کیا مارکیٹس جلد بند کرنے سے معاشی بحران حل ہو گا؟

وفاقی حکومت کی جانب سے توانائی بچانے کے لیے بازاروں، مارکیٹس، اور شادی ہالز کے اوقات کار کو کم کرنے کا فیصلہ شدید عوامی تنقید کی زد میں آ گیا ہے، اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شادی ہالز کی بندش رات 10 بجے، بازاروں کی بندش رات ساڑھے آٹھ بجے، غیر مؤثر پنکھوں کی پیداوار کی بندش، غیر مؤثر بلبز کی پیداوار پر پابندی، 50 فیصد سٹریٹ لائٹس کا استعمال، اور الیکٹرانک بائیکس متعارف کروانے کی تجاویز فی الحال زیر غور ہیں۔

یاد رہے کہ بازاروں اور شادی ہالز کی جلد بندش کا اعلان ہر حکومت کی جانب سے کچھ عرصے بعد کیا جاتا ہے تاہم اس پر عمل شاید ہی کبھی ہوا ہو، حکومت کی جانب سے بازاروں کی رات ساڑھے آٹھ بجے بندش کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کی تاجروں سے بات ہوئی ہے اور تاجر اس بات پر متفق ہیں تاہم آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اُنھیں نہیں علم کہ کسی تاجر نے اس حکومتی فیصلے پر ’اتفاق‘ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کچھ روز پہلے ان کی سندھ حکومت کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی جس میں اُنھوں نے بازار نو سے 10 بجے کے درمیان بند کرنے کی تجویز دی تھی تاہم اس کے بعد اُنھیں ساڑھے آٹھ بجے مارکیٹس بند کرنے کے اس حتمی فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

دوسری طرف آل پاکستان انجمنِ تاجران کے چیئرمین نعیم میر نے کہا ہے کہ کاروباری اوقاتِ کار کے تعین کا اعلان ان کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے اور وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں، کراچی جیسے شہر میں بازاروں میں سب سے زیادہ دباؤ آٹھ سے 10 بجے کے درمیان ہوتا ہے جب لوگ اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر بازار کا رُخ کرتے ہیں، اس موقع پر بازار بند کرنے سے تاجروں کو کاروبار میں نقصان ہوگا جو پہلے ہی بڑھتی قیمتوں اور دیگر اخراجات کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ مارکیٹس ساڑھے آٹھ بجے بند کر دینے سے ان افراد کا روزگار بھی متاثر ہوگا جو دن میں ایک جگہ اور شام میں دوسری جگہ کام کرتے ہیں، کیونکہ کام کے کم اوقات کی وجہ سے ان کی دوسری ملازمتوں کو نقصان پہنچے گا۔

ماہرینِ معیشت سمجھتے ہیں کہ حکومت کے اقدامات ان بنیادی مسائل سے نظریں چرانے کے مترادف ہیں جو اس وقت پاکستان کی معیشت کو لاحق ہیں، کاروبار جلد بند کروانے کی صلاحیت حکومت کے پاس نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو یہ اس مسئلے کا واحد حل نہیں ہے۔ عمار حبیب خان نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسے نہیں ہوتا کہ بازار دن لیٹ کُھلیں اور پھر رات گئے تک کھلے رہیں۔ ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے درآمدی بل میں کمی کے جس اقدام کا اعلان کیا گیا وہ معیشت کو سکیڑنے کے مترادف ہے کیونکہ اس وقت ملک میں ڈالرز کی کمی ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی، یہ بات درست ہے کہ یہ آلات بہت زیادہ توانائی کا استعمال کرتے ہیں مگر انھیں فوری طور پر روکا نہیں جا سکتا بلکہ یہ کئی برسوں پر محیط مرحلہ ہوگا جس کے تحت کم توانائی استعمال کرنے والی چیزوں کی پیداوار بڑھانا، ان کی مارکیٹ پیدا کرنا، پرانی طرز کے آلات کی بندش وغیرہ شامل ہیں۔

معاشی امور کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگر ماضی کسی چیز کا اشارہ ہے تو وہ یہ کہ ان اقدامات پر کوئی خاص عمل نہیں ہو گا اور کچھ عرصے میں انھیں بھلا دیا جائے گا، تاہم آنے والے دنوں میں پاکستان کو اپنی ضروری درآمدات کے لیے بھی ڈالرز کی کمی ہوگی، واضح رہے کہ 23 دسمبر کو ختم ہ

ونے والے ہفتے تک پاکستان کے کُل زرِ مبادلہ کے ذخائر 11.7 ارب ڈالر تھے جس میں سے 5.8 ارب ڈالر سٹیٹ بینک کے پاس اور 5.8 ارب ڈالر نجی بینکوں کے پاس ہیں۔

میں کچھ عرصے قبل دیکھا گیا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے متبادل ضرور موجود ہوں گے لیکن پاکستان کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے علاوہ اور کوئی قابلِ عمل اقدام ایسا نہیں ہے جو اس وقت ملک کو بحران سے نکل سکے۔

ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی ایکشن میں امریکی مدد کا امکان

Back to top button