پرویز الٰہی کے اعتماد کے ووٹ میں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نہیں

تحریک انصاف کے چیئرمین  وسابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے لیے اعتماد کے ووٹ میں اسٹیبلشمنٹ ہمیں نیوٹرل نظر نہیں آرہی۔

صحافیوں کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تیاری کر رہے ہیں کہ 11 جنوری کو عدالت اگر فوری اعتماد کے ووٹ کا کہے تو ہم تیار ہوں۔

انکا کہناتھا اعتماد کے ووٹ میں اسٹیبلشمنٹ ہمیں نیوٹرل نظر نہیں آرہی، ہمارے لوگوں کو اپروچ کیا جا رہا ہے ابتک تین لوگ اس حوالے سے بتا چکے ہیں، پرویز الہی اور ہم اتحادی ہیں جنرل باجوہ کے بارے میں ان کا اپنا موقف ہے اور ہمارا اپنا موقف ہے، پرویز الہیٰ ہمیں ہمارے موقف سے ہٹنے کےلیے نہیں کہہ سکتے، ہماری لڑائی اسٹبلشمنٹ سے نہیں ہے بلکہ انصاف کے حصول کےلیے ہے۔

عمران خان نے کہا کہ چوروں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اگر اقتدار میں آئے تو فوری بلدیاتی الیکشن کرائیں گے، جنرل باجوہ کرپشن کو برا نہیں سمجھتے تھے اس لیے تمام مقدمات ختم ہوگئے، لوٹوں کی ایکسپائری ڈیٹ ختم ہوچکی ہے، ملک میں جنگل کا قانون ہے انصاف کی ضرورت امیر کو نہیں غریب کو ہوتی ہے۔

احسان فراموش عمران لوگوں کو ٹشو پیپر کیوں سمجھتا ہے؟

Back to top button