء میں بھارت نے خاموشی سے سیاچن کی چوٹیوں پر قبضہ کر لیا۔ پھر 1996ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان اوربھارت دوبارہ ساتھ ساتھ تھے لیکن 1999ء میں کارگل ہو گیا۔

حکومت PIA کے 220 ارب روپے نقصان کی ریکوری کیوں نہیں کرنا چاہتی؟

سینئیر صحافی بتاتے ہیں کہ مشرف دور میں کرکٹ کو دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کیلئے استعمال کیا گیا لیکن کشمیریوں کو اعتماد میں نہ لینے کے باعث کوئی بریک تھرو نہ ہوا اور کرکٹ ڈپلومیسی کا ردعمل 2008ء کے ممبئی حملوں کی صورت میں سامنے آیا۔ان حملوں کا جواب 2009 میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والا دہشت گرد حملہ تھا جسے جواز بنا کر بھارت نے پاکستان میں کرکٹ کا بائیکاٹ کر دیا۔ انڈین بائیکاٹ نے پاکستان کو مشکلات سے تو دوچار کیا لیکن آخر کار 29 سال کے بعد دوبارہ پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد بھارت کی بہت بڑی شکست ہے۔ بھارت انٹرنیشنل کرکٹ کا مضبوط ترین کردا رہے۔ بھارت میں کرکٹ کا ایک مضبوط اور مربوط نظام ہے۔ علاقائی ایسوسی ایشنز سکول اور کالج سے لیکر یونیورسٹی کی سطح تک ٹورنامنٹس کا اہتمام کرتی ہیں ۔کلب کرکٹ کا ایک ٹھوس نظام ہے لیکن پاکستان میں کرکٹ کا کوئی ٹھوس نظام موجود نہیں۔ حکومت بدلتی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ میں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ لیکن آج پاکستان کی کرکٹ اگر زندہ ہے تو ان جنونی کھلاڑیوں کی وجہ سے ہے جو سفارش اور اقربا پروری کی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے لڑتے رہتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ان کی محنت اور قربانیوں کو بڑے لوگ بڑی بڑی جگہوں پر فروخت کر دیتے ہیں۔

Back to top button