کپتان کھیل سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باہر ہو گیا؟

جب مورخ تحریک انصاف کے عروج و زوال کی روداد بیان کریگا تو نوک قلم ایک ہی جملے پر اٹک جائے گی کہ یہ تحریک دیوتا کی انا اور خودپسندی کی بھینٹ چڑھادی گئی .اگر تحریک انصاف ایک جمہوریت پسند سیاسی جماعت میں تبدیل ہوچکی ہوتی تو اسے توڑنا بھی ممکن نہ ہوتا۔عمران خان سیاسی قائد کی بجائے دیوتا کے روپ میں پیش کیا گیا اور تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کے بجائے ایک سیاسی جتھے میں تبدیل کردیا گیا، طفلان انقلاب کبھی بڑے ہوں گے یا نہیں ،اس حوالے سے تو کوئی بات وثوق سے نہیں کی جاسکتی البتہ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد یہ بچوں کو بتایا کریں گے کہ کبھی ہم بھی ’’ٹکرکے لوگ‘‘ہوا کرتے تھے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار بلال غوری نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کا انقلاب اپنے ہی سونامی کی بدمست لہروں میں غرقاب ہورہا ہے ۔ان کی شخصیت پیاز کی طرح تہہ در تہہ بے نقاب ہوتی جارہی ہے۔ ’’ہم کوئی غلام ہیں‘‘ جیسے نعرے انکے پیرو کاروں کامنہ چڑا رہے ہیں ۔بیانئے کا سحر ٹوٹ چکاہے ۔مقدر روٹھ چکاہے ۔تبدیلی کے خواب تار تار ہوچکے ہیں ۔امیدوں کے چراغ بجھ رہے ہیں ۔حالات کی ستم ظریفی دیکھیں ،قدرت مہربان تھی تو دوسروں کی خوبیاں مستعار لے کرعمران خان کے حوالے کردی گئیں اور آج ’’ان ‘‘ کا دست شفقت اُٹھ جانے کے بعد اپنی قائدانہ اور مقررانہ صلاحیتیں بھی کام نہیں آرہیں ۔تبدیلی کا وہ ٹائی ٹینک جو بڑے کروفر اور شان سے عازم سفر ہوا تھا اور ناقابل شکست دکھائی دیتا تھا ،آج کسی بوسیدہ نائو کی طرح ڈوب رہا ہے۔
بلال غوری لکھتے ہیں کہ کہاں وہ جذبہ شوق کہ پروانے اور مستانے جوق در جوق اُمڈ آیا کرتے تھے ،زمان پارک کے پاس جمگھٹا لگا رہتا ،کسی میلے کا سماں ہوا کرتا تھا،بڑے بڑے جغادری یہاں آکر طواف کیا کرتے ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے سرتوڑ کوشش کے باوجود کپتان کی گرد پا کو نہ چھو پاتے کیونکہ ان کے چاہنے والوں کا جم غفیر ہوا کرتا تھا۔سمجھانے والے نصیحت آمیز انداز میں خطرے کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتے تو عشاق اِترا کر مذاق اڑاتے ۔مگر اب ذاتی محافظوں کے حصار میں موجود حسرت ویاس کی تصویر بنے کپتان کے کان میں کوئی سرگوشی کرتا ہوگا۔
آئے عشاق ،گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لے کر
کہاں وہ دورکہ کپتان ایک ہی دن میں کئی وکٹیں اُڑایا کرتے تھے ۔جسے شرف باریابی نصیب ہو جاتا اوربنی گالہ بلا کر تحریک انصاف کے رنگا رنگ پرچم کی خلعت فاخرہ گلے میں ڈال دی جاتی ،وہ اپنی قسمت پر ناز کیا کرتا۔اور کہاں یہ دن کہ ٹکٹیں واپس ہورہی ہیں ہم سب کو اس سوال پر غور کرنا چاہئے کہ مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے والی تحریک انصاف اس حسرت ناک انجام سے دوچار کیوں ہوئی؟تیسری قوت کے طور پر ابھر کرسامنے آنے والی یہ سیاسی جماعت کیا اسی سلوک کی مستحق تھی؟ بلاشبہ عمران خان امیدوں اور توقعات کا مرکز تھے ۔ ناقدین کی بھی یہ خواہش رہی کہ تحریک انصاف سیاست میں توازن کی غرض سے ایک مضبوط اور مستحکم سیاسی جماعت بن پائے۔ ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت ایک تلخ حقیقت ہے۔
سیاسی جماعتیں کس طرح تشکیل پاتی ہیں ،پرندے کس طرح ایک منڈیر سے اُڑ کر دوسری جگہ جاتے ہیں ،اس سے انکار نہیں مگر حقیقی وجوہات کچھ اور ہیں، بلال غوری تجزیہ کرتے ہیں کہ بھٹوکی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کو کس طرح دیوار سے لگانے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی ۔12اکتوبر 1999ء کے بعد اور پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں مسلم لیگ (ن)کو کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ؟تما م تر کوشش کے باوجود بھٹو اور نوازشریف کی سیاست کو ختم نہ کیا جا سکا۔
اس سلسلے کی تازہ ترین مہم جوئی کے دوران تو مسلم لیگ (ن)سے الیکٹ ایبلز کو بھی علیحدہ نہیں کیا جاسکا اگر تحریک انصاف ایک جمہوریت پسند سیاسی جماعت میں تبدیل ہوچکی ہوتی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کی طرح اسے توڑنا بھی ممکن نہ ہوتا۔مگرافسوس، اسے کبھی سیاسی جماعت نہ بننے دیا گیا۔ جناب عمران خان سیاسی قائد کے بجائے دیوتا کی مسند پر متمکن ہوگئے ۔انہیں مہاتما کے روپ میں پیش کیا گیا ۔تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کے بجائے ایک سیاسی جتھے میں تبدیل کردیا گیا . بلال غوری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی پہلی غلطی یہ تھی کہ اکتوبر 2011ء کو مینار پاکستان پر کامیاب جلسے کے بعد اپنے نظریاتی اور دیرینہ ساتھیوں پر انحصار کرنے کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت آنے والوں کو ٹکٹ دے دیئے تاکہ وہ جلد ازجلد عنان اقتدار سنبھال سکیں۔
دوسری غلطی یہ تھی کہ اقتدار مل جانے کے بعد نیا پاکستان بنانے کے بجائے ساری توانائیاں نقش کہن مٹانے پر لگا دی گئیں یعنی اپنے سیاسی مخالفین کی سرکوبی کے علاوہ کچھ نہیں کیا گیا۔عاجزی و انکساری کے بجائے ان کی خودپسندی ،نخوت و تکبر میں مزید اضافہ ہوگیا۔آخری غلطی یہ ہوئی کہ اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان نے سب کچھ نیست و نابود کرنے کی ٹھان لی ۔حکومت ختم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ سب کچھ ختم ہوگیا۔اپنی اننگز کا انتظار کرنے کے بجائے وہ توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کرکے کھیل سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باہر ہوگئے۔ سیاستدانوں کیلئے گرفتاری ہرگز اچنبھے کی بات نہیں مگر انہوں نے آتش گل سے چمن ہی جلا ڈالااور قصہ پارینہ ہوگئے۔ایک تھی تحریک انصاف۔
