امریکہ ایران کے خلاف سخت ترین کارروائی سے باز کیسے آیا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی روک دی تھی، جبکہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے اور امریکا ابھی تک مجوزہ معاہدے سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن کئی اہم معاملات ابھی حل طلب ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ وہی کچھ کر سکتا تھا جو اس نے وینزویلا کے ساتھ کیا، تاہم پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روک دی گئی۔ انہوں نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو سراہتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو بہترین شخصیات قرار دیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب زیادہ آپشنز باقی نہیں رہے، یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا اپنا کام مکمل کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے بدلے پابندیوں میں نرمی دینے پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے افزودہ یورینیم کو روس یا چین کے حوالے کیے جانے کے بھی حق میں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران مکمل طور پر بین الاقوامی اصولوں اور ضابطوں کے مطابق رویہ اختیار کرے۔

آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ یہ عالمی بحری گزرگاہ سب ممالک کے لیے کھلی رہنی چاہیے اور کسی ایک ملک کو اس پر کنٹرول حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے ساتھ فریم ورک معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی اور بحری آمدورفت معمول پر آ جائے گی۔صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اس تنازع میں امریکا کی صرف 13 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ افغانستان، عراق اور دیگر جنگوں میں ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے تھے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جبکہ پاکستان کے ممکنہ سفارتی کردار پر عالمی سطح پر توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔

Back to top button