یہودی ایجنٹ اور مولانا ڈیزل ملک دشمن ایجنڈے پر اکٹھے کیسے ہو گئے؟

بانی تحریک انصاف عمران خان کے ایجنڈے کے عین مطابق ملک میں ایک سنگین آئینی بحران پیدا کرنے کی بدترین سازش کی جارہی ہے جس کے قومی سلامتی پر بھی بدترین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔1996 میں تحریک انصاف کا قیام بھی ایک مخصوص عالمی ایجنڈے کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا جب بانی پی-ٹی-آئی کو ’’آئیڈیل‘‘ تصور کرتے ہوئے پاکستان دشمن صیہونی قوتوں نے ان کا قرب حاصل کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں جن کا انکشاف اب اسرائیلی اخبارات میں بھی ہو چکا ہے۔ تاہم افسوس کہ چند وقتی مفادات کے حصول کی خاطر اب مولانا فضل الرحمن بھی اسی عمران خان کے پیادے بن چکے ہیں جنہیں وہ کل تک یہودی ایجنٹ قرار دیتے تھے اور جو کل تک انہیں "اوئے فضلو” اور مولانا ڈیزل کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔
معروف تحقیقاتی صحافی شکیل انجم روزنامہ جنگ میں اپنی تازہ تحریر میں بتاتے ہیں کہ عمران خان نے 1992 کے ورلڈ کپ کی جیت کو ساری دنیا میں کیش کروانے اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کے نام پر اربوں روپے کمانے کے بعد ملک دشمن ایجنڈے پر عمل درآمد کا باقاعدہ آغاز 2014 میں شاہراۂ دستور پر دھرنے سے کیا۔ اس دھرنے میں موصوف نے نوجوان نسل کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا اور سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے پی-ٹی-وی ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر کے نشریات معطل کر دیں۔ اسکے بعد انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ کے خلاف بدزبانی شروع کی اور میڈیا ہاؤسز پر حملے کیے۔ پھر چین کے صدر کا دورہ پاکستان منسوخ کرانے کی سازش کے ذریعے ریاست کے خلاف نفرت کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ شکیل انجم بتاتے ہیں کہ 2018 میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر تاریخی دھاندلی کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کے بعد بھی عمران خان نے ریاست دشمن پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھا بلکہ اس کی شدت میں اور بھی اضافہ کیا گیا جسکی ابتدا صیہونی قوتوں کی خوشنودی کے لئے پاک چائنہ سی پیک منصوبہ خراب کرنے کو کوششوں سے ہوئی۔ عمران حکومت نے چائنا سے تعلقات خراب کرکے پیغام دیا کہ ان کی حکومت اسرائیل نواز امریکہ کے ساتھ ہے اور وہ پاکستان میں ان کے مفادات کی نگرانی کرتے رہیں گے۔ اپنے پونے چار سالہ دور اقتدار ملک میں یہ تاثر قائم ہوا کہ عمران خان نے اس قوم کے ساتھ وہ کچھ کیا جو اس ملک کا بدترین دشمن سوچ بھی نہیں سکتا۔اس دوران عمران خان نے افغانستان میں مقیم 42 ہزار دہشتگردوں کو پاکستان کے سرحدی علاقوں میں آباد کیا جن میں 7 ہزار دہشتگرد جو پاکستان کی مختلف جیلوں میں دہشتگردی کے الزامات میں قید کی سزائیں کاٹ رہے تھے، کو بھی رہا کرکے اپنے اس ہراول دستے میں شامل کرلیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دہشتگردوں کی یہ فورس پاکستان میں دہشتگردی کے علاوہ پاکستان پر یلغار میں استعمال کی جائے گی۔ اسی دوران سی پیک منصوبہ کو متنازع بنانے کے لئے مراد سعید جیسے لوگوں کے ذریعے پاکستان کے انتہائی قابل بھروسہ دوست ملک چائنا کے بارے میں متنازع تقاریر کرائی گئیں جس کے نتیجے میں چائنا نے سی پیک منصوبہ بند کردیا۔اسی موقع پر قومی ائیر لائن پی-آئی-اے کے خلاف سرکاری سطح پر تحریک چلائی گئی کہ قومی ائیر میں کام کرنے والے ہوابازوں یا پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئی ہیں اس کے لئے اس وقت کے وفاقی وزیر کو استعمال کیا گیا جسے قومی ائیر لائن بند کرانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ عمران خان کا اگلا پروگرام اداروں کو آپس میں لڑانا اور فوج کو تقسیم کرنا تھا لیکن اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں کو حالات کی نزاکت کا احساس ہوا تو عدم اعتماد کی تحریک کے بعد عمران خان کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اقتدار سے علیحدہ ہو کر عوام میں بدامنی پھیلانے کی اورفوج کی تقسیم کرنے اور اسے دہشتگرد ثابت کرنے کے لئے عالمی سطح پر تحریک چلائی گئی جس کے نتیجے میں 9 مئی 2023 کو فوج اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور شہداء کی تضحیک و توہین کرکے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا گیا کہ عوام افواج پاکستان سے نفرت کرتے ہیں۔ بانی پی-ٹی-آئی نے ایک موقع پر یہ بھی فرمایا تھا کہ کہا تھا کہ ملک کے تین ٹکڑے ہوں گے جس پر عمل درآمد کا آغاز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے پنجاب پر مسلح یلغار اور اعلان بغاوت کے ذریعے کر دیا گیا ہے۔ لیکن سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ عمران خان عدلیہ کو بھی تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد مخصوص ججز نے ان کی جماعت کو کھل کر سپورٹ کیا اور ایک بار پھر سے ’’نظریۂ ضرورت‘‘ زندہ کر دیا۔ لیکن اس بار فائدہ اٹھانے والوں میں کوئی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نہیں بلکہ عمران اور ان کی شرپسند پارٹی تھی۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ عمران خان کی جانب سے شروع کی جانے والی ریاست دشمن تحریک کے دوران صرف ایک دیندار لیڈر یعنی مولانا فضل الرحمن ان کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور موصوف کو شیطانی نظریہ کے پیروکار اور صیہونی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیتے رہے، تاہم افسوس کہ چند وقتی مفادات کے حصول کی خاطر اب مولانا اسی عمران خان کے پیادے بن چکے ہیں جو کل تک انہیں "اوئے فضلو” اور مولانا ڈیزل کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔
