عمران نے باجوہ سے خفیہ ملاقات میں حکومت گرانے کو کہا

جنرل قمر باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ پہلے جب ایوان صدر میں عمران خان سے خفیہ ملاقات کی تو سابق وزیراعظم نے ان سے فرمائش کی کہ جنرل صاحب پلیز شہباز حکومت کا خاتمہ کر دیں، اس کے جواب میں آرمی چیف نے خان صاحب کو بتایا کہ انکے پاس منتخب حکومت ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس موقع پر جنرل باجوہ نے اپنی تخلیق سے یہ گلہ بھی کیا کہ آپ تو ہمیں غداروں اور جانوروں سے تشبیہ دیتے ہیں، جس پر عمران نے یہ جھوٹا موقف اپنایا کہ وہ یہ دونوں القاب نواز شریف اور شہباز شریف کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں جنرل باجوہ سے انکی رہائش گاہ پر 6 گھنٹے طویل ملاقات کرنے والے سینئر صحافی جاوید چوہدری نے اپنی تازہ تحریر میں یہ انکشاف کرتے ہوئے عمومی تاثر کے برعکس یہ دعوی ٰکیا ہے کہ جنرل باجوہ کو عہدے میں توسیع کے لئے مسلسل پیشکشیں ہوئیں لیکن وہ انکاری رہے۔ تاہم حکومتی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن کے لیے آخری دنوں میں بھی شدید دباؤ ڈالا اور مارشل لاء لگانے تک کی دھمکی دی لیکن حکومت انہیں توسیع دینے سے انکاری رہی۔ حکومتی ذرائع یاد دلاتے ہیں کہ جنرل مشرف نے چھ ماہ تک عمران خان سے گالیاں کھانے کے باوجود ایوان صدر میں ان سے خفیہ ملاقات کی جس کے بعد خان صاحب نے ان کے عہدے میں الیکشن کے بعد نئی حکومت کے قیام تک توسیع کی تجویز پیش کر دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے یہ تجویز جنرل باجوہ کی خواہش پر دی گئی لیکن حکومت نے اسے مسترد کردیا اور یوں موصوف کو گھر جانا پڑا۔

جاوید چوہدری کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کیساتھ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے تنازعے پر تعلقات خراب ہونے کے بعد انہیں راضی کرنے کے لیے تین مرتبہ ایکسٹینشن کی آفر کی۔ یہ آفرز تب کی گئیں جب وہ وزیر اعظم تھے اور ان کا مقصد اپنے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانا تھا۔ بقول جاوید چودھری، توسیع کی دو آفرز مارچ 2022 میں کی گئیں‘ پہلی پیش کش اسد عمر آرمی چیف کے پاس لے کر آئے گئے‘ ان کا کہنا تھا آپ نئے قانون کے مطابق 65 سال کی عمر تک آرمی چیف رہ سکتے ہیں‘ ہم توسیع کا نوٹی فکیشن جاری کر دیتے ہیں، آپ آرمی چیف رہیں اور خان کی حکومت برقرار رہنے دیں‘ لیکن جنرل باجوہ نے یہ پیش کش ٹال دی‘ اس کے چند دن بعد پرویز خٹک ڈی جی آئی ایس آئی کے دفتر گئے اور محفوظ لائن کے ذریعے جنرل باجوہ سے بات کرتے ہوئے انھیں غیر معینہ مدت تک ایکسٹینشن کی آفر کر دی، یہ آفر عمران مخالف تحریک عدم اعتماد سے چند دن پہلے کی گئی تھی۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے امریکا کا سائفر اس وقت تک عمران کے پاس پہنچ چکا تھا اور وہ باجوہ کے ’میرجعفر‘ اور’ میر صادق‘ ٹائپ کردار سے بھی اچھی طرح واقف ہو چکے تھے لہٰذا پھر تاحیات آرمی چیف بنانے کی آفر کیوں کی گئی؟ اس کا واحد مقصد اپنی حکومت بچانا ہی ہو سکتا ہے۔ پرویز خٹک کے ذریعے پی ٹی آئی کا آخری وقت تک جنرل باجوہ سے رابطہ رہا۔ باجوہ نے عدم اعتماد سے پہلے اپوزیشن کو تحریک واپس لینے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن پی ڈی ایم کی قیادت نے انکار کر دیا۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں جب حکومت تبدیل ہو گئی تو عمران خان نے جنرل باجوہ کو غدار ‘ میر جعفر اور میر صادق قرار دے دیا، لیکن پھر موصوف نے اسی غدار سے ایوان صدر میں دو خفیہ ملاقاتیں کیں۔صدر علوی اپنے کپتان کا پیغام لے کر جنرل باجوہ کے پاس گئے اور اصرار کیا کہ آپ صرف ایک بار خان صاحب سے ضرور مل لیں۔

جنرل باجوہ نے جواب دیا‘ عمران کسی بھی وقت آرمی چیف ہاؤس آ سکتے ہیں، مگر یہ آپشن عمران کو سوٹ نہیں کرتا تھا‘ لہٰذا صدر کے ذریعے پیشکش کی گئی جنرل باجوہ پرویز خٹک کے گھر آ جائیں‘ جواب دیا گیا‘ آرمی چیف کے ساتھ سکیورٹی ہوتی ہے‘ وہ جب پرویز خٹک کے گھر جائیں گے تو پوری دنیا کو علم ہو جائے گا، چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ ملاقات ایوان صدر کے رہائشی زون میں ہو گی۔ اس دوران ایسا مرحلہ بھی آیا جب صدر علوی کو کہا گیا کہ ’’سر آپ جانوروں سے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟‘‘ اس پر دوسری جانب سے ہنسی کی آواز آئی  بہرحال ایوان صدر کے رہائشی علاقے میں رات کے وقت آرمی چیف اور عمران کی دو ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں عمران کے ساتھ شبلی فراز جب کہ جنرل باجوہ کے ساتھ ڈی جی سی میجر جنرل عرفان تھے۔ تاہم یہ دونوں حضرات ملاقات کے کمرے میں داخل نہیں ہوئے۔

جاوید چودھری بتاتے ہیں کہ عمران اور باجوہ کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئیں اور یہ پونے پونے گھنٹے کی تھیں‘ ان ملاقاتوں میں عمران سے پوچھا گیا کہ سر کیا میں آپ کو واقعی میر جعفر اور میر صادق لگتا ہوں۔ عمران کا جواب تھا کہ میں نے آپ کو نہیں کہا تھا، میں ہمیشہ نواز شریف اور شہباز شریف کو میر جعفر اور میر صادق کہتا ہوں‘ دوسرا نقطہ عمران نے فرمائش کی کہ جنرل صاحب! آپ بس شہباز حکومت کو گرا دیں، اسے فارغ کر دیں۔ جنرل باجوہ نے جواب دیا! میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں‘ یہ ایک الیکٹڈ حکومت ہے‘ میں یہ غیر آئینی کام کیسے کر سکتا ہوں؟ آپ صدر علوی کا مشورہ مانیں اور اسمبلی واپس جائیں‘ اتحادیوں کو دوبارہ اپنے ساتھ ملائیں اور اپنی حکومت بنا لیں‘ آپ کے پاس جمہوری راستہ موجود ہے‘ لیکن ہم آپ کی مدد نہیں کر سکیں گے، یوں یہ دونوں ملاقاتیں کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئیں۔

لیکن جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ عمران نے ان ملاقاتوں کے بعد 12 ستمبر کو کامران خان کے شو میں یہ تجویز دی کہ جنرل قمر باجوہ الیکشن تک ایکسٹینشن لے لیں‘ نئی حکومت آئے اور وہ نئے آرمی چیف کا تعین کر لے‘ اس انٹرویو کے بعد پریشر آیا تو پی ٹی آئی نے اس بیانیے کو غلط اور سیاق وسباق سے ہٹ کر قرار دے دیا مگر چند دن بعد اس سے ملتی جلتی آفر صدر علوی نے بھی باجوہ کو کر دی جو کہ ایکسٹینشن کی تیسری آفر تھی، لیکن آرمی چیف کی جانب سے اسے بھی مسترد کر دیا گیا۔ لیکن جاوید چوہدری کے اس دعوے کے برعکس حکومتی حلقے بتاتے ہیں کہ عمران کی جانب سے جنرل باجوہ کے لئے ایک اور ایکسٹینشن کی تجویز حکومت نے مسترد کر دی تھی اور اسے آرمی چیف کی جانب سے پریشر ڈالنے کا حربہ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 5 اکتوبر کو جنرل باجوہ نے بھی واشنگٹن میں ایک تقریب میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں خوش آمدید کہیں گے

Back to top button