عدالتی فیصلے نے PTI والوں کو خوشی دے کر کیسے چھینی؟

30 جون کے روز لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے حمزہ شہباز کے خلاف دائر کردہ پٹیشن پر عدالتی فیصلہ آتے ہی تحریک انصاف کے رہنماؤں نے عدالت کے احاطے میں ہی جشن منانا شروع کر دیا اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دینا شروع کر دیں۔ لیکن چند لمحات کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری ہوتے ہی پی ٹی آئی کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی اور جشن منانے اور مبارکبادیں دینے والے رہنماؤں نے ایک ایک کر کے عدالت سے کھسکنا شروع کر دیا۔ چند لمحات پہلے تک عدالتی فیصلے کو آئین کی بالادستی کا فیصلہ قرار دینے والوں نے اپنے موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے عدالت کا رگڑا نکالنا شروع کر دیا۔ دن کا اختتام کچھ یوں ہوا کہ پی ٹی آئی اور قاف لیگ نے عدالتی فیصلے کو آئین اور انصاف کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف دوبارہ عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا۔ یوں تحریک انصاف کی عدالتی فیصلے پر خوشی عارضی ثابت ہوئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے عمرانڈوز ور یوتھیے عدالتی فیصلے کو حمزہ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ پکی کرنے کا حربہ قرار دے رہے ہیں۔
اسمبلی سے پاس ہونے والا لاپتہ افراد کا بل بھی لاپتہ ہو گیا
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے نے پنجاب میں سیاسی بحران میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے جو حل دیا ہے اسکے نتیجے میں بحران ختم نہیں ہوگا بلکہ اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ فواد نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کئی خامیاں ہیں، لہٰذا ہم نے لیگل کمیٹی کی میٹنگ بلالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ فیصلے میں خامیوں کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں وزیر اعلیٰ کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور ممکنہ الیکشن کے وقت پی ٹی آئی کے کم از کم دس اراکین پنجاب اسمبلی ملک سے باہر ہوں گے لہذا پرویز الٰہی کی جیت کا امکان صفر ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے عدالتی فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں کئی قانونی ابہام ہیں۔ ایک طرف حکم دیا گیا ہے کہ یہ الیکشن درست نہیں تھا اور اسے کالعدم قرار دے دیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف اسی غلط الیکشن کے نتیجے میں بننے والے وزیراعلیٰ حمزہ کو کام جاری رکھنے کا کہا گیا ہے، لہٰذا اس فیصلے کے بعد مزید خرابی ہو گی۔ غلط پر اور بھی زیادہ غلط ہوگا۔ لہذا اس مسئلے کا حل ایک ہی ہے اور وہ ہے نیا جنرل الیکشن۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی ایک اور رہنما شیریں مزاری نے آئین اور قانون کی جیت قرار دیا ہے۔ اسی طرح کے خیالات کا اظہار میاں محمود الرشید نے بھی کیا۔ تاہم شاید اس وقت تک ا نہیں عدالتی فیصلے کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں ملی تھی۔
پی ٹی آئی کے حمایتی عمرانڈو صحافی صدیق جان نے کہا کہ تحریری فیصلہ پڑھنے کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ فیصلہ حمزہ شہباز کے خلاف ہرگز نہیں ہے،پی ٹی آئی کو زیادہ جشن منانے کی ضرورت نہیں ہے، یہ فیصلہ حمزہ شہباز کے حق میں ہے۔ گیلا تیتر کہلانے والے یوتھیے صحافی عمران ریاض خان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں حمزہ شہباز شریف اور بھی پکے ہوکر وزیر اعلی بنیں گے اور انہیں روکنے کے لیے تحریک انصاف اور ق لیگ کو کافی زور لگانا پڑے گا۔ صحافی بلال غوری نے کہا کہ حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب پر سوالات اٹھ رہے تھے، اب عدالتی فیصلے کے بعد وہ صاف اور شفاف انداز میں دوبارہ وزیراعلیٰ بن جائیں گے اور یہ تاثر بھی زائل ہو جائے گا کہ عدالتوں سے تحریک انصاف کو انصاف نہیں ملتا۔ بس اتنی سی بات ہے لیکن اگر پی ٹی آئی کے کارکن پھر بھی جشن منانا چاہتے ہیں تو جی بسم اللہ۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 16 اپریل کو ہونے والے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے منحرف اراکین کے ووٹ شمار کیے بغیر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرانے کا حکم دیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ بننے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے تو آرٹیکل 130(4) کے تحت الیکشن دوبارہ کرایا جائے گا۔ جب تک کہ عہدے کے لیے موجود کسی امیدوار کو اکثریت حاصل نہ ہو۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 130(4) کے مطابق ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں کسی رکن کو 186 ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے لیے صرف موجودہ اراکین اور ان کے ووٹوں میں سے اکثریت کی ضرورت ہوگی۔ ایسے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ حمزہ شہباز دوبارہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو جائیں گے۔
