کیا عمران کو ٹھکانے لگانے کے لئے مارشل لاء لگانا پڑے گا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان کیخلاف انتہائی فیصلہ لینے کیلئے نگران سیٹ اَپ کو اَپ سیٹ کرنا پڑے گا۔ شاید مارشل لا کا سہارا ہی لینا پڑے کیوں کہ عدالتی نظام میں ماورائے آئین و قانون اقدامات ممکن نہیں۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ الله خان نیازی کہتے ہیں کہ اگرچہ موجودہ بحران کا بیج جنرل راحیل شریف کے دور میں ’’پروجیکٹ سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ کی صورت میں بویا گیا۔ یہ ہماری قومی بد قسمتی رہی ہے کہ ہمارے بیشتر فوجی سربراہ توسیع مدتِ ملازمت کے چکر میں ملک کو سیاسی عدم استحکام میں دھکیلنے میں حصہ بقدرِ جثہ ڈالتے رہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے بھی بتایا ہے کہ ’’وزیر اعظم نواز شریف اگر جنرل راحیل کو توسیع دے دیتے تو اُنکی حکومت کو دوام بخشا جاتا‘‘۔
ماضی میں آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کی توسیع اور ملکی سیاسی استحکام لازم و ملزوم رہے۔ جنرل باجوہ نے اپنی توسیع کیلئے ریاست کیساتھ اپنے ادارے کو بھی بھینٹ چڑھا دیا. حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان سیاست سے نابلد، عادات و اطوار کسی طور حکمرانی سے مطابقت نہیں رکھتے، اگر اقتدار میں آ گئے تو مملکت اور اپنی ذات دونوں کو ہلکان کر دیں گے۔ عمران خان نے اپنے 3 سال 7 ماہ 20 دن اقتدار میں، ایک لمحہـ ’’اٹک جیل‘‘ کا نہ سوچا ہو گا۔ شاید اقتدار سے علیحدگی کے بعد بھی ایک عرصہ تک صَرف نظر رہا۔ البتہ 29 نومبر اور پھر 9 مئی کے بعد اس یقین کیساتھ کہ اگر میری گرفتاری ہوئی تو ملک سنگین سیاسی بحران میں ہو گا، وارے میں تھا۔ ذوالفقار بھٹو 9مئی 1978ءکو راولپنڈی جیل منتقل ہوئے جہاں 5اپریل 1979ءکو پھانسی چڑھا دئیے گئے۔ اُنکے ’’آخری 323دنوں کی کہانی‘‘ کرنل رفیع الدین کی زبانی آخری دنوں کی مصدقہ دستاویز ہے۔ کرنل رفیع الدین اپنی سرکاری حیثیت کی وجہ سے بھٹو صاحب سے میل ملاقات میں آزاد تھے۔
کیا عمران خان ’’عوامی حمایت‘‘ کے زُعم میں زندگی کے آخری 323دن اٹک جیل پر اکتفا کرنے پر تیار ہیں . بھٹو بے پناہ مقبول رہنما تھے، لیکن دائیں اور بائیں بازو کی لڑائی میں مخالف سیاسی جماعتوں کا اثر و رسوخ بھی عوام الناس میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ سرد جنگ کا زمانہ، امریکی مفادات پاکستان میں مطلق العنانی کیساتھ وابستہ تھے ، افغان جنگ میں ڈالروں کی بوچھاڑ کے علاوہ جنرل ضیاء الحق کی حکومت کو خاطر خواہ سیاسی استحکام ملنے کی بے شُمار وجوہات تھیں۔ یقیناً پاکستان کے روشن درخشاں مستقبل کے بارے میں امدادی وعدے، وسائل کی بوچھاڑ چار سُو تذکرے موجود ہیں . حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق عمران خان کو ایک مد میں بھٹو پر سبقت حاصل ہے۔ عمران خان کی سیاست اور پبلک سپورٹ اپنے محالفین کے مقابلے میںبہت زیادہ ہے۔ نواب احمد خان قتل کیس مقدمہ بھی سائفر کیس سے زیادہ مضبوط تھا۔ عمران خان کیخلاف انتہائی فیصلہ لینے کیلئے نگران سیٹ اَپ کو اَپ سیٹ کرنا پڑے گا۔ شاید مارشل لا کا سہارا ہی لینا پڑے کیوں کہ عدالتی نظام کے ہوتے ہوۓ ماورائے آئین و قانون اقدامات وارے میں نہیں ایسا ہوا تو سیاسی استحکام کی دھجیاں بکھریں گی۔ 2014 ءمیں’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ پروجیکٹ ‘‘ کا آغاز ہوا تو ’’پروجیکٹ عمران خان‘‘ کی تزئین و آرائش و تکمیل میں سیاست بھینٹ چڑھ گئی۔ سیاست کے زندہ درگور ہونے پر ریاست کا جاں بلب ہونا بنتا تھا۔
الیکشن فروری میں تب ہی ممکن ہوں گے اگر عمران خان کا مکو ٹھپ دیا گیا۔ مگر کیسے؟ تو کیا تنگ آمد بجنگ آمد کے پیش نظر مارشل لا کے امکانات موجود ہیں؟ ایک کاوش دوسری کاوش کی مرہون منت ہوتی ہے اور پھرکاوشوں کا لا متناہی سلسلہ چل نکلتا ہے ، نتیجتاً عدم استحکام کی عمیق دلدل حاصلِ اعمال بنتی ہے۔ حفیظ الله خان نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کی آخری خواہش یہ ہے کہ ’اگر میں نہ رہوں تو ریاست نہ رہے‘ کہ شاید اس طرح اداروں سے بدلہ چُکایا جا سکے، یہ خواہش حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے۔ درخشاں پاکستان کا آرمی چیف کا خواب ہے تو ضرور مگر اسکا حصول کٹھن نظر آتا ہے کیوں کہ سیاسی استحکام کا سازو سامان دور دور تک میسر نہیں‘‘۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی موجودگی میں بے شُمار مملکتیں وجود کھو بیٹھیں ۔سیاسی استحکام کیلئے
آئین قانون کی حکمرانی اولین شرط ہے۔
