نئے چیف جسٹس نے منصور شاہ اور منیب اختر کا مس ایڈونچر کیسے روکا ؟

نئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے ساتھی ججز منصور علی شاہ اور منیب اختر کی جانب سے مس ایڈونچر کی تمام تر کوشش کے باوجود 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف کیس سپریم کورٹ میں نہ لگا کر پاکستان کو ممکنہ طور پر ایک سنگین بحران سے بچا لیا ہے۔

پارلیمنٹ کے ذریعے ہونے والی 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد اصولا ائین سے متعلقہ تمام سیاسی تنازعات صرف اور صرف آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، لیکن یحی افریدی کے ہاتھوں سپر سیڈ ہونے والے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جانتے بوجھتے بھی مس ایڈونچر کرنے کی کوشش کی جو ان کے سیاسی ایجنڈے کا مظہر ہے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی اس حوالے سے اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ اگر جسٹس یحیی آفریدی اپنے ساتھی ججز سے اتفاق کر لیتے تو پاکستان ایک بہت بڑے سیاسی بحران کا شکار ہو سکتا تھا۔ تاہم نئے چیف جسٹس سے جس سمجھ بوجھ اور بالغ نظری کی توقع تھی انہوں نے اُسی کا مظاہرہ کیا۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے دونوں سینئر ترین جج حضرات منصور علی شاہ اور منیب اختر کی طرف سے آئینی بینچز کہ تشکیل اور جوڈیشل کمیشن کی میٹنگ سے پہلے ہی فل کورٹ بنا کر 26ویں ترمیم کے خلاف درخواستیں سننے کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔

انصار عباسی کے مطابق ہم سب جانتے ہیں کہ منصور اور منیب اتنی جلدی میں کیوں تھے۔ دونوں نے فل کورٹ کے سامنے 26ویں آئینی ترمیم کا کیس رکھنے کا فیصلہ ججز کمیٹی کے ممبران کی حیثیت سے کیا۔ 31 اکتوبر کو دونوں نے ججز کمیٹی کا فوری اجلاس منعقد کرنے کےلیے چیف جسٹس سےدرخواست کی لیکن جب جسٹس آفریدی نے عمل نہیں کیا تو دونوں ججز نے آپس میں ہی بیٹھ کر 26ویں آئینی ترمیم کو فل کورٹ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ جاری کر دیا ۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس پر عمل نہیں کیا جس پر دونوں ججز نے ایک خط کے ذریعے ناراضی کا اظہار کیا اور اپنے عمل کو قانونی قرار دیا۔

انصار عباسی کہتے ہیں کہ 26ویں آئینی ترمیم کتنی ہی بُری یا متنازع کیوں نہ ہو لیکن جسٹس منصور اور جسٹس منیب جو کرنا چاہ رہے تھے وہ دراصل آئین کی رو سے درست نہ تھا اور اسی بنیاد پر چیف جسٹس نے دو ساتھی ججز کے فیصلے کو سنا ان سنا کردیا ہو۔ آئین کے مطابق آئینی تنازعے کا کیس اب صرف آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، لیکن جو جسٹس منصور اور جسٹس منیب کرنا چاہ رہے تھے وہ نہ صرف غیر آئینی تھا بلکہ ایک مس ایڈونچر بھی تھا جس کے  نتائج سے نہ صرف اداروں میں بہت بڑی لڑائی شروع ہو سکتی تھی بلکہ ایک آئینی بحران کے ساتھ ساتھ ملک ایک شدید سیاسی و معاشی عدم استحکام کا بھی شکار ہو سکتا تھا۔

انصار عباسی کے مطابق عمران خان کے حمایتی بہت سے لوگ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے توقع رکھے ہوئے ہیں کہ وہ حکومت، پارلیمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ سے فوری ٹکرا جائیں۔ تاہم چیف جسٹس کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر کسی مخصوص سیاسی طبقے کا ہیرو بننے کی بجائے قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ نہ اُنہیں ٹی وی پر اپنے ٹکرز چلوانے کا شوق ہوتا ہے اور نہ کچھ ایسا کرنے کا کہ ان کی واہ واہ ہو جائے۔

یہ کہا جاتا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو کمزور کیا۔ اگر سچ بات کی جائے تو اصل میں ججز کی آپسی سیاست اور انصسف کی فراہمی میں عدالتی نظام کی ناکامی نے عدلیہ کو کمزور کیا۔

اگر پاکستان کی عدلیہ بشمول سپریم کورٹ نے خود کو مضبوط کرنا ہے اور عوام کی نظروں میں احترام حاصل کرنا ہے تو پھر ججز کو سیاست کرنے کی بجائے عوام کے لیے جلد اور سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔ اگر ہماری عدلیہ اور ججز کو تاریخ میں نام لکھوانا ہے تو پھر عوام کو انصاف فراہم کر کے دنیا کے ممالک میں پاکستان کی عدلیہ کو آخری نمبروں سے اُٹھا کر پہلے نمبروں پر لے کر آئیں۔

 اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی اپنے بارے میں کیا رائے ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر کسی کو اعتماد نہیں اور میں جب ’’کسی کو‘‘ کہتا ہوں تو اس کا مطلب عوام ہوتے ہیں جو عدالتوں میں اپنے مقدمات کے فیصلوں کا سالہا سال بلکہ دہائیوں تک انتظار کرتے ہیں، اپنا سب کچھ بیچ کر انصاف لینے کی آس میں زندگیاں گزار دیتے ہیں لیکن انصاف پھر بھی نہیں ملتا۔

آرمی چیف کے ماسٹر سٹروک نے ججز کے منصوبے کیسے ناکام بنائے؟

 انصار عباسی کہتے ہیں کہ میری چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان کے عدالتی نظام کی سرجری کریں اور اسے اس قابل بنائیں کہ لوگ عدالتوں میں جانے سے ڈرنے کی بجائے اُن پر اعتماد کرنا شروع کر دیں۔

Back to top button