پاکستانی فوج نے تحریک طالبان کی ریڑھ کی ہڈی کیسے توڑی؟

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں حال ہی میں مارے جانے والا تحریک طالبان پاکستان کے ڈپٹی امیر قاری امجد عرف مزاحم کو ٹی ٹی پی کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا تھا جو ماضی میں القاعدہ سے منسلک بریگیڈ 313 کے کمانڈر الیاس کاشمیری کا بھی قریب ترین ساتھی رہا۔ الیاس کشمیری اور قاری امجد دونوں ایک زمانے میں حرکت الجہاد الاسلامی سے وابستہ تھے جس نے بعد میں اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ سے ہاتھ ملا لیا تھا۔

کمانڈر الیاس کاشمیری اور قاری امجد میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں نے اپنے جنگجو کیریئر کا آغاز جہاد کشمیر سے کیا اور دونوں امریکہ کو مطلوب افراد کی لسٹ میں شامل تھے۔ الیاس کاشمیری نے جہاد کشمیر کے دوران ایک مرتبہ سرحد پار کر کے کئی بھارتی فوجیوں کو مار ڈالا تھا اور ایک کا سر کاٹ کر بھی ساتھ لے آیا تھا۔ تاہم وہ بعد میں القاعدہ کا ساتھی بن گیا اور 3 جون 2011 کو وزیرستان میں سیبوں کے ایک باغ میں سوتے ہوئے امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ دوسری طرف قاری امجد پچھلے ہفتے افغان سرحد سے پاکستان میں گھسنے کی کوشش میں مارا گیا۔ قاری امجد کی موت کو تحریک طالبان کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوجی ترجمان نے پچھلے ہفتے بتایا تھا کہ افغانستان سے طالبان دہشتگردوں گردوں کا ایک گروہ پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ٹی ٹی پی کا ڈپٹی کمانڈر قاری امجد عرف مزاحم اور اسکے 4 دہشت گرد ساتھی ہلاک ہو گئے۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ امجد عرف مزاحم ٹی ٹی پی کے امیر کمانڈر نور ولی محسود کا نائب اور رہبری شوریٰ کا سربراہ تھا۔ پاکستان نے اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ مقرر کی تھی۔

ٹی ٹی پی نے بھی قاری امجد عرف مزاحم کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ قاری امجد اور مفتی حضرت دیروجی کے ناموں سے مشہور مفتی مزاحم 2018 سے مارچ 2025 تک سب سے طویل عرصے تک ٹی ٹی پی کا نائب سربراہا۔ قاری امجد کا شمار بااثر کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ اسے امریکہ نے دسمبر 2022 میں عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

تب امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ قاری امجد کو ٹی ٹی پی میں بیرون ملک، قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں مفتی نور ولی محسود کی جانب سے دہشت گرد آپریشنز کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

قاری امجد کا آبائی تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر سے تھا اور وہ افغانستان میں قیام پذیر تھا۔ اس نے اپنی تنظیم کے عسکری ونگ کو منظم کرکے اس کے حملوں کی تعداد اور شدت میں خطرناک حد تک اضافہ کیا۔

2021 میں جب ٹی ٹی پی نے پہلی مرتبہ اپنی شیڈو کابینہ کا اعلان کیا تو قاری امجد مسلسل تین سال اسکا وزیر دفاع رہا۔ امجد ٹی ٹی پی کی موجودہ رہبری شوری کا رُکن اور اس کی جنوبی زون کے ملٹری کمیشن کا سربراہ بھی تھا۔ آسان الفاظ میں وہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع بشمول شمالی و جنوبی وزیرستان، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں ٹی ٹی پی کے آپریشنل نیٹ ورک کا سربراہ تھا اور تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا تھا۔

قاری امجد نے نویں جماعت کے بعد سکول چھوڑ کر ایک دینی مدرسے میں داخلہ لیا تھا۔ وہ شانگلہ اور اس کے بعد کراچی کے دیوبندی مذہبی اداروں میں زیرتعلیم رہا، جہاں سے اس نے مفتی کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد وہ کمانڈر الیاس کشمیری کے برگیڈ 313 کے ساتھ منسلک ہو گیا۔ الیاس کشمیری کی موت کے بعد وہ مالاکنڈ ڈویژن میں مولوی صوفی محمد کی زیر قیادت تحریک نفاذ شریعت محمدی تنظیم کا بھی حصہ رہا۔ سال 2007 میں قاری امجد پنجابی طالبان کا ساتھی بن گیا اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی وجہ سے قاری امجد 2010 میں افغانستان چلا گیا۔ چند برس بعد امجد واپس پاکستان اپنے علاقے میں آیا لیکن جلد ہی افغانستان لوٹ گیا۔

49 سال کی عمر میں مارے جانے والے قاری امجد عرف مزاحم نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں کشمیری عسکریت پسند تنظیم حرکت الانصار کے پلیٹ فارم سے عسکریت پسندی کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔حرکت الانصار کشمیر میں انڈین سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑنے کے علاوہ افغانستان میں بھی عسکری طور پر فعال تھی۔ قاری امجد نے 1996 میں حرکت الانصار کے کمانڈر مولوی عبدالجبار کے ساتھ افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت میں جنگ میں حصہ لیا۔ اس کے بعد وہ حرکت الجہادی اسلامی کا حصہ بن گیا اور کمانڈر الیاس کشمیری کے بریگیڈ 313 کے ساتھ منسلک ہو گیا۔ سال 2000 میں جب انڈیا کی قید سے رہائی کے بعد مولانا مسعود اظہر نے جیش محمد کے نام سے الگ تنظیم قائم کی تو امجد بھی دیگر سینکڑوں پاکستانی عسکریت پسندوں کے ساتھ جیش محمد میں شامل ہو گیا۔

تاہم دسمبر 2007 میں ٹی ٹی پی کے رسمی قیام سے قبل وہ جیش محمد سے علیحدہ ہو کر پاکستان میں ریاست مخالف جنگ میں شامل ہو گیا۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے قیام سے قبل قاری امجد مالاکنڈ ڈویژن میں ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ ملا فضل اللہ کی قیادت میں بننے والے مقامی طالبان نیٹ ورک میں آبائی ضلع دیر کے لئے قاضی مقرر ہوا تھا۔ تاہم مالاکنڈ ڈویژن میں 2009 کے فوجی آپریشن کے بعد وہ ضلع دیر کے لیے ٹی ٹی پی کے عسکری ونگ کے سربراہ مقرر ہوا۔ سنہ 2014 میں جب ملا فضل اللہ ٹی ٹی پی کا سربراہ مقرر ہوا تو امجد کو ضلع دیر کے ساتھ بلوچستان کے بھی آپریشنل نیٹ ورک کی ذمہ داری دے دی گئی۔ ایک اہم آپریشنل کمانڈر ہونے کے ساتھ ساتھ قاری امجد ٹی ٹی پی سے منسلک میڈیا کے ذریعے تنظیم کے اہم پیغامات، بیانات اور انٹرویوز بھی شائع کرواتا تھا۔

سال 2022 میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے وقت قاری امجد ٹی ٹی پی کے وفد کا رکن تھا۔ مذاکرات کی ناکامی کے بھی ٹی ٹی پی نے جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کیا۔ ملک بھر میں حملے کرنے کے حوالے سے جو اعلامیہ اس وقت کالعدم تنظیم نے جاری کیا تھا اس پر قاری امجد عرف مفتی مزاحم کے دستخط تھے۔

پاک افغان مذاکرات کے باوجود جنگ اور تباہی لازمی کیوں ہے؟

اکتوبر 2024 میں ٹی ٹی پی کے عمر میڈیا نے ایک ویڈیو میں قاری امجد کو تنظیم کے دیگر اہم کمانڈروں کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان، وزیرستان اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہوئے دکھایا تھا۔ اسی طرح 17 اکتوبر 2025 کو بھی عمر میڈیا نے قاری امجد کی ایک ویڈیو جاری کی تھی کی جس میں اسے باجوڑ کے مختلف علاقوں میں مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔

 

Back to top button