آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟

پاکستان کی اعلیٰ فوجی اور سیاسی قیادت اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب ہی کا رخ کرتی ہے اور جنرل عاصم منیر نے بھی یہی کیا ہے جس کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے کثیر الجہتی تعلقات اور پاکستان کی ضروریات ہیں۔

فوج میں ملازمت کے دوران بطور لیفٹیننٹ کرنل سعودی عرب میں خدمات سر انجام دینے والے جنرل عاصم منیر ایک ایسے وقت سعودی عرب پہنچے ہیں جب پاکستان کو ایک بار پھر سنگین معاشی چیلنجزکا سامنا ہے اور اسلام آباد پھر سے سعودی قیادت کی جانب دیکھ رہا ہے تا کہ وہ اسے معاشی بحران سے نکالنے میں مدد کرے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک نیوز کانفرنس میں امید ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے لازمی اس کی مدد کرے گا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نومبر 2021 میں سعودی ڈیویلپمنٹ فنڈ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت سعودی فنڈ نے تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک میں رکھوائے تھے تاکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا مل سکے۔ اب جب کہ ایک بار پھر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائز انتہائی کم ہو گئے ہیں اور پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں تو نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔

جنرل عاصم منیر اپنا عہدہ سنبھالنے کے ایک ماہ بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر نکلے ہیں۔ عاصم منیر کوئی پہلے آرمی چیف نہیں جو اپنا منصب سنبھالتے ہی سعودی عرب پہنچے ہوں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہر آرمی چیف منصب سنبھالتے ہی سعودی عرب کا دورہ کرتا ہے؟یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ آیا پاکستانی آرمی چیفس کا سعودی عرب جانا کسی دفاعی، معاشی یا سفارتی پالیسی کا حصہ ہے؟ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک روایت ہے جو چلی آرہی ہے۔ اسے آپ ملٹری ڈپلومیسی بھی کہہ سکتے ہیں۔ پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات صرف سیاسی نہیں بلکہ عسکری بھی ہیں۔ اب دوسرا دورہ متحدہ عرب امارات اور تیسرا چین کا ہو گا، لہٰذا یہ روایت جاری رہے گی۔ زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب جانے کے پیچھے اور بہت سی وجوہات بھی شامل ہیں جس کی بنا پر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اچھے رکھنا چاہتا ہے۔ سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ سعودی عرب کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو پاکستان میں سرمایہ لگانے کے ساتھ ساتھ اس کی معاشی مدد بھی کرتے رہتے ہیں جبکہ پاکستان اپنے ملک اور خطے میں یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اس کے لیے سعودی عرب اور اس کی پالیسی اہم ہے۔

23 نومبر 2022 کو اپنے الوداعی خطاب میں سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے فوج کے معاشی معاملات سلجھانے میں سیاستدانوں کی مدد گنواتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم نے انھیں قطر سے تب گیس دلوائی جب دنیا بھر میں گیس کا بحران پیدا ہو چکا تھا۔ اسی طرح خلیجی ممالک سے متعدد ملاقاتوں میں ہم پاکستان کی معاشی مدد کو فعال رکھنے کی بات کرتے رہے ہیں۔‘ اس معاشی مدد میں سعودی عرب سرِ فہرست رہا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ تین ارب ڈالرز کے معاہدے میں مزید توسیع کی ہے جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کچھ حد تک مضبوط ہو جائیں گے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی سربراہان کی جانب سے ہونے والے ان دوروں کا معیشت پر اثر پڑتا ہے کیونکہ ان کے جانے سے ہمارے لیے راہ استوار ہوجاتی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعلقات کی تاریخ پرانی ہے۔ سعودی بادشاہ شاہ فیصل کے دور سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعلقات قائم ہیں، جس کے دوران پاکستان نے نہ صرف سعودی عرب کی فوج کی تربیت کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اسلحہ فراہم کرنے پر بھی معاہدے طے ہوئے ہیں۔ اگر ماضی قریب کی بات کریں تو جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کی مثال بھی ملتی ہے، جنہوں نے اسی طرز پر سعودی عرب سے فوج کے تعلقات مضبوط رکھنے کے لیے منصب پر آتے ہی سعودی عرب کا دورہ کیا۔

سابق سکریٹری دفاع آصف یاسین کے مطابق ’جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف کے دور میں بے شک فوج کی یکساں پالیسی رہی ہو لیکن جنرل قمر باجوہ نے خاصے کھلے الفاظ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان محمد بن سلمان اور شیخ محمد بن زید النہیان سے ذاتی تعلقات ہونے کا دعویٰ کیا۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان کو معاشی ریلیف ملنا ان کی کامیابی ہے۔

یاد رہے کہ نومبر 2016 میں ریٹائر ہونے کے بعد اپریل 2017 میں جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب کے زیرِ قیادت اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن کا سربراہ مقرر کردیا گیا تھا۔یہ اتحاد 41 اسلامی ممالک کے عسکری اتحاد پر مبنی ہے جس کا ہیڈ کوارٹر سعودی عرب میں ہے۔ ان تعلقات کے بارے میں سابق سکریٹری دفاع آصف یاسین ملک نے بتایا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے علاوہ دیگر خلیجی ممالک سے بھی اچھے تعلقات رہے ہیں ’لیکن بنیادی طور پر اسٹیبلشمنٹ گھر اور گھر سے باہر مشرقِ وسطیٰ میں یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ اس کا خلیجی ممالک کی پالیسی بنانے یا اسے چلانے میں اہم کردار ہے۔ یوں ہر نئے آنے والے آرمی چیف کا سعودی عرب کا دورہ اس دعوے کی ساکھ بنائے رکھتا ہے۔

ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی ایکشن میں امریکی مدد کا امکان

سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات بھی معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مدد کرتا رہا ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے قریبی تعلقات کی غمازی اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ سعودی عرب میں لگ بھگ 25 لاکھ جب کہ یو اے ای میں تقریباً 16 لاکھ پاکستانی روزگار کے لیے مقیم ہیں۔ ایسے میں اب دیکھنا یہ ہے کہ  آرمی چیف کا پہلا دورہ سعودی عرب پاکستان کے لیے کتنا کامیاب ثابت ہوتا ہے؟

Back to top button