پاکستان اور افغانستان ایکدوسرے کے آمنے سامنے کیسے؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس وقت لفظی گولہ باری کے ساتھ سرحدی گولہ باری بھی عروج پر ہے، اس دوران پاکستانی طالبان کی جانب سے بلوچستان اور خیبر میں حملوں نے صورتحال کو بہت زیادہ کشیدہ کر دیا ہے۔دونوں ممالک کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حالیہ دنوں میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے کور کمانڈر کانفرنس کے دوران مختلف سلامتی امور کا جائزہ لیا جبکہ وزیراعطم ہائوس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں امن و امان کے قیام پر غور کیا گیا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان کسی مسلح تنظیم کو اپنی سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں جبکہ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کا اپنا اندرونی مسئلہ ہے۔

پاکستان میں تشدد کے بڑھتے واقعات کے بعد چند روز پہلے کور کمانڈرز کانفرنس میں اس بارے میں غور کیا گیا اور اس کے بعد وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی دیگر امور کے ساتھ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال پر بھی اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں قرار دیا گیا کہ پاکستان کسی ملک کو بھی اپنی سرزمین کسی گروہ کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور پاکستان اپنی عوام کے تحفظ اور سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دو روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ رانا کی جانب سے افغانستان میں کارروائی کرنے کے بیان کو افغانستان میں اشتعال انگیز بیان قرار دیا گیا تھا۔ اس بارے میں افغانستان کے وزارت دفاع کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین کا دفاع کرنا جانتا ہے تاہم اس درمیان ترجمان امارت اسلامیہ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے ہمسائے کے طور پر بہتر تعلقات چاہتی ہے اور ان تمام وسائل و ذرائع پر یقین رکھتی ہے جو اس ہدف تک ہمیں پہنچا سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ افغان سینئر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’اگرچے پاکستان کو اس وقت اپنی ہی پالیسیوں کا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن ایک صورتحال یہ ہے کہ افغان طالبان کے پاس کوئی باقاعدہ منظم فوج نہیں ہے۔ دفاعی امور کے ماہر اور تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان سے بات کرنی چاہئے اور ان سے کہنا چاہئے کہ وہ ٹی ٹی پی کی افغانستان کی پناہ گاہوں کو ختم کرے، افغان صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چالیس سال سے دونوں ممالک کے درمیان جو سلسلہ جاری تھا اب اس وقت صورتحال اس کے بالکل مختلف ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال اگست میں افغان طالبان طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں آئے اور حکومت کا کنٹرول سنبھالا، افغان طالبان نے اس دوران پاکستان اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے درمیان مصالحت کی کوششیں کی اور مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان مذاکرات کے لیے ثالثی کا کردار افغان طالبان ادا کرتے رہے اور اس میں کچھ عرصے کے لیے جنگ بندی بھی کی گئی لیکن جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پاکستان میں حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت میں کہا تھا کہ اس سال بیشتر حملوں میں لگ بھگ 58 فیصد حملے خیبر پختونخوا میں ہوئے ہیں اور دوسرے نمبر پر بلوچستان میں ہوئے ہیں، دوسری جانب خیبر پختونخوا میں متعدد مقامات پر کارروائیوں میں 800 سے زیادہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 196 ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل 2014 میں آپریشن ضرب عضب اور اس سے پہلے جو آپریشن کیے گئے اس وقت شدت پسند چند محدود قبائلی علاقوں میں موجود تھے جہاں سے ان کا صفایا کرنے کے دعوے کیے گئے تھے لیکن اب سرکاری سطح پر یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ شدت پسند حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شدت پسند صوبے کے جنوبی علاقوں کے علاوہ مختلف مقامات پر موجود ہیں، ایسے میں فورسز کے لیے کارروائی کرنا مشکل ہوگا۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور ضلع بنوں سے جمعیت علماء اسلام کے رہنما زاہد اکرم درانی نے کہا کہ ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے کہ بنوں میں کوئی آپریشن ہو رہا ہے۔

بابر شاہ نے کہا کہ افغانستان کا سب سے زیادہ انحصار پاکستان پر ہے حالانکہ پاکستان نے افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن افغانستان کو سپورٹ کیا جا رہا ہے، سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ایسی پالیسی اختیار کرنا ہوگی جس میں صورتحال بہتر کی جا سکے اور افغان طالبان کو ایک باقاعدہ منظم فوج نہیں بلکہ ایک مسلح طاقتور گروپ کے طور پر دیکھنا ہوگا کیونکہ اب ’اس گروپ کو پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کی شکل میں پلیٹ فارم بھی دستیاب ہے۔ ادھر امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ہم اس ہدف کےمقصد کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہیں، پاکستانی فریق کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ حالات کو قابو رکھنے کی کوشش کرے۔ بے بنیاد باتوں اور اشتعال انگیز خیالات کے اظہار سے احتراز کرے کیونکہ ایسی باتیں اور بداعتمادی کی فضا کسی فریق کے مفاد میں نہیں، امارت اسلامیہ جس طرح اپنے ملک کے اندر امن و استحکام کو اہمیت دیتی ہے اسی طرح پورے خطے کیلئے امن و استحکام چاہتی ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

مریم نواز کا جنیوا میں گلے کا کامیاب آپریشن

Back to top button