عمران خان کی ناجائز بیٹی ٹیریان، اصل کہانی کیا ہے؟

عمران خان کی ناجائز بیٹی ٹیریان وائیٹ، ان کی سابق گرل فرینڈ سیتا وائیٹ کی بیٹی ہے جن کا انتقال 2004 میں ہو چکا ہے۔ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ کی طرح سیتا بھی برطانیہ کے ایک متمول صعنتکار کی بیٹی تھیں۔ ایک نیوز ایجنسی ”پی ٹی آئی“ کے مطابق سیتا وائیٹ نے کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں ٹیریان کو عمران خان کی بیٹی ثابت کرنے کے لئے کیس بھی کیا تھا۔۔ جس پر عدالت نے انھیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے کہا اور ان کے انکار پر 1997 میں یکطرفہ فیصلے کے ذریعے ٹیریان کو عمران خان کی بیٹی قرار دے دیا۔ سینئر کورٹ کمشنر انتھونی جونز کے الفاظ تھے ” عمران خان ہی اس بچی کے والد ہیں“۔

عمران خان نے اس فیصلے کو نہ صرف ہوا میں اڑا دیا بلکہ اسے بھی اپنے خلاف ایک سازش قرار دیا کیونکہ وہ اب محض جانے مانے کرکٹر ہی نہیں، سیاست کے کھلاڑی بھی تھے۔۔جبکہ ان کے اٹارنی برنارڈ کلیئر نے کہا کہ سیتا نادانستہ طور پر عمران خان کے مخالفین کا مہرہ بن چکی ہیں۔ سیتا کی وفات کے بعد ٹیریان امریکہ سے لندن شفٹ ہو گئیں تاہم لوگ اس وقت حیران رہ گئے جب جمائما نے جون 2022 میں فادرز ڈے کے موقع پر بین گولڈ سمتھ کے ساتھ ٹیریان کی ایک تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی جس کا کیپشن تھا ”ہیپی فادر فیگرز ڈے“۔ اگرچہ یہ تصویر بعد میں ڈیلیٹ کر دی گئی لیکن اس تصویر نے عمران خان کے کردار کی دھجیاں اڑا دیں، اب بازی الٹ چکی تھی۔اگست 2022 میں قومی اسمبلی کے نو حلقوں میں ضمنی الیکشن تھے، جب عمران خان کے خلاف اس تصویر نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

ایک ہنگامہ برپا ہو گیا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت اپنی بیٹی ٹیریان کا ذکر کیوں نہیں کیا اور کیا آئین کے آرٹیکل 62/63 کے تحت انھیں سچا، کھرا، باکردار اور ایماندار شخص کہا جا سکتا ہے؟ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی تین بیویوں اور دو بیٹوں قاسم اور سلیمان ہی کا ذکر کیا تھا، جو 1995 میں جمائما سے ان کی شادی کے بعد پیدا ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران اور ٹیریان، مطلب ”سو کالڈ“ باپ بیٹی کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جو پٹیشن فائل کی گئی ہے اس میں گواہی کے طور پر جمائما ہی کام آئی ہیں۔ دراصل جمائما نے 2004 میں ٹیریان کی گارڈین شپ کے لئے لندن کی ایک عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا تھا جس میں اس کا نام ٹیریان جیڈ خان وائیٹ درج ہے۔ ہائی کورٹ میں یہ کیس ابھی زیرِ سماعت ہے اور عمران خان ہیں کہ تاریخ پر تاریخ لیتے جا رہے ہیں۔
خیر یہاں سوال یہ پید ہوتا ہے کہ آخر سیتا وائیٹ کون تھیں اور یہ کہانی شروع کیسے ہوئی؟ سیتا وائیٹ 1961 میں پیدا ہوئیں، عمران خان سے ان کی ملاقات بیورلے ہلز کے ایک نائٹ کلب میں ہوئی تھی۔ سیتا کی شادی کچھ ہی عرصہ پہلے ٹوٹ چکی تھی، ان کے سابق شوہر ایک اٹالین فوٹوگرافر تھے۔ سیتا کی اٹارنی گلوریا ایلریڈ کے مطابق دونوں 1987 سے ریلیشن شپ میں تھے۔ 1991 میں لاس اینجلس میں ہی ان کی دوسری ملاقات ہوئی اور وقت کے ساتھ ساتھ دوستی مزید گہری ہو گئی۔ انہی دنوں سیتا نے بچے کی خواہش کا اظہار کیا اور جب ایک روز انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ وہ ماں بننے والی ہیں تو عمران خان نے پہلے تو کسی خاص ردِعمل کا اظہار نہیں کیا، پھر کہا کہ یہ بیٹا ہو گا۔ گلوریا کہتی ہیں جب انھیں بتایا کہ یہ بیٹی بھی ہو سکتی ہے تو وہ بولے یعنی وہ کرکٹ نہیں کھیل سکے گی۔۔گلوریا نے دعویٰ کیا کہ عمران خان ہر گز یہ بچہ نہیں چاہتے تھے لیکن سیتا نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹیریان جیڈ 15 جون 1992 میں پیدا ہوئیں، سیتا کو امید تھی کہ خوبصورت گول مٹول سی بچی کو دیکھ کر عمران خان اسے اپنانے اور پیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے لیکن انھوں نے اس بچی کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا اور نہ ہی کبھی اس کی کفالت کی۔۔پھر جب وہ سیاست میں آئے اور وزیراعظم بننے کے لئے پر تولنے لگے تو انھوں نے ایسی کسی بچی کے وجود ہی کو ماننے سے انکار کر دیا جبکہ سب جانتے ہیں کہ عمران خان ایک پلے بوائے تھے۔ آکسفورڈ میں پڑھائی اور کرکٹ کے دنوں میں جب بھی وقت ملتا، وہ کلبز میں ہی پائے جاتے۔۔ اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے زیادہ متقی اور پرہیزگار شاید ہی کوئی اور ہو، پاکپتن کی پیرنی بشریٰ بی بی سے شادی کے بعد تو وہ صوفی بھی ہوگئے ہیں، دیکھیں ان کا یہ بھرم کب تک قائم رہتا ہے!!

کیا پاکستانی معیشت سنبھالنا بھی فوج کی ذمہ داری ہے؟

Back to top button