عمران کو فوج کے خلاف کھلی چھٹی کیوں دی گئی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رضا رومی نے کہا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے بعد کے 34 برسوں میں کبھی کسی ‘معزول’ وزیر اعظم کو فوج مخالف بیانیہ اپنانے کی اتنی کھلی چھوٹ نہیں ملی تھی جتنی عمران خان کو دی گئی، لیکن بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس حکومت مخالف تحریک کے ذریعے نومبر 2022 میں ہونے والی نئے آرمی چیف کی تقرری پر اثر انداز ہونا تھا۔ انکا کہنا یے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر دو دھڑوں کی باہمی چپقلش میں عمران نے بھی حصہ ڈالا اور اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانے کی سازش کی۔ اسی لیے ستمبر 2022 میں عمران کی زبان پھسل گئی اور ان کے منہ سے اصل بات نکل گئی، جب انہوں نے مطالبہ کر دیا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری ان کا اختیار ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو قائد حزب اختلاف کو اس فیصلہ سازی کے عمل میں حصہ دار بننے کی اجازت دیتا ہو لیکن عمران خان اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ان کے جذباتی حمایتی ایسی کوئی دلیل نہیں سن رہے تھے اور متواتر اس کے برعکس سوچ رہے تھے۔

نیا دور کے لیے اپنے خصوصی تجزیے میں رضا رومی کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم جماعتوں کی نئی نئی آنے والی حکومت عمران خان کے اس مطالبے کے سامنے ہرگز جھکنے کو تیار نہ ہوئی۔ اس نے تحمل سے نومبر کے آنے کا انتظار کیا جب وہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے ذریعے اپنا ٹرمپ کارڈ کھیلنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ یوں 27 نومبر کو وزیر اعظم شہباز شریف ایسا آرمی چیف تعینات کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ نہ ہی عمران کا منظور نظر ہے اور نہ ہی فوجی اسٹیبلشمنٹ میں عمران کے خیر خواہوں کی مرضی کا آدمی ہے۔ ایک نسبتاً غیر سیاسی آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد ایک نئی شروعات ہوئی۔ نئے چیف کے بارے میں خبریں ہیں کہ وہ حالیہ دنوں میں اپنے گھر کے اندرونی معاملات ٹھیک کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے میں مصروف ہیں۔ رضا رومی کہتے ہیں کہ غیر یقینی صورت حال سے بھرپور پاکستان کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ فوج سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے دستبردار ہو گئی ہے۔ تاہم ادارے نے یقینی طور پر ایک سبق سیکھ لیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ناقابل اعتبار اور غیر مستقل مزاج گھوڑے پر شرط لگانے میں قطعاً کوئی دانش مندی نہیں ہے۔ سیاسی معاملات سے ایک حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کرنے کا سلسلہ سال 2023 میں بھی چلتا رہے گا۔ تاہم یہ مرحلہ قلیل مدتی نوعیت کا ہو گا کیونکہ معاشرے اور سیاست میں تفاوت کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے اور شہری طبقہ بھی اصول و ضوابط کے مطابق چلنے والے کسی مربوط طاقت کے مرکز کے طور پر منظم ہونے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔

رضا رومی کے خیال میں اس رسہ کشی کا سب سے زیادہ نقصان فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اٹھانا پڑا کیونکہ اس کے نتیجے میں معاشرے میں موجود ان کے وقار اور غیر معمولی حیثیت میں کچھ نہ کچھ کمی ضرور واقع ہوئی۔ عمران خان حقیقی اور غیر حقیقی دونوں طرح کی تقسیم پیدا کرنے کے پینترے کھیل کر ہمیشہ کے اتحادیوں یعنی متوسط طبقے اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین پھوٹ پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔ دھڑے بندی کی ان افواہوں نے سوشل میڈیا پر بہت پذیرائی حاصل کی اور نئے فوجی سربراہ کی تقرری کے بعد دو جرنیلوں کے استعفے نے ان قیاس آرائیوں کو اور بھی تقویت بخشی۔ کینیا میں صحافی اور اینکر ارشد شریف کے بہیمانہ قتل، عمران خان پر حملے اور پی ٹی آئی کی جانب جھکاؤ رکھنے والے صحافیوں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کے اندراج نے اسٹیبلشمنٹ مخالف جذبات کو مزید ابھارا۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا مقابلہ نئے آرمی چیف کو کرنا ہو گا۔

رضا رومی کہتے ہیں کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل طویل مدتی نگران سیٹ اپ لانے کے بارے میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ اس حربے کی کامیابی کے قطعاً کوئی امکانات نہیں ہیں۔ ٹیکنوکریٹس کی قانونی حیثیت بھی کمزور ہو گی اور انہیں ممکنہ طور پر تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ اس طرح کے تجربے سے توازن پھر سے فوج کے حق میں چلا جائے گا اور یہ امر لازمی طور پر نواز شریف اور عمران خان دونوں کے لئے ناقابل برداشت ہوگا۔

پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں خوش آمدید کہیں گے

Back to top button