اسحاق ڈار کو چارج شیٹ کرنے کے بعد مفتاح شرمندہ

ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو چارج شیٹ کرتے ہوئے لالچی شخص قرار دینے کے بعد سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ انھیں افسوس ہے کہ انھوں نے ڈار کے مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے ’تعلقات‘ کا ناگوار انداز میں ذکر کیا۔یاد رہے کہ مفتاح نے کہا تھا کہ اسحاق ڈار کو وزیر بننے کا بہت زیادہ شوق تھا۔ وہ آخر کار وزیر خزانہ بن بھی گئے کیونکہ وہ نواز شریف کی بیٹی کے سسر بھی ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے میرے خلاف سازش کی جس کے بعد پارٹی قیادت نے مجھے لندن بلاکر 16 لوگوں کے سامنے بےعزت کرتے ہوئے وزارت سے فارغ کیا جو کسی بھی صورت مناسب نہیں تھا۔مفتاح اسمعیل نے کہا کہ وزیر خزانہ بننا ’ڈار صاحب کا ذاتی مقصد تھا‘ اور انھوں نے ان کے خلاف ’چھ ماہ تک مہم چلائی۔
خیال رہے کہ اپریل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت جانے کے بعد مفتاح پی ڈی ایم حکومت کے وزیر خزانہ بنے تھے مگر انھیں اس عہدے سے ہٹا کر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا تھا۔گذشتہ سال وزیر خزانہ بننے سے قبل اپنے انٹرویوز میں اسحاق ڈار پیٹرول اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھانے پر مفتاح اسماعیل کی مخالفت کرتے تھے۔ انھوں نے وزیر خزانہ بننے پر یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ وہ ڈالر کی قدر کو 200 روپے سے نیچے لا سکتے ہیں۔ تاہم اب مفتاح نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ انھیں اپنے بیان پر افسوس ہے اور انھیں ان کی غلطی کا احساس سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق پرنسپل سکریٹری فواد حسن فواد نے کروایا۔
مفتاح اسماعیل کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگی رہنما مصدق ملک نے کہا ہے کہ بہتر ہوتا اگر وہ اسحاق ڈار سے براہ راست یہ بات کرتے، بجائے کہ میڈیا اور عوام میں آ کر یہ بات کہتے۔ اس سے پہلے ایک انٹرویو دیتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ میری کارکردگی سے وزیر اعظم خوش تھے، وہ نہیں چاہتے تھے کہ مجھے ہٹایا جائے۔ انھوں نے وفاقی کابینہ میں بھی میری تعریف کی۔ دنیا کی مارکیٹیں بھی خوش تھیں اور ہمارا ڈیفالٹ رِسک بھی کم ہوگیا تھا۔ آئی ایم ایف سے ڈیل بھی ہوگئی تھی لیکن یہ فیصلہ پارٹی نے کرنا ہوتا ہے کہ کون کب تک اور کس پوزیشن پر وفاقی کابینہ میں خدمات سرانجام دیتا ہے۔ مفتاح نے دعویٰ کیا کہ ’چھ ماہ تک اسحاق ڈار نے میرے خلاف مہم چلائی تھی۔ وہ آ کر ٹی وی پر بولتے تھے کہ ڈالر 160 روپے کا کر دیں گے۔ میرے خلاف پروگرام کروائے جاتے تھے۔ وہ مجھے ’انڈر مائن‘ کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کو وزیر بننے کا بہت زیادہ شوق تھا۔ انھوں نے میاں صاحب سے کہا کہ میں ڈالر بھی سستا کر دوں گا، پیٹرول بھی سستا کر دوں گا، دودھ اور شہد کی نہریں بھی بہا دی جائیں گی۔ لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ مفتاح کو ہٹا دو۔
جب مفتاح پوچھا گیا کہ آیا انھیں نواز شریف یا پارٹی کے فیصلے پر مایوسی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ مجھے اس کا کوئی غم نہیں کہ مجھے ہٹایا مگر جس طریقے سے ہٹایا وہ طریقہ صحیح نہیں تھا۔ مفتاح نے کہا کہ اسحاق ڈار سے نہیں دیکھا گیا کہ کوئی اور آدمی وزیر خزانہ بنے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن میں انھیں ہی وزیر خزانہ ہونا چاہیے۔فارغ کیے جانے سے پہلے میں ملک سے باہر تھا، میں امریکہ سے لندن آیا تو مجھے میاں صاحب نے درجن بھر لوگوں کے سامنے وزارت سے نکالا، یہ کوئی باعزت طریقہ نہیں تھا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو اچھا سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں ’بس وزیر اعظم بننے کا شوق ہے۔ اس کے بعد کیا کرنا ہے، کوئی آئیڈیا نہیں۔‘ ان کہنا تھا کہ ’خان صاحب آج کچھ کہتے ہیں، کل کچھ اور۔۔۔ ان کے چار سال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔‘ انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ کھڑا نہ رہا تو ملک کے ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔لیکن بعد ازاں انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ’میں نے ڈار صاحب کے پارٹی قیادت سے تعلقات کا جو ذکر کیا اسے میڈیا نے سپن دیا اور مجھے اس پر پچھتاوا ہے،میں فواد حسن فواد اور شاہد خاقان عباسی کا شکر گزار ہوں، جنھوں نے مجھے میری غلطی کے بارے میں بتایا۔ مفتاح نے کہا کہ ’میرا مقصد فقط سچ بیان کرنا تھا، کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتا تھا۔انھوں نے کہا کہ اگر ان سے غلطی ہوئی تو انھیں اس کو تسلیم کرنا چاہیے۔
