عمران خان زمان پارک میں قید تنہائی کیسے کاٹ رہے ہیں ؟

سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروردی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان زمان پارک میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں . ویسے تو وہ پہلے ہی کافی مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ مزید کیا مشکلات کیا ہوں گی بس جیل جانا باقی ہے۔ جب کسی سیاستدان سے اس کے سیاسی ساتھی چھین لیے جائیں تو زندگی جیل ہی بن جاتی ہے۔ جیسے آج کل سیاستدان پی ٹی آئی کوچھوڑ کر جا رہے ہیں‘ ایسے میں لیڈر بظاہر آزاد رہ کر بھی جیل میں ہی ہوتا ہے۔ لہذا عمران کی آجکل کی زندگی بھی کسی جیل سے کم نہیں‘ وہ قید تنہائی میں ہی ہیں۔ اپنے ایک کالم میں مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ اب آگے کیا ہو گا؟ کیا گرفتاری ہو گی، یہ کوئی اہم سوال نہیں ہے ۔ قانون اپنا راستہ لازمی لے گا۔ بہتر بھی یہی ہے کہ قانون کو اپنا راستہ لینے دیا جائے۔ جب بھی کسی نے قانون کا راستہ روکا ہے اسے ہی نقصان ہوا ہے۔ نو مئی کو بھی پی ٹی آئی کی قیادت قانون کا راستہ روک رہی تھی۔ اس سے پہلے بھی جو مشکلات بڑھیں وہ قانون کا راستہ روکنے کی وجہ سے بڑھی ہیں۔ جتنے مقدمات بنے ہیں وہ سب قانون سے مزاحمت کی وجہ سے بنے ہیں۔ باقی سیاستدان پاگل نہیں وہ خود قانون کے سامنے سرنڈر کرتے ہیں۔ قانون کے سامنے سرنڈر کرنا سیاستدان کی پہلی نشانی ہے اور قانون سے مزاحمت قانون شکن ہونے کی نشانی ہے۔ سیاستدان کی پہچان یہی ہے کہ وہ غیر قانونی گرفتاری بھی دے دیتا ہے۔ زمان پارک کو جس طرح نو گو ایریا بنایا گیا وہ کوئی سیاسی حکمت عملی نہیں تھی۔ آج دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی ساری قیادت کو اس کا نقصان ہی ہوا ہے۔ ساری حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے۔ آج بغیر کسی بڑے آپریشن کے زمان پارک ویران ہے۔ اس لیے جو سیاستدان ایسا نہیں کرتے رہے ان کی عقل و دانش ہمارے سامنے ہے۔
مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت آج بھی بیرون ملک اپنے حامیوں سے جو کام لے رہی ہے۔ وہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ جس طرح پہلے سارے منصوبے ناکام ہو ئے ہیں‘ اب یہ منصوبہ بھی ناکام ہو جائے گا۔ پتہ نہیں کون یہ مشورہ دے رہا ہے کہ چند امریکی سنیٹرز کا خط یا چند بیانات ریاست پاکستان کو بے بس کر دیں گے۔ پی ٹی آئی والوں کو سمجھنا ہوگا کہ وہ ریاست سے نہیں ٹکرا سکتے۔ ‘ کل تک عمران خان امریکا مخالف تھے‘ آج امریکا کے کندھوں پر سوار ہیں۔ نہ کل ٹھیک تھا نہ آج ٹھیک ہے ۔ بیرونی مدد ایک حد تک کارآمد ہوتی ہے‘ آپ یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔ بلکہ ہار یقینی ہوجاتی ہے۔ مزمل سہروردی لکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آج کل بھی اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے کرنے اور بات کرنے کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے۔ پارٹی قائد ایک سال تواسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لا کر اپنی حمایت پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ لیکن دباؤ کے اس کھیل میں معاملات اتنے بگڑ گئے ہیں کہ اب مشکل سے نکلنا ناممکن نظر آرہا ہے تو بات چیت کے لیے بھیک مانگ مانگی جا رہی ہے۔ پہلے دباؤ ڈالا جا رہا تھا‘ اب منتیںکی جا رہی ہیں۔ لیکن بات بن نہیں رہی ہے۔ پی ٹی آئی کل بھی ملک کی سیاسی قیادت سے بات چیت کے لیے تیار نہیں تھی، آج بھی تیار نہیں ہیں یہی ان کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ نو مئی سے پہلے سب جماعتیں پی ٹی آئی سے بات چیت کی خواہاں تھیں لیکن سانحہ نو مئی کے بعد کوئی بھی بات کے لیے تیار نہیں۔ سیاست بے رحم کھیل ہے‘ اس میں کب کھیل آپ کے ہاتھ سے نکل جائے‘ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا‘ کھیل سابق وزیراعظم کے ہاتھ سے نکل گیا۔ وہ بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔پی ٹی آئی نے وہ کھیل کھیلا ہے جو سیاسی نہیں ہے‘ ایسے تو دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں۔ اب پی ٹی آئی کے کارکن اور لیڈر ایسے شکنجے میں آ گئے ہیں ‘جس سے نکلنے کے لیے انھیں ناک سے لکیریں نکالنی پڑ رہی ہیں لیکن پھر بھی بات نہیں بن رہی۔ انھوں نے جیسا کام کیا ہے ‘ویسے ہی سلوک ان کے ساتھ ہو گا۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے بہت تحریکیں چلی ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے ملکر بھی ایسی تحاریک چلائی ہیں۔ لوگوں نے بحالی جمہوریت کے لیے خود کو بھی آگ لگائی ہے۔ لیکن کسی نے کبھی فوجی تنصیبات کو آگ نہیں لگائی۔ شہداء کی عزت و حرمت برقرار رکھی گئی ہے مگر پی ٹی آئی قیادت اس منطق کو سمجھ ہی نہیں سکی۔ اس سے پہلے شہباز گل کے خلاف بھی جو مقدمہ درج ہوا تھا‘ وہ بھی فوج میں بغاوت کی کوشش کے حوالے سے ہی تھا۔ جو رد عمل نو مئی کو دیا گیا‘ وہ تب دینا چاہیے تھا‘ تب بہت نرمی دکھائی گئی‘ اسی وجہ سے نو مئی ہوا۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو ایک حوصلہ ملا کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ وہ سمجھے شہباز گل کمزور نکلے۔ اس لیے نئے گھوڑے تیار کرنے چاہیے۔ حالانکہ سوال گھوڑوں کے کمزور یا مضبوط ہونے کا نہیں تھا۔ سوال تھا کہ ان کو ایک موقع دیا گیا تھا۔ جو انھوں نے ضایع کر دیا۔ وہ نرمی کو اپنی طاقت سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ وہ پی ٹی آئی کے قائدین کبھی اتنے طاقتور نہ تھے کہ ریاست کو چیلنج کر سکتے۔
مزمل سہروردی کے مطابق سولو فلائٹ کی عادت تحریک انصاف کو لے ڈوبی لے بیٹھے گی۔آج بھی سولو فلائٹ ہی ان کا سب سے بڑ امسئلہ ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ پی ٹی آئی والوں کو فوری طور پر اپنے سیاسی مخالفین کے گھر چلے جانا چاہیے۔ لیکن کم از کم عمران خان اپنے ساتھیوں کی بات تو سنیں۔ جو ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے چھوڑنے کی بھی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ تحریک انصاف میں بات کرنے کا کوئی پلیٹ فارم ہی نہیں ہے . ساری جماعت بھی فرد واحد سے اختلاف کرے تب بھی اختلا ف کرنے کا کوئی پلیٹ فارم نہیں لہذا جب اختلاف کرنے کا راستہ بند تھا تو لوگوں کے پاس پارٹی چھوڑنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔ آج بھی عمران خان کو اپنی جماعت میں اختلاف کا راستہ کھولنا ہوگا۔ ورنہ ان کا بند گلی کا سفر تیز ہوتا

آئی ایم ایف نے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کر دیا

جائے گا۔ اس سفر کو روکنے کے لیے قیادت کے احتساب کی اجازت دینا ہوگی۔

Back to top button