عمران کی دھمکی کے بعد پرویز الٰہی کا مستقبل خطرے میں

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے پرویز الٰہی کو 11 جنوری سے پہلے اعتماد کا ووٹ لینے کی وارننگ ملنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب سخت مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ عمران خان نے دھمکی دی ہے کہ اگر پرویز الٰہی نے 11 جنوری سے پہلے پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی مستعفی ہو جائیں گے اور یوں انکی وزارت اعلیٰ ختم ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ عمران خان نے پنجاب کے حوالے سے نئی حکمت عملی اپناتے ہوئے اپنے پارٹی اراکین کو ہدایت کی ہے کہ اگر پرویز الٰہی کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی تحلیل میں رکاوٹ ڈالی جائے اور معاملہ لٹکانے کی کوشش کی جائے تو پی ٹی آئی اراکین اسمبلی مستعفی ہو جائیں۔
اس تنازعے کا آغاز تب ہوا جب چوہدری پرویز الٰہی نے 5 جنوری کو یہ اعلان کیا کہ وہ گورنر پنجاب کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کے حکم نامے کو غیر آئینی تصور کرتے ہیں انکا پنجاب اسمبلی سے 11 جنوری سے پہلے اعتماد کا ووٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ پرویز الٰہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف والے سوچے سمجھے بغیر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ میں 9 جنوری کو اعتماد کا ووٹ لونگا حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف والے عقل کو ہاتھ ماریں اور ذرا سوچیں کہ میں گورنر کے غیر آئینی حکمنامے پر کیوں عمل کروں گا۔ ہم تو اس حکم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ گئے ہوئے ہیں جہاں ہمارا کیس چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ورنہ 25 مئی کے پولیس تشدد کے بعد ان کی جو حالت تھی وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔
دوسری جانب پرویز الٰہی کی مشاورت سے پنجاب اسمبلی کے 9 جنوری کو بلائے گئے اجلاس کا جو ایجنڈا جاری کیا گیا ہے اس میں 16 جنوری تک اعتماد کا ووٹ لینے کا ذکر موجود نہیں حالاں کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ 9 جنوری کو پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیں گے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان وزیراعلیٰ پنجاب پر اعتماد نہیں کر رہے کیونکہ ان کے صاحبزادے مونس الٰہی بھی ایک ہفتہ پہلے بیرون ملک جانے کے بعد ان سے رابطے میں نہیں آ رہے۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کے موڈ میں نہیں اور اسی لیے مسلسل تاخیری ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اسی لیے تحریک انصاف نے نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے جسکے بعد تمام پارٹی اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ 11 جنوری سے قبل اعتماد کا ووٹ لینے کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس کے فورا ًبعد پنجاب اسمبلی کو تحلیل کیا جا سکے۔ عمران نے ہدایت کی ہے کہ اگر پرویز الٰہی کی جانب سے اسمبلی کی تحلیل میں مزید رکاوٹ ڈالی گئی تو پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی سے مستعفی ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے 11 جنوری کو طلب کیا گیا تھا تاہم بعد میں اجلاس کی تاریخ بدل کر 9 جنوری رکھ دی گئی۔وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا اس حوالے سے کہنا ہے مجھے اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے جبکہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا ہے اگر چوہدری پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لے لیتے ہیں تو اسمبلی تحلیل کرنا ان کا حق ہے۔ پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کے مطابق بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ لینے کی پوزیشن میں نہیں چونکہ تحریک انصاف کے درجن سے زائد اراکین اسمبلی باغی ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے اب تک انہیں یہ ضمانت نہیں دی کہ اگر وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو نمبرز گیم پوری ہو جائے گی۔ پرویز الٰہی کا موقف ہے کہ انہوں نے گورنر کے حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے اور جب تک انہیں عدالت اعتماد کا ووٹ لینے کا نہیں کہتی، انہیں اس پنگے میں پڑ کر اپنی عزت دائوپر لگانے کا رسک نہیں لینا چاہیے۔ لیکن عمران کی جانب سے وارننگ ملنے کے بعد اگر ان کے اراکین پنجاب اسمبلی مستعفی ہو جاتے ہیں تو پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں پرویز الٰہی کے لیے آگے کھائی ہے اور پیچھے کنواں، ایسے میں اس امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا کہ پرویزالٰہی حکومت سے مکمل طور پر فارغ ہونے کی بجائے پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ ملا لیں اور انکی سپیکر شپ کی آفر قبول کر کے عمران خان سے سیاسی راہیں جدا کر لیں۔
