ڈرامہ ’’تیرے بن‘‘ اچانک تنقید کی زد میں کیوں؟

شائقین کی جانب سے پسندیدگی کے بعد ڈرامے ’’تیرے بن‘‘ نے ٹاپ ریٹنگ میں اپنا ریکارڈ قائم کیا ہے، لیکن تعریفوں میں رہنے والا یہ ڈرامہ گزشتہ کچھ دنوں سے تنقید کی زد میں آگیا ہے جس کی وجہ ڈرامے کے کچھ قابل اعتراض مناظر کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈرامے کی 46 ویں قسط کے آخری منظر نے دیکھنے والوں کو کشمکش کا شکار کر دیا، تیرے بن ڈرامے کی آخری دو متنازع اقساط نشر ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کیونکہ جہاں ڈرامے کے شائقین میرب اور مرتسم کے درمیان رومانوی منظر کی توقع کر رہے تھے وہیں دونوں کرداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی نفرت انگیز لہجے میں دکھایا گیا۔

میرب کا مرتسم  کو تھپڑ مارنا اور اس کے منہ پر تھوکنا مداحوں کو بالکل پسند نہ آیا، اس منظر میں مرتسم کہتا ہے کہ ’میری کیا اوقات ہے میں تمھیں ابھی بتاتا ہوں‘ اس کے بعد وہ کمرے کا دروازہ بن کر دیتا ہے تاہم سوشل میڈیا صارفین نے پہلے تو صرف میرب کے رویے پر دکھی ردعمل دیا لیکن معاملہ اس وقت مزید خراب ہوا جب شائقین نے آنے والی قسط کا پرومو دیکھا۔

آنے والی قسط کے پرومو کو دیکھ کر شائقین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ شاید مرتسم نے میرب کے ساتھ زبردستی کی ہے کیونکہ پرومو میں مرتسم کو پشیماں اور میرب کو غمزدہ صدمے میں دیکھا جا سکتا ہے تاہم سوشل پر یمنیٰ اور وہاج کے بعض مداح یہ توقع کر رہے ہیں کہ ’کاش یہ ایک خواب ہو‘ اور کہانی میں یہ منظر شامل نہ ہوں جبکہ بعض مداح نے ڈرامے کی مصنف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا سین لکھا ہی کیوں گیا۔

تاہم ڈرامے کی مصنفہ نوراں مخدوم کہتی ہیں کہ جو لوگ تنقید کر رہے ہیں میں ان کی رائے کا احترام کرتی ہوں بلکہ سب سے زیادہ میں انہیں کے تبصرے پڑھتی ہوں کیونکہ وہ تنقید کرنے کے لیے ہی کم از کم ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر لوگوں کی خواہش پر ڈرامہ کا اختتام صرف محبت پر ہی کرنا ہوتا تو وہ 22 قسطوں میں ہی ختم ہو جاتا۔ ہم نے ڈرامہ طویل اسی لیے رکھا تاکہ ڈرامے میں سارے جذبات شامل کیے جائیں۔

بشریٰ انصاری نے تنقید کا سلسلہ اپنے کردار سے شروع کیا ان کہنا تھا کہ ’ڈرامہ میں مجھے ہر وقت تیار بن ٹھن کر دکھایا گیا یہاں تک کے رات کے مناظر میں بھی میں تیار ہوئی بیٹھی تھی۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ ہم نے بہت پراجیکٹ کیے ہیں ہم نے ایسا ہی سیکھا ہے کہ ہر چیز منظر کے حساب سے ہونا چاہئے جس میں میری خود کی بھی غلطی تھی کہ بعض جگہ میں آواز نہیں اٹھائی۔

انہوں نے بتایا کہ آٹھ مہینے ڈرامے کی عکس بندی جاری رہی، کبھی بہت گرمی میں سین کیے، کبھی سخت سردی میں شوٹنگ ہوئی جو تھکا دینے والا عمل تھا، پراجیکٹ بہت اچھا ہے لیکن چیزیں بہتر ہوسکتی تھیں پروڈکشن یہ نہ سمجھے کہ ’لوگ چیونٹیاں ہے۔انہوں نے ڈرامے کے مختلف سین پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ ڈرامے کی کاسٹ کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاج جیسا تیرے بن میں تمیز دار نظر آیا ویسا ہی حقیقی زندگی میں بھی ہے جبکہ یمنی مٹھائی کی طرح میٹھی ہے۔

بشریٰ انصاری نے ہنستے ہوئے لہجے میں یہ بھی بتایا کہ ’سبینہ فاروق (حیا) کا ڈرامے میں کردار منفی ہے تو کچھ ایسے سین ہوتے تھے جن کی شوٹنگ کے دوران اسے اعتراض ہوتا تھا تو وہ کہتی تھی کہ میرا تعلق ایک اچھے سلجھے ہوئے خاندان سے ہے، میں یہ اس طرح کے سین نہیں کروں گی۔

Back to top button