تحریک طالبان فاٹا کا انضمام ختم کرنے کے مطالبے پر ڈٹ گئی

اپنی دہشت گرد کارروائیوں سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو آگے لگا کر مذاکرات پر مجبور کرنے والی تحریک طالبان پاکستان فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو ختم کرنے کے مطالبے پر ڈٹ گئی ہے اور مزید مذاکرات سے انکاری ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے والے عسکری حکام بھی اس مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ ان کا موقف ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کیا تھا اور اسے واپس لینا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔
ایک یوٹیوبر کو انٹرویو دیتے ہوئے کالعدم عسکری گروہ کے سربراہ نور ولی محسود نے کہا کہ ہمارے مطالبات واضح ہیں خاص کر سابق فاٹا کے قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا سے انضمام کو ختم کرنا ہمارا بنیادی مطالبہ ہے جس سے ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور اسی نقطے پر مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوا ہے۔ بظاہر کابل میں دیے گئے اس انٹرویو میں تحریک طالبان کے مفرور سربراہ نورولی محسود نے کہا کہ جب تک اس مطالبے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوتی حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین دوبارہ مذاکرات شروع ہونا ممکن نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب کالعدم قرار دیدیا
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے حال ہی میں فاٹا کاانضمام ختم کرنے کو خارج از امکان قرار دیا تھا، یاد رہے کہ فاٹا کو 2018 میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ حال ہی میں پڑوسی ملک میں افغان طالبان حکومت کے تعاون سے حکومتِ پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان کابل میں مذاکرات ہوئے تھے۔ پاکستانی مذاکراتی ٹیم کی قیادت آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کی جو اب کور کمانڈر پشاور ہیں۔ عسکری حکام کے علاوہ خیبر پختونخوا سے قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک 57 رکنی جرگے نے بھی ٹی ٹی پی رہنماؤں سے بات چیت کی تھی۔ اس سے پہلے ٹی ٹی پی نے غیر معینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن سکیورٹی فورسز خطے بالخصوص شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، اسی طرح سکیورٹی فورسز پر تحریک طالبان کے دہشت گردوں کی جانب سے بھی حملے جاری ہیں۔ اپنے ساتھ ایک آٹو میٹک رائفل رکھے کالعدم تنظیم کے سربراہ نور ولی محسود نے ایک ویڈیو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان بات چیت جاری ہے لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی۔
یاد رہے کہ نور ولی محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے جو حکومت سے مذاکرات کے لیے کابل منتقل ہوگئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ بات چیت ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں پاکستانی حکومت کی نمائندگی کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کررہے تھے جبکہ ٹی ٹی پی کا وفد ان کی سربراہی میں مذاکرات میں شامل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت فراہم کررہے تھے، نور ولی نے کہا کہ اگر حکومت نے سنجیدگی دکھائی تو ہی مذاکرات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت ہو سکتی ہے۔
تحریک طالبان کے سربراہ نے تصدیق کی کہ حکومت پاکستان نے کچھ طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے لیکن ساتھ ہی ہمارے ساتھی پکڑے بھی جارہے ہیں۔ نور ولی نے خبردار کیا کہ حکومت کی جانب سے غیر سنجیدہ رویہ بات چیت کو متاثر کرسکتا ہے، انہوں نے ٹی ٹی پی کی تحلیل کے مطالبے کو بھی سختی سے مسترد کردیا جو کہ پاکستانی حکام کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا مطالبہ جو تحریک طالبان کی ساکھ کو متاثر کرے وہ ناقابل قبول ہوگا، البتہ مذاکرات کے دوران ’مناسب مطالبات‘ پر بات چیت ہوسکتی ہے۔
