ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی ایکشن میں امریکی مدد کا امکان

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد اب اس بات کاقوی امکان ہے کہ ٹی ٹی پی کیخلاف دوبارہ سے ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا جائے گا جس میں امریکی مدد بھی حاصل ہو گی۔ یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکی انتظامیہ بار بار حکومت پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی مخالف بیانیے کی کھل کر حمایت کر رہی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ پاکستانی طالبان کو افغان طالبان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ٹی ٹی پی کے خلاف امریکہ کی پاکستان کو مدد فراہم کرنے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے سلسلے میں مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مصنف اور تجزیہ کار احمد رشید نے کہا ہے کہ امریکہ نے واضح طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی مدد کرنے کا مؤقف اپنایا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ پھر سے بحال ہو گیا ہے کیوں کہ امریکہ کو ٹی ٹی پی کے حملوں کے باعث پاکستان کو پہنچنے والے نقصان کا ادراک ہے۔ احمد رشید کہتے ہیں کہ امریکہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیوں کے لیے پاکستان کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے سرحد پار اہداف کو نشانہ بنانے کی سہولت فراہم کر سکتا ہے۔ اُن کے بقول افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ کیوں کہ ٹی ٹی پی نے خود کو منظم کر لیا ہے، اس کے حملوں میں شدت آ رہی ہے اور کئی سکیورٹی اہلکار اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

احمد رشید کہتے ہیں کہ پاکستان سے زیادہ افغان طالبان کو یہ بات سوچنی چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ یاد رہے کہ تحریک طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد اب ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستانی دفاعی حلقے بھی اب یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کہیں پاکستانی طالبان کو افغان حکومت خود کو تسلیم کروانے کے لیے دباؤ تو نہیں ڈال رہی۔ 4 نومبر کو تحریکِ طالبان نے پاکستان میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے خلاف کارروائی کی دھمکی دے دی ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "اگر یہ دونوں جماعتیں اپنے مؤقف پر قائم رہیں اور فوج کی غلامی کرتی رہیں تو پھر ان کے سرکردہ رہنماؤں کے خلاف کارروائی ہو گی۔” ٹی ٹی پی نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری امریکہ کی خوشنودی کے لیے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیوں کی دھمکی دے رہے ہیں۔

شدت پسند تنظیم کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے سدِ باب کے لیے موثر کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ اجلاس میں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ’زیرو ٹالرنس‘ کے عزم کا اعادہ کرتے ہر قسم کی دہشت گردی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عہد دہرایا گیا تھا۔ اعلامیے میں میں کہا گیا کہ دہشت گردی سے پوری ریاستی قوت سے نمٹا جائے گا۔ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور پاکستان کی سرزمین کے ایک ایک انچ پر ریاستی عمل داری کو یقینی بنایا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کی تائید کی ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ پاکستانی عوام نے دہشت گرد حملوں میں بہت زیادہ جانی نقصان اُٹھایا ہے۔ لہذٰا افغان طالبان کو عالمی برادری کو کرائی جانے والی یقین دہانیوں کے مطابق اپنی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے آنے کے بعد پاکستان میں ٹی ٹی پی کے منظم ہونے کے خدشات موجود تھے۔ ماہرین پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی مبینہ مدد کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔سینئر صحافی اور افغان اُمور کے ماہر سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ افغان طالبان کی نسبت ٹی ٹی پی امریکہ کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔ سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کو 2010 میں نیویارک کے ٹائم اسکوائر میں حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فیصل شہزاد کو پاکستانی طالبان رہنما حکیم اللہ محسود کے ساتھ ایک ویڈیو میں بھی دیکھا گیا تھا۔ سمیع یوسفزئی کے مطابق افغان طالبان کے لیے افغانستان میں اگر مسائل سر اٹھاتے ہیں تو وہ ٹی ٹی پی کی وجہ سے ہی ہوں گے کیوں کہ ٹی ٹی پی ایک ایسا گروہ ہے جو کہ امریکہ سمیت پوری دنیا کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

افغان امور کے ماہر کے مطابق پاکستان ایک ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اور اگر یہاں ٹی ٹی پی جیسی تنظیمیں جو کہ عالمی ایجنڈا رکھتی ہوں، قدم جماتی ہیں تو یہ پاکستان سمیت چین اور ایران کے لیے بھی تشویش ناک صورتِ حال ہو گی۔ سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اگر ٹی ٹی پی افغانستان میں اپنی پناہ گاہیں بناتی ہے اور انہیں افغان حکومت کی سرپرستی حاصل رہتی ہے تو ان کے لیے بھی پاکستان میں کارروائیاں کرنا آسان ہو گا۔ اس لئے دفاعی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستانی فوج تحریک طالبان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتی ہے تو امریکی انتظامیہ بھی اسکی مدد کو آئے جائے گی۔ یاد رہے کہ ماضی میں افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پہلے امریکہ نئے پاکستان کی درخواست پر تحریک طالبان کی مرکزی قیادت کو ڈرون حملوں کے ذریعے ختم کردیا تھا۔

پاکستان اور افغانستان ایکدوسرے کے آمنے سامنے کیسے؟

Back to top button