عمران خان کی جلد گرفتاری اورنااہلی یقینی کیوں ہے؟

فروری میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیلئے سیاسی مصائب، آزمائشوں اور امتحان کا وہ نیا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے جسں کی ان کے مخالفین پیشگوئیاں اور انکے رفقاء اپنی قیادت کے بارے میں سرگوشیوں کرتے تھے۔ مستقبل قریب میں عمران کو اپنےکئے گئے غلط فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جو ان کی فوری گرفتاری یا نااہلی پر منتج ہو سکتے ہیں۔ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی قانونی جنگ کا آغاز ایک بار پھر سے ہو گیا ہے۔

سیاسی حلقوں میں یہ سوچ بلاوجہ پیدا نہیں ہو رہی بلکہ اسکا ایک قابل فہم اور منطقی تناظر بھی موجود ہے جن میں باالخصوص ان کیخلاف عدالتوں میں دائر بعض اہم مقدمات اور ریفرنس فیصلوں کے منتظر ہیں جن پر اہم پیشرفت کا آغاز ہوا ہے۔ 31جنوری کو توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ایک عدالت نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر رکھا تھامگر وہ پیش نہیں ہوئے، عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے اور عملدرآمد پر لیت ولعل سے کام لینے پر الیکشن کمیشن کے وکیل کی استدعا پر عدالت نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری تو جاری نہیں کئے۔تاہم فرد جرم عائد کرنے کیلئے 7 فروری کی تاریخ مقرر کر دی ہے جبکہ ممنوع فنڈنگ کیس میں وہ عبوری ضمانت پر ہیں گوکہ ضمانت میں چند دنوں کی توسیع تو کردی گئی ہے تاہم جج نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر 10 فروری کو عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے اور کوئی نئی درخواست لانے یا عدالتی حکم کو نظرانداز کرنے کے مترادف کوئی قدم اٹھایا گیا تو ضمانت خارج کردینگے۔

خیال رہے کہ عمران خان کے خلاف اس وقت ملک کی مختلف عدالتوں میں کئی مقدمات زیرسماعت ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان کے خلاف سب سے اہم توشہ خانہ کے تحائف اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے سے متعلق فوجداری مقدمہ ہے۔اسلام آباد کی سیشن عدالت الیکشن کمیشن کی درخواست پر عمران خان کا مبینہ طور پر کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہونے پر ٹرائل کر رہی ہے۔ اس کیس میں الیکشن کمیشن سابق وزیراعظم کو اثاثوں میں توشہ خانہ کے تحائف چھپانے پر ڈی سیٹ کر چکا ہے جبکہ فوجداری کارروائی کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 137 اور 170 کے تحت فوجداری مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس کیس میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں تین سال قید یا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ماہر قانون شاہ خاور کے مطابق فوجداری مقدمہ ثابت ہونے کی صورت میں نہ صرف سزا ہو گی بلکہ عمران خان پر نا اہلی کی تلوار بھی لٹک رہی ہے۔

عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ایک مقدمہ زیرسماعت ہے۔ جس میں ایک شہری نے سابق وزیراعظم کی جانب سے مبینہ بیٹی چھپانے کے خلاف کارروائی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔شہری کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں مبینہ بیٹی کو چھپایا ہے اس لیے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عدالت نے سابق وزیراعظم سے جواب طلب کر رکھا ہے تاہم ان کے وکیل نے متعدد بار جواب جمع کروانے کے لیے وقت مانگا ہے۔ عمران خان پر اس کیس میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں بھی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔شاہ خاور کے مطابق یہ کیس ثابت ہونے پر سابق وزیراعظم صادق اور امین نہ ہونے پر نااہل ہو جائیں گے کیونکہ درخواست گزار نے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا ہے اور وہ کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنا تاحیات نااہلی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے بینکنگ کورٹ میں دائر ایک مقدمہ زیرسماعت ہے۔2022 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیا گیا تھا جس میں پی ٹی آئی پر ممنوعہ سورس سے فنڈ حاصل کرنا ثابت ہوا ہے۔ایف آئی اے نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی ہے۔عمران خان بینکنگ کورٹ سے اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں تاہم آئندہ سماعت پر انہیں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کیس میں ایف آئی اے نے تاحال چالان جمع نہیں کرایا جبکہ پی ٹی آئی نے اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس کے بعد معاملہ ایک بار پھر الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کر دیے ہیں جس پر تحریک انصاف ایک بار پھر مفصل جواب جمع کرائے گی۔ الیکشن کمیشن جواب سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں ممنوعہ ذریعے سے حاصل کردہ فنڈز ضبط کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کی درخواست الیکشن کمیشن میں زیرالتوا ہے۔ تاہم اس نوعیت کی ایک اور درخواست لاہور ہائی کورٹ کے سامنے بھی موجود ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس معاملے پر الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ان کیسز کی وجہ سے ماہرین قانون کے مطابق عمران خان کی گرفتاری اور نااہلی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور امکانات کوتقویت ملتی ہے۔

آرمی چیف کا پشاور پولیس لائنز کا دورہ

Back to top button