پاک افغان مذاکرات کے باوجود جنگ اور تباہی لازمی کیوں ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کا نصرت جاوید نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین جتنے بھی مذاکرات ہو جائیں ان کا نتیجہ جنگ اور تباہی کی صورت میں ہی سامنے آنا ہے جس کی بنیادی وجہ طالبان حکمرانوں کی جنگجو سوچ ہے۔
روزنامہ نوائے وقت کے لیے اپنے تجزیے میں نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ افغانستان پر ایک زمانے میں کمیونسٹ حکمران ہوا کرتے تھے لیکن آج شریعت کے ٹھیکے دار طالبان حکمران بنے بیٹھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ذرا سوچیں 1978 میں نور محمد ترکئی کی قیادت میں افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا تھا۔ لیکن قائد انقلاب ترکئی کو اس کے عزیز ترین ’’کامریڈ‘‘ حفیظ اللہ امین نے منہ پرسرہانہ رکھ کر قتل کردیا۔ حفیظ اللہ امین کا اقتدار بھی زیادہ دن چل نہیں پایا۔ اقتدار میں آئی خلق پارٹی افغانستان جیسے روایت پسند ملک میں تیزی سے ایسی سیاسی اور سماجی تبدیلیاں لانا چاہ رہی تھی جنہیں چین اور ویت نام کے کمیونسٹوں نے بھی اپنے ہاں متعارف کروانے میں بہت احتیاط سے کام لیا تھا۔ انکی جلد بازی سے گھبراکر ہزاروں افغان پاکستان آنا شروع ہوگئے۔
’’خلق‘‘ پارٹی کے مقابلے میں کمیونسٹوں کا ایک اور دھڑا ’’پرچم‘‘ کے نام سے بھی کام کررہا تھا۔ ببرک کارمل اس کا سربراہ تھا۔ خلق پارٹی کی قیادت کے باہمی اختلافات نے افغانستان میں ابتری پھیلائی تو دسمبر 1979 میں سوویت افواج کابل میں داخل ہوگئیں۔ ببرک کارمل کو خلق پارٹی نے چیکو سلاوکیہ کا سفیر بناکر ’’جلاوطن‘‘ کردیا تھا لیکن پھر اسی کو واپس کابل بلاکر ایوان صدر میں بٹھا دیا۔ سرد جنگ کے عروج میں روسی افواج افغانستان میں درآئیں تو امریکہ کو ان سے ویت نام میں اپنی ذلت وہزیمت کا بدلہ لینے کا موقع نظر آگیا۔ پاکستان میں ان دنوں جنرل ضیاء الحق ایک فوجی آمر کی طرح برسراقتدار تھے۔ موصوف نے 1979ء کے اپریل میں ایک مقبول وزیر اعظم بھٹو کو پھانسی بھی لگوائی تھی۔ لہٰذا امریکی خواہش کو بھاپنتے ہوئے جنرل ضیا ’’جہادی‘‘ ہوگئے۔
موصوف نے افغانستان کو کمیونزم سے آزاد کروانے کے نام پر طویل جنگ کی تیاری شروع کردی۔ افغان پناہ گزینوں کی بستیوں سے افغانستان میں ’’گوریلا جنگ‘‘ لڑنے کے لئے ’’جہادی‘‘ تیار کئے گئے۔ لیکن یہ جہادی کبھی متحد جماعت کی صورت نہ اختیار کر پائے۔ یہ جہادی کم از کم 8 دھڑوں میں منقسم ہوئے افغانستان میں اپنے اپنے حلقہ ہائے اثر میں مزاحمت کی آگ بھڑکاتے رہے۔ افغان مزاحمت پر قابو پانے کیلئے کمیونسٹ افواج نے ہر نوع کی بربریت آزمائی۔ ان کی فضائی اور فوجی برتری کو مگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی سے کمزور سے کمزور تر بنایا۔ بالآخر 1986ء میں روس نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔ روسی افواج کے انخلاء کے باوجود افغان مذاکرات کے ذریعے اپنے لئے کوئی سیاسی نظام تشکیل نہ دے پائے۔
1992 میں افغان مجاہدین کے دھڑوں کو خانہ کعبہ جاکر ایک معاہدہ کرنے کو مجبور کیا گیا۔ صبغت اللہ مجددی اس کے تحت عبوری افغان صدر بنے۔ ان کے صدارت سنبھالتے ہی احمد شاہ مسعود اور گل بدین حکمت یار کے دھڑے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی وحشت میں مبتلا ہوگئے۔ افغانستان کے وسیع تر قصبے مجاہدین کے مختلف دھڑوں نے آپس میں بانٹ لئے۔ بندوق بردار دھڑوں کی ’’سکھا شاہی‘‘ کو طالبان نے للکارا۔ وہ ’’احیائے اسلام‘‘ کے نام پر اقتدار میں آئے۔ اپنے دعویٰ کو حقیقت میں بدلنے کے لئے انتہاپسندانہ رویے اختیار کرتے ہوئے خود کو دنیا سے بیگانہ بنالیا۔ پاکستان پر مسلسل ان کی سرپرستی کا الزام لگتا رہا۔ حالانکہ ان کے نمودار ہونے سے قبل گل بدین حکمت یار پاکستان کا چہیتا تصور ہوتا تھا۔ طالبان نے اقتدار سنبھالا تو فیصلہ نہ کر پائے کہ حقیقی ’’اسلام‘‘ فقط افغانستان ہی میں نافذ کرنا ہے یا ’’اسلامی انقلاب‘‘ دنیا کے ہر مسلم اکثریتی ملک میں برپا کیا جائے۔ دنیا بھر سے روس کے خلاف لڑنے کے لئے افغانستان آئے ’’مجاہدین‘‘ کو سمجھ نہ آئی کہ اب کیا کریں۔ لہٰذا انہوں نے امریکہ کو اسلام کے ’’نئے دشمن‘‘میں تبدیل کر لیا۔ اس کے نتیجے میں نائن الیون ہوا۔ اس کے بعد جو ہوا حالیہ تاریخ ہے۔ لیکن یک سطری حقیقت یہ ہے کہ افغانستان اپریل 1978ء سے مسلسل خانہ جنگیوں اور غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت میں مصروف رہاہے۔ اس کی کم از کم تین نسلوں کو جنگی جنون کے علاوہ کسی اور جذبے کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ پاکستانیوں کی اکثریت کو امید تھی کہ اگست 2021ء میں بقول عمران خان ’’غلامی کی زنجیریں‘‘ کاٹ کر برسراقتدار آئے طالبان تاریخ کا نیا اور پرامن باب لکھیں گے۔
لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عمران خان یہ نہ سمجھ پائے کہ دو سپر طاقتوں یعنی روس اور امریکہ کو شکست دینے والے طالبان اپنے ’’اسلامی نظام‘‘ کو افغانستان تک ہی محدود نہیں رکھیں گے۔ وہ اپنے پاکستانی برادران کے بھی ویسے ہی پشت پناہ ہوں گے جیسے بے شمار پاکستانی جہاد اور بعدازاں امریکہ کی مزاحمت کے دوران طالبان کے پشت پناہ رہے تھے۔ امریکی افواج کی افغانستان موجودگی کے دوران طالبان یکسو ویکجا ہوکر مزاحمت کے قابل نہیں تھے۔ وہ اپنی تنظیم کو مختصر ترین تشکیلات میں ڈھالنے کو مجبور ہوئے۔ خفیہ معلومات حاصل کرنے کیلئے امریکہ کے اپنائے جدید ترین حربوں اور آلات کو ناکام بنانے کے لئے چھوٹے گروہوں میں بٹ کر مزاحمت جاری رکھنا ان کی مجبوری تھی۔ اس کی بدولت وہ بہت تخلیقی اور تکنیکی بھی ہو گئے۔ لیکن ہم اس گماں میں مبتلا رہے کہ طالبان بدستور مدرسوں کے سادہ لوح شاگردوں پر مشتمل ہیں۔ پاکستان کے سوا ان کا دنیا میں کوئی اور دوست وخیر خواہ نہیں۔ چنانچہ ان کی سادگی پر بھروسہ کرتے ہوئے ہم سمجھ ہی نہ پائے کہ امریکہ کی مرضی سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ’’طالبان کے دفتر‘‘ کا قیام درحقیقت ان کی خودمختاری کا اعلان تھا۔ یہ دفتر حامد کرزئی کے دورِ اقتدار میں قائم ہوا تھا۔
دوحہ میں بیٹھ کر طالبان نے امریکہ کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی اپنے روابط بڑھائے۔ 2016 میں ٹرمپ امریکہ کا صدر منتخب ہوگیا اور وائٹ ہائوس پہنچتے ہی افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کی تیاری کرنے لگا۔ افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد کو اس نے اس ضمن میں اپنا خصوصی مشیر تعینات کیا۔ طالبان نے زلمے خلیل زاد کے ذریعے امریکہ کو طویل مذاکرات میں الجھاکر بالآخر ایک ’’معاہدہ‘‘ کیا۔ اس پر اگست 2021ء میں عملدرآمد ہوا تو امریکہ کے حصے میں فقط ذلت ورسوائی آئی۔ طالبان کو امریکہ کے ساتھ دوحہ مذاکرات کے لئے رضا مند کرنے کے لئے دبائو بڑھانے والے عمران خان اور قمر جاوید باجوہ بھی پاکستان کے لئے کچھ دوررس ضمانتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ فاتح کی طرح کابل لوٹنے کے بعد سے طالبان بتدریج ’’احیائے اسلام‘‘ کے غم میں مبتلا ہونے کے بجائے پختون وطن پرستی کے رویے اختیار کررہے ہیں۔ اسی رویے نے انہیں مودی سرکار کو دوست بنانے کو اْکسایا ہے۔
پاک افغان فائر بندی ٹوٹی تو پاکستانی فضائیہ کیا کرے گی؟
لہذا نصرت جاوید کہتے ہیں کہ طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ بھارت کے بعد ترکی میں ہوئے پاک-افغان مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔ اب پاکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھیں گے۔ امن واستحکام برقرار رکھنے کی خاطر یہ انجام خوشگوار نہیں بلکہ انتہائی تکلیف دہ بھی ہوسکتا ہے۔
