وزیر اعلی سہیل آفریدی کو گنڈاپور بننے میں کتنا وقت لگے گا؟

سہیل آفریدی نے خیبر پختونخواہ کی وزارت اعلیٰ سنبھالتے ہی عمران خان کو رام کرنے کے لیے وہ حرکتیں شروع کر دی ہیں جو دو برس پہلے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کیا کرتے تھے، لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ گنڈا پور میچور ہو گئے اور انہیں یہ سمجھ آ گئی کہ صوبہ چلانے کے لیے جذبات سے زیادہ احتیاط ضروری ہوتی ہے، تاہم خان صاحب کو ان کی یہ پالیسی پسند نہ آئی اور ان کی چھٹی کروا دی گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سہیل آفریدی میچور ہونے میں کتنا وقت لیتے ہیں۔

خیال رہے کہ سہیل آفریدی نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد سے جارحانہ بیان بازی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اپنے پہلے ہی خطاب میں عسکری قیادت کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کرنے کے بعد، انہوں نے اپنی مزاحمتی سیاست کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس میں شرکت سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد، وفاقی حکومت کے ساتھ مخاصمت کو مزید گہرا کرتے ہوئے، سہیل آفریدی نے بغیر دیکھے وفاق کی جانب سے دی گئی بلٹ پروف گاڑیاں واپس کر دی تھیں اور دعویٰ کیا تھا کہ وفاقی کی جانب سے فراہم کردہ گاڑیاں نہ صرف خستہ حال ہیں بلکہ پرانی ہونے کی وجہ سے چلنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کو بلٹ پروف گاڑیاں کیوں دیں؟ کیا واقعی خیبرپختونخوا حکومت کو فراہم کردہ گاڑیاں خستہ حال ہیں؟ سہیل آفریدی کی جانب سے بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ ذرائع کا بتانا ہے کہ پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں دینےکا فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا تھا، جس میں آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے وزیر داخلہ سے باقاعدہ بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ ایف سی اور پولیس حکام نے وزیر داخلہ کو صوبے میں افسران کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا تھا اور بلٹ پروف گاڑیوں کا مطالبہ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق  وزیر داخلہ محسن نقوی کو بتایا تھا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کو جنوبی اضلاع کے لیے 10 بلٹ پروف گاڑیاں درکار ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیڈرل کانسٹیبلری اور خیبرپختونخوا پولیس کو گاڑیاں دینےکی یقین دہانی کرائی تھی، جس کے بعد کے پی پولیس کو 3 جبکہ فیڈرل کانسٹیبلری کو2 بلٹ پروف گاڑیاں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم گاڑیوں کی فراہمی کے بعد وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے بلٹ پروف گاڑیوں کو بیکار قرار دیتے ہوئے انہیں کے پی پولیس کی تضحیک قرار دیا تھا اور گاڑیاں فوری طور پر وفاق کو واپس کرنے کے احکامات دے دیے تھے۔ جس کے بعد وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی درخواست پر خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے واپس کردہ گاڑیاں بلوچستان بھجوانے کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بلٹ پروف گاڑیاں لینے سے انکار کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر داخلہ سے درخواست کی تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے واپس کی جانے والی بلٹ پروف گاڑیاں بلوچستان کو فراہم کی جائیں۔ سردار سرفراز بگٹی کی درخواست پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا سے واپس آنے والی بلٹ پروف گاڑیاں اب بلوچستان کو دی جائیں گی۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا پولیس کو تین بلٹ پروف گاڑیاں دینے اور وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے ان گاڑیوں کو ناکارہ قرار دے کر واپس کرنے کا معاملہ پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے ۔ ناقدین کے مطابق سہیل آفریدی نے صرف سیاسی مخاصمت میں وفاق کی جانب سے اعلان کردہ بلٹ پروف گاڑیاں لینے سے انکار کیا ہے۔ سہیل آفریدی جس گاڑیوں کے ناقص ہونے کا الزام عائد کر ان مسترد کر رہے ہیں وہ گاڑیاں تو ابھی خیبرپختونخوا پہنچی ہی نہیں تھیں، اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا نے بغیر دیکھے کس بنیاد پر انہیں ناقص قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے گاڑیوں بارے الزامات بے بنیاد ہیں کیونکہ گاڑیوں کی بلٹ پروفنگ مقامی سطح پر نہیں بلکہ کمپنی کے ذریعے کی گئی تھی۔یہ تینوں گاڑیاں ماضی میں ایک بین الاقوامی ادارے کے زیرِ استعمال رہ چکی ہیں جبکہ ان کے ماڈلز تقریباً پندرہ سال پرانے ہیں۔ تاہم یہ گاڑیاں اب بھی قابل استعمال ہیں اگرچہ گاڑیاں پرانی ہیں مگر ان کی بلٹ پروف افادیت برقرار ہے ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا پولیس کو بلٹ پروف گاڑیوں کے ساتھ تھرمل ہتھیار، بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر سازوسامان بھی فراہم کرنا تھا تاہم اب یہ تمام سازوسامان بلوچستان پولیس کو فراہم کیا جائے گا۔

Back to top button