کیا عمران خان سعودی ولی عہد کے ساتھ ملک چھوڑ جائیں گے؟

کرپشن اور ملکی راز افشا کرنے کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے اٹک جیل کے قیدی سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لئے سابق خاتون اول بشری بی بی اور اسٹیبلشمنٹ میں کوئی ڈیل نہیں ہوئی. عمران خان کی رہائی کے حوالے سے سعودی ولی عہد اور مغربی ممالک سے منسوب باتیں بھی غلط ہیں پاکستان تحریک انصاف کے یوٹیوبرز پارٹی کارکنوں کی امیدوں کو زندہ رکھنے کے لیے جعلی خبریں پھیلا رہے ہیں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی پوسٹس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ سینئر صحافی مزمل سہروردی نے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے اپنے شوہر اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے عرب ملک کے سفیر سے ملاقات کی۔ سفیروں سے ملاقات کر لینا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد کئی ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں بھی کیں تاہم جلد ہی انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے منسوب کرتے ہوئے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سعودی ولی عہد نے کہا ہے کہ میں پاکستان کی سرزمین پر تب تک قدم نہیں رکھوں گا جب تک عمران خان کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ اور عمران خان کو محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان سے قبل رہا کر دیا جائے گا۔ اور وہ عمران خان کو اپنے جہاز میں ساتھ لے جائے گا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ سب من گھڑت باتیں پی ٹی آئی کے حامیوں کی امیدیں زندہ رکھنے کے لیے کی جارہی ہیں۔ مزمل سہروردی نے کہا کہ ملاقاتیں ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اس سلسلے میں مدد کی پیشکش نہیں کرے گا۔موجودہ حالات میں کوئی بھی بیرونی ملک پاکستان سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث افراد کو معاف کرنے کی درخواست نہیں کرے گا۔ اس حوالے سے امریکا ، یورپ اور دیگر ممالک کی جانب سے واضح الفاظ میں کہ دیا گیا ہے کہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے سابق وزیراعظم عمران خان کو سائفر کیس میں ضمانت نہیں ملے گی۔ درحقیقت مذکورہ کیس میں ان کا ٹرائل جلدی ہوگا۔ جب تک پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان خلاف متعدد مقدمات درج ہیں، وہ جیل میں ہی رہیں گے۔
اٹک جیل میں ہونے والے سائفر کیس کی سماعت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سیکیورٹی خدشات کو دور کرنا واقعی ایک اچھا قدم ہے۔اس پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو نگران حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ہمیشہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور انہوں نے ان بنیادوں پر متعدد سماعتیں ملتوی کی گئیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین کی قانونی ٹیم کی جانب سے عمران خان کے جیل میں ٹرائل کے خلاف درخواست دائر کی گئی جو کہ ٹرائل کو طول دینے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ دوسری جانب سینئر صحافی حسن ایوب کا کہنا ہے کہ عام انتخابات سے قبل کم از کم تین مقدمات میں عمران خان کو سزا سنا دی جائے گی۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ایک ماہ سے ایک سال تک رہائی مشکل نظر آ رہی ہے کیونکہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت جو ترامیم ہوئی ہیں ان کے تحت خصوصی عدالت نے 30 دن کے اندر اندر ٹرائل مکمل کرنا ہے۔ لہٰذا توقع ہے کہ جتنے ثبوت موجود ہیں سائفر کیس کا ٹرائل 30 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا اور جس طرح عمران خان نے سائفر کے معاملے پر کھیلا ہے ان پر فرد جرم عائد ہو جائے گی۔ حسن ایوب کے مطابق سائفر کیس میں سزا کے دورانیے سے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم بعض وکلا کا کہنا ہے کہ عمران خان کو 2 یا 3 سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ چند دیگر وکلا کی رائے ہے کہ انہیں 7 سال کی سزا یا پھر عمر قید بھی ہو سکتی ہے۔ جبکہ دیگر وکلا یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مذکورہ مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی کو سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔ ایک عدالتی نظیر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی پر ایک بریگیڈیئر کو سزائے موت بھی ہوئی تھی اور ایک جنرل صاحب کچھ عرصہ قبل ہی سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے باہر آئے ہیں۔ حسن ایوب کا کہنا ہے کہ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان 164 کا اقبالی بیان دے چکے ہیں جس کے مطابق عمران خان نے سیاسی مفاد کے لئے سائفر پر کھیلا۔ ان کی اس کیس میں گواہی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ پھر ان کی آڈیو بھی بہت بڑا ثبوت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی سائفر کا بوجھ اٹھاتے ہیں یا عمران خان پر ڈالتے ہیں جو کہ ممکنہ طور پر عمران خان کی سزا کی طرف اشارہ ہے۔

حسن ایوب نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا نام لیے بغیر بتایا کہ سائفر والے معاملے پر ایک ایسی شخصیت بھی ہیں جو عمران خان کے خلاف گواہی دے دیں گے۔ ان کے ‘پیرنٹ ادارے’ کی جانب سے کوشش ہو رہی ہے تو اس صورت میں عمران خان کا سوا ستیاناس ہو جائے گا۔ اس اہم شخصیت کی گرفتاری کی افواہیں تو چل رہی ہیں لیکن گرفتاری کا امکان نہیں۔ انہیں سمجھا کر عمران خان کے خلاف گواہی کے لیے آمادہ کیا جا رہا ہے۔ حسن ایوب کے مطابق سائفر کے علاوہ عمران خان پر 9 مئی والا کیس بھی ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ ان کے خلاف اہم ثبوت بھی موجود ہیں اس لیے اس کیس میں بھی ان کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ عام انتخابات

فیس بک پر بلیو ٹک کا حصول ہر ایک کے لیے ممکن ہوگیا

سے قبل کم از کم تین مقدمات میں عمران خان کو سزا سنا دی جائے گی۔

Back to top button