عمران نے جنر ل عاصم منیر کو بطورڈی جی ISI کیوں ہٹایا تھا؟

عمران خان کی جانب سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹانے کا معاملہ دوباہر زیر بحث ہے۔ ایک انگریزی اخبار دی ٹیلی گراف میں شائع کردہ ایک مضمون میں لکھا گیا ہے کہ جنرل عاصم منیر نے بحیثیت ڈی جی آئی ایس آئی عمران خان کو کہا کہ وہ ان کی اہلیہ اور ان کے ارد گرد دیگر لوگوں سے کرپشن کے الزامات کی تحقیقات چاہتے ہیں تو عمران خان نے جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹا دیا تھا حالانکہ ان کی سروس ابھی صرف 8 ماہ ہوئی تھی جبکہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوتی ہے۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کا یہ آرٹیکل اتنا اودھم نہ مچاتا بلکہ مسئلہ تو اس تردید سے بنا جو غیر متوقع طور پر عمران خان نے ٹیلی گراف کے آرٹیکل کو ٹیگ کر کے ٹویٹ کی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ایک ٹوئٹ میں عمران خان نے لکھا کہ دی ٹیلی گراف میں دیے گئے مضمون میں جو دعویٰ کیا گیا وہ غلط ہے کہ جنرل عاصم منیر نے مجھے میری اہلیہ کی کرپشن سے متعلق کوئی شواہد نہیں دکھائے تھے۔عمران خان نے مزید کہا کہ ان دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں کہ موجودہ آرمی چیف جب ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو انہوں نے مجھے بشریٰ بی بی کی کرپشن کے ثبوت دکھائے تھے اور میں نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا۔
عمران خان کی جانب سے اس حالیہ بیان کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ردعمل میں کہا کہ ’اگر آپ نے بشریٰ بی بی کی کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم منیر کو تبدیل نہیں کروایا تھا تو پھر کیا وجہ تھی؟ مریم اورنگزیب نے کہا کہ آپ کوئی اور وجہ نہیں دے سکتے کیوں کہ اصل وجہ یہی ہے۔دوسری جانب صحافی خرم حسین نے بھی عمران خان کی ٹویٹ پر جواب میں لکھا کہ ’اب جب ہم اس موضوع کی طرف آ چکے ہیں تو پھر آپ یہ کیوں نہیں بتا دیتے کہ آپ نے جنرل عاصم منیر کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی مستعفی ہونے کے لیے کیوں کہا تھا؟‘
واضح رہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو اس وقت یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان نے جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹا کر جنرل فیض حمید کو اس لیے ڈی جی آئی ایس آئی بنوایا تھا کہ جنرل عاصم منیر نے ان کو بشریٰ بی بی کی کرپشن کے ثبوت دکھائے تھے۔ اس حوالے سے 24 نیوز پر شائع کردہ اپنی ایک رپورٹ میں سینئر صحافی احمد منصور کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی گذشتہ ساڑھے تین سالوں سے اس بات کا مزہ کئی بار لے چکے کہ جب ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم کی بیگم کی فائلیں ان کے سامنے رکھیں گے تو یہ ریاست مدینہ تھوڑی ہے جو وزیراعظم اپنی بیگم کا خود احتساب کرنے کا حکم صادر فرمائیں گے۔ مرید کے سامنے مرشد پاک کی کرپشن کی فائلیں لے جانے والا ناقابل قبول اور ناپسندیدہ تو ٹھہرنا ہی تھا۔تو اب جب عمران خان نے ٹویٹ میں پرانی خبر کو تازہ کرنے والے آرٹیکل میں "وقوعہ” کو ہی جھٹلا دیا تو سوالات ہم بھی پوچھ لیتے، چاہے خان صاحب بتائیں نہ بتائیں، ہمیں یقین ہے، ان سوالات میں اتنا جادو ہے کہ ہر سوال ہی اپنا جواب خوددے گا۔
احمد منصور کا کہنا ہے کہ پہلی بات۔۔۔خان صاحب، اگر بشریٰ بی بی کی کرپشن کی فائلیں وجہ نہیں تو بطور وزیراعظم ڈی جی آئی ایس آئی کو ہٹانے کی کوئی تو وجہ ہو گی، وہ ہی بتا دیں؟سب جانتے ہیں ڈی جی آئی ایس آئی کی پوسٹنگ تو کم از کم دو سال کے لیے ہوتی، اس سے پہلے تبدیل کیا جانا بھی چہ میگوئیوں کا باعث بنتا اور مدت سے زیادہ رہنے کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی۔آخر آٹھ ماہ بعد ہی ایسا کیا ہوا کہ ہارڈ کور انٹیلی جنس افسر، جو ڈی جی ایم آئی بھی رہ چکا ہو، جو اس ذمہ داری کے لیے ہر حساب سے موزوں تھا، کو ہٹانے کے لیے آپ روز جنرل باجوہ سے رجوع کرتے تھے؟
کم و بیش ساڑھے تین سال سے یہ بات زیر گردش ہے، خاص کر گذشتہ ایک سال سے تو پاکستان میں یہ حقیقت زبان زدعام ہے، اخبارات میں آیا، آرٹیکلز لکھے گئے، وی لاگز ہوئے، ٹی وی پروگرام ہوئے۔ بلکہ ٹیلی گراف نے تو ایک جملہ لکھا۔ پاکستان میں تو ان فائلوں میں چھپی پوری کرپشن کہانی پر بات ہوئی، مگر تب تو آپ نے کبھی تردید نہ کی، آخر کیوں؟
خان صاحب، آپ کی بیگم کی کرپشن، کروڑوں کے ہار تو شاید قوم معاف کر دے لیکن پاک فوج سے دشمنی اور شہیدوں کی توہین کبھی معاف نہیں ہوگی۔سوال یہ ہے کہ 9 مئی اور بیگم کی کرپشن میں تو زمین آسمان کا فرق ہے۔کیا آج تردید کا مقصد اس لیے تو نہیں کہ آپ 9 مئی سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں؟ویسے تو خان صاحب آپ برطانیہ کے نظام انصاف کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے، ٹیلی گراف کے آرٹیکل سے اتنا ہی مسئلہ ہے تو ٹویٹ پر تردید کرنے کی بجائے ٹیلی گراف پر مقدمہ کیوں نہیں کرتے؟ وہاں تو ویسے بھی آپ کے سسر اور بیگم کے لاکھوں کروڑوں کے فنڈز موجود ہیں۔ مقدمہ کر کے اس بیانیے کو ٹھس کرنے کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟
اگر بشری بیگم کی کرپشن کے ثبوت نہیں ہیں اور آپ کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں تو پھر فرح گوگی کو کیوں بھگایا ہوا کہ وہ کہیں گواہ نہ بن جائے؟گنتی کریں تو غالبا یہ ساتواں سوال بنتا، جنرل عاصم منیر کو اگر ہٹایا نہیں تھا تو جنرل فیض کی ڈیمانڈ کیوں کی؟ایسی کیا کشش تھی جنرل فیض میں، کہ محض آٹھ ماہ بعد ایک بہترین افسر کو تبدیل کر دیا جائے؟جنرل عاصم منیر سے ایسا کیا خوف تھا کہ آپ اور آپ کے حواریوں نے پاکستان کے اندر، باہر ہر طرح کی مہم چلا کر ان کے آرمی چیف نہ بننے کے لیے پورا زور لگایا؟کیا صرف یہ ایک وجہ نہیں تھی کہ جنرل عاصم منیر نے آپ پر ثابت کر دیا تھا کہ جو وقت کے وزیراعظم کے سامنے اس کی بیگم کی کرپشن کی فائلیں رکھنے کی جرات رکھتا ہو، وہ آرمی چیف بن کر کرپشن کیسے برداشت کرے گا؟
عمران خان صاحب، آپ کے تو جھوٹ بولنے، یوٹرن لینے، اپنی بات سے مکر جانے کی ایک تاریخ ہے، جیسے شادی کی خبروں کو جھٹلایا، 35 پنکچر کے بیانیہ پر پورے ملک میں ہلچل مچائی اور پھر کہہ دیا یہ تو سیاسی بیان تھا، اسی طرح امریکی سازش کا جھوٹا بیانیہ گھڑا۔ ایک لمبی لسٹ ہے تو سوال یہ ہے کہ آپ کی اس بات پر کیسے یقین کر لیں کہ آپ نے جنرل عاصم منیر کو بیگم کی کرپشن سامنے لانے پر نہیں ہٹایا تھا؟
خان صاحب یہ تردید کسی کام کی نہیں۔ اس سے "بیانیہ” نہیں بننے والا۔تردید کر کے آپ کو کیا فائدہ ہو گا؟ چلو آپ سمجھتے کہ عوام آپ کی تردید کا یقین کر لیں گے، لیکن کیا اس سے جنرل صاحب مان جائیں گے، انہیں تو حقیقت کا پتہ ہے نا تو وہ کیسے تردید سے بہلنے والے؟جنہیں بطور ڈی جی آئی ایس آئی آٹھ ماہ میں ہی "سب کچھ” پتہ چل گیا تھا، اب جب وہ آرمی چیف ہیں، تو کیا ان کے سامنے آپ کی مزید اصلیت نہیں کھل چکی ہو گی؟اس لیے خان صاحب، ایسی تردیدوں، ادھر اودھر باتیں گھمانے اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ٹارگٹ کرنے اور کرانے سے کچھ نہیں بدلنے والا۔
