جنرل مشرف اذیت ناک موت کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے بتایا ہے کہ کہ دبئی کے ہسپتال میں داخل جنرل پرویز مشرف ایمولائی ڈوسیس نامی جس موذی بیماری میں مبتلا ہیں وہ نہ صرف نہایت تکلیف دہ ہے بلکہ ناقابل علاج بھی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ایمولائی ڈوسیس خوف ناک بیماری میں جسم میں پروٹین جمع ہو جاتی ہے اور یہ جسم کے مختلف اعضاء کو جام کرتی چلی جاتی ہے۔ کینسر کی طرح ابھی تک اسکا علاج بھی دریافت نہیں ہو پایا ہے۔ جاوید چودھری کے بقول امریکامیں ٹرائل بیسز پر اس کے علاج کے لیے چند انجکشن بنے ہیں جو ریڑھ کی ہڈی کے سرے پر بون میرو کے اندر لگوانے پڑتے ہیں جو ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ لہذا جنرل مشرف اس وقت ایک اذیت ناک عمل سے گزر رہے ہیں۔

اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ جنرل مشرف اچھے انسان تھے یا برے یہ فیصلہ اب اللہ تعالیٰ اور وقت کرے گا۔ لیکن جہاں تک ان کی بیماری کا تعلق ہے تو ہمیں اللہ تعالیٰ سے رحم کی بھیک مانگنی چاہیے۔ اللہ دشمن کو بھی بیماری سے بچائے۔ جنرل صاحب دبئی میں زیر علاج ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 25 جون کو اپنی اہلیہ اور ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ دبئی میں جنرل پرویز مشرف کی عیادت کی اور انھیں پاکستان آنے کی دعوت دی لیکن فیملی نے معذرت کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں علاج کی سہولت موجود نہیں لہٰذا انھیں اسلام آباد لے جانا ان کی زندگی کے لیے خطرناک ہو گا۔ جنرل باجوہ کی میڈیکل ٹیم نے فیملی سے اتفاق کیا اور یوں جنرل پرویز مشرف کی واپسی ملتوی ہو گئی۔ یاد رہے کے جنرل مشرف آئین شکنی کے جرم میں ایک خصوصی عدالت سے سزائے موت کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد سے مفرور ہیں اور دبئی میں مقیم ہیں۔

کیا شاہ محمود بیٹے کو جتوا کر اپنی ہار کا بدلہ لے پائیں گے؟

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آرمی کے اپنے میڈیکل کالجز بھی ہیں اور میڈیکل کور کی تاریخ بھی ڈیڑھ سو سال پر محیط ہے لیکن ہم اس کے باوجود سابق آرمی چیف کا علاج پاکستان میں نہیں کر سکتے۔ نواز شریف بھی تین بار وزیراعظم رہنے کے باوجود لندن میں علاج کرا رہے ہیں۔ ان کی ہارٹ سرجری بھی ہارلے اسٹریٹ کلینک لندن میں ہوئی اور یہ بھی اس وقت وزیراعظم تھے۔ آصف علی زرداری بھی صدارت کے دوران تین بار دبئی اور لندن میں زیرعلاج رہے اور ملالہ یوسف زئی کو 9 اکتوبر 2012 کو مینگورہ میں ٹی ٹی پی نے گولی کا نشانہ بنایا‘ یہ بھی برمنگھم کے کوئین الزبتھ اسپتال میں زیرعلاج رہیں۔ ہماری پارلیمنٹ میں بیرون ملک علاج کا باقاعدہ فنڈ موجود ہے اور اس فنڈ سے ارکان پارلیمنٹ کو علاج کے لیے دوسرے ملکوں میں بھی بھجوایا جاتا ہے۔اسی طرح بیوروکریٹس بھی علاج کے لیے باہر جاتے ہیں اور بزنس مین تو مینی کیور اور پیڈی کیور بھی باہر سے کراتے ہیں‘ کیوں؟ آپ نے کبھی سوچا؟ سچ تو یہ ہے پاکستان میں معیاری علاج دستیاب نہیں‘ علاج ہو جائے تو ہم پوسٹ آپریشن کی کیئر میں دنیا میں بہت پیچھے ہیں‘ یورپ میں آپریشن سے پہلے‘ آپریشن کے فوراً بعد‘ آپریشن کے بعد پہلے تین دن اور اس کے بعد بحالی تک کاعملاً مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے اور یہ اپنے کام کے لیے ٹرینڈ ہوتے ہیں جب کہ یہاں مریض کو مرنے تک ایک ہی قسم کے لوگ نظر آتے ہیں اور ہماری ادویات بھی یورپی اسٹینڈرڈ سے بہت پست ہیں۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ ہماری کسی فارما سوٹیکل کمپنی کی کوئی دوا مغربی دنیامیں نہیں بکتی۔ رہی سہی کسر میڈیکل اسٹور پوری کردیتے ہیں۔ وہ ادویات کو دھوپ اور گرمی میں رکھ کر انھیں دوا نہیں رہنے دیتے لہٰذا ملک کے زیادہ تر مقتدر لوگ ادویات بھی دوسرے ملکوں سے منگواتے ہیں اور آپریشن اور طبی مشورے بھی مغربی ڈاکٹرز سے کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے طبی شعبے کو امپروو نہیں کر سکتے؟ بقول جاوید، ہم سو فیصد ایسا کر سکتے ہیں‘ دبئی سے امریکا تک دنیا میں جتنی بھی تبدیلیاں آئیں انسانوں نے کیں اور یہ بھی ہماری طرح ’’سوشل اینیمل‘‘ تھے چنا نچہ ہم بھی کر سکتے ہیں مگر ہمیں یہ کرنے کے لیے ان کی طرح سوچنا اور عمل کرنا ہو گا۔ ہماری پستی کی ہزاروں وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن تین انتہائی اہم ہیں اور ہم جب تک یہ وجوہات دور نہیں کرتے ہم اس وقت تک اسی طرح زمین پر رینگتے رہیں گے۔ جاوید چوہدری کے مطابق ان میں سے پہلی وجہ ہم 75 سال بعد بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکے طاقت کا اصل سرچشمہ کون ہے؟ ملک فوج نے چلانا ہے یا سیاست دانوں نے اورملک کا آئینی اور قانونی ڈھانچہ کیا ہونا چاہیے؟ میری ریاست سے درخواست ہے آپ ایک ہی بار یہ فیصلہ کر لیں‘ ریاستی طاقت اگر فوج کے پاس ہونی چاہیے تو پھر تمام اختیارات فوج کو دے دیں اور 25 سال تک ان سے کسی قسم کا حساب نہ مانگیں اور اگرملک سیاست دانوں نے چلانا ہے تو پھر فیئر اینڈ فری الیکشن کا ایک مضبوط سسٹم بنا دیں‘ الیکشن وقت پر ہوں‘ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں‘ حکومت خواہ چھ ماہ بعد بدل جائے اسے بدلنے دیں لیکن الیکشن پانچ سال بعد ہی ہوں‘ اس سے ملک میں سیاسی استحکام آ جائے گا اور گاڑی چلنے لگے گی۔

جاوید کے بقول ہم اینٹی بزنس اور اینٹی پراگریس بھی ہیں‘ ہم سرمایہ اور روزگار پیدا کرنے والے بزنس مینوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں‘ ہم آج تک سڑکوں‘ گلیوں اور نالیوں کا اسٹینڈرڈ بھی طے نہیں کر سکے‘ ہماری سڑکیں اور گلیاں دو ماہ میں کیوں ٹوٹ جاتی ہیں اور یورپ کی دو دو سو سال تک کیوں محفوظ رہتی ہیں؟ کیوں کہ یورپ میں اسٹینڈرڈ ہے‘ ٹھیکے دار وہاں اس اسٹینڈرڈ سے نیچے نہیں آ سکتا جب کہ ہم آج تک یہ اسٹینڈرڈ ہی طے نہیں کر سکے۔ لہٰذا پورے ملک کو بیٹھ کر ایک ہی بار بلیو بک تیار کر لینی چاہیے‘ اس میں اینٹ ‘سریے اور سیمنٹ سے لے کر وفاقی سیکریٹری کی ٹرانسفر اور تقرر تک ہر چیز لکھی ہو اور یہ 25 سال کے لیے لاک کر دی جائے‘ اسے دیوتا بھی نہ بدل سکیں‘ پاکستان میں فوج کیوں کام یاب ہے؟ کیوں کہ یہ بک کے مطابق چلتی ہے‘ یہ کسی کو کسی قسم کا استثنیٰ نہیں دیتی‘ ہم یہ سسٹم سول میں کاپی کیوں نہیں کرتے؟

جاوید چوہدری کے مطابق تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نفرت سے بھرے ہوئے منقسم لوگ ہیں۔ ہم قابل ترین شخص کو بھی سیاسی‘ مذہبی‘ نسلی اور طبقاتی پھانسی گھاٹ پر لٹکا دیتے ہیں‘ ہم نے بزنس مین اور بیوروکریٹس تک آپس میں تقسیم کر رکھے ہیں‘ یہ میاں صاحب کا بندہ ہے اور یہ زرداری صاحب کا اور یہ فوج کے ساتھ ہے اور یہ سول کے ساتھ‘ ہم نماز تک اپنی مرضی کے امام کے پیچھے پڑھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا آگے بڑھنے کے لیے ہمیں یہ سلسلہ بھی بند کرنا ہو گا۔ آپ یقین کریں دنیا میں ترقی کی سائنس انتہائی آسان ہے، بس اسکے لیے ارادہ اور عمل چاہیے اور ہم ان دونوں میں مار کھا رہے ہیں چنانچہ بیمار گدھے کی طرح دنیا کی چوکھٹ پر لیٹے ہیں اور گزرنے والے گزر رہے ہیں۔

Back to top button