کیاپلے بوائےکا ماضی اس کا مستقبل ڈبو دے گا؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ میڈیا کے سامنے برملا اعتراف کیا ہے کہ وہ ماضی میں پلے بوائے رہے ہیں اور یہ اعتراف انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سامنے بھی کیا تھا، ماضی میں ان کا نام مختلف خواتین کیساتھ جوڑا جاتا رہا ہے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ نے آخری ملاقات میں ان سے سوال کیا کہ کیا آپ پلے بوائے ہیں؟ تو میں نے جواب دیا کہ ہاں میں پلے بوائے رہا ہوں۔ تاہم عمران کے اس اعتراف سے دہائیوں پہلے ان کے بارے میں یہ تاثر قائم ہو گیا تھا کہ وہ ایک پلے بوائے ہیں جنہوں نے زندگی کی چار دہائیاں شادی کے بغیر مختلف رنگ، نسل اور مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ تعلقات میں گزار دیں۔ اس دوران سیتا وائٹ نامی ایک خاتون نے عمران کی ایک بیٹی کو بھی جنم دیا جس کا نام ٹیری وائٹ ہے اور جو اب 30 برس کی ہو چکی ہے۔ عمران نے اس بیٹی کو دنیا کے سامنے تسلیم نہیں کیا لیکن سیتا کی موت کے بعد وہ جمائمہ کے ہی زیر پرورش رہی ہے اور ان کے بیٹوں کے ساتھ ہی لندن میں رہتی ہے۔ لاس اینجلس کی ایک عدالت بھی ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر سیتا وائٹ کے حق میں یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ بچی عمران خان کی ہی اولاد ہے۔
لیکن ٹیری وائٹ عمران خان کی واحد ناجائز اولاد نہیں ہے۔ ان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے خود انہیں بتایا تھا کہ ان کے ٹیری کے علاوہ پانچ بچے اور بھی ہیں جن میں سلمان اور قاسم شمار نہیں ہوتے۔ ریحام خان لکھتی ہیں کہ انکے سابقہ شوہر نے انہیں بتایا تھا کہ ان کے سب سے بڑے بیٹے کی عمر 36 برس ہے اور وہ بھارت کا رہائشی ہے۔ لہذا ان حقائق کی روشنی میں عمران خان ایک مستند پلے بوائے ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن سیاست کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد عمران نے اپنا خاندان بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے جمائمہ خان سے پہلی شادی کی اور دو بچے بھی پیدا کیے، لیکن یہ بالآخر یہ شادی طلاق پر ختم ہوئی جس کے بعد انہوں نے ریحام خان سے دوسری شادی کی جو صرف دس ماہ چلی، انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے خاور فرید مانیکا کی سابقہ اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی سے خان صاحب کی تیسری شادی اب چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے لیکن دونوں کے تعلقات میں خرابی کی خبریں مارکیٹ ہونا شروع ہو چکی ہیں۔
عموما ًپلے بوائے ایسے دولت مند شخص کو کہتے ہیں جو بنیادی طور پر جنسی لذت کی تلاش میں رہتا ہے اور جس کے دماغ پر ہوس سوار رہتی ہے۔ پلے بوائے کہلانے والے مرد کے تعلقات انواع و اقسام کی عورتوں کے ساتھ ہوتے ہیں، آج اگر وہ ایک عورت کے ساتھ ہے تو کچھ روز بعد دوسری کے ساتھ نظر آئے گا، ایسی طرز زندگی کا مالک شخص ظاہری طور پر نارمل نظر آتا ہے لیکن پس پردہ اسکی شخصیت کا ایک بھیانک پہلو بھی چھپا ہوتا ہے۔ عمران خان کی شخصیت کا یہ دوسرا پہلو ان کی حال ہی میں لیک ہونے والی آڈیوز سے بے نقاب ہوا ہے۔ ان میں سے ایک آڈیو میں عمران عائلہ ملک سے اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ان سے اور انکی بڑی بہن سے ایک ہی وقت میں سیکس کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ عمران کی لیک ہونے والی آڈیوز کو باریک بینی سے سنا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ‘ہائپر سیکس ڈس آرڈر’ کا شکار ہیں۔ وہ ایسے ‘جنسی سیڈسٹ’ ہیں جو غیر فطری طریقے سے سیکس کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ جنسی طور پر سیڈسٹ وہ لوگ ہوتے جو سیکس کے دوران تکلیف دے کر اور تکلیف لیکر تسکین اور لذت محسوس کرتے ہیں۔
لیکن عجیب ترین بات یہ ہے کہ عمران اپنے سپورٹرز میں ایک پلے بوائے کی شہرت رکھنے کے باوجود مقبول ہیں، انکے سپورٹرز کی ایک بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہے، لیکن انکے ناجائز جنسی تعلقات کو انکے چاہنے والے ناصرف قبول کر چکے ہیں بلکہ وہ ان کے ایسے اعمال کا دفاع کرتے بھی نظر آتے ہیں۔اپنی زندگی کی کہانی پر مبنی کتاب میں عمران لکھتے ہیں کہ آکسفورڈ یونیورسٹی لندن میں داخلے کے وقت تک میں یہ سوچتے ہوئے بڑا ہوا کہ میں بدصورت ہوں۔ میری بڑی بہن ہمیشہ مجھے یہی بتاتی تھی اور مجھے اس بات کا یقین ہو گیا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ کامیاب ہونے سے پہلے کبھی کسی نے میری شکل کی تعریف نہیں کی تھی۔ لیکن کامیابی ایسی چیز ہے جو بدصورت ترین مردوں کو بھی خوبصورت بنا دیتی ہے۔ انکے بقول آکسفورڈ نے عمران خان کو دوبارہ جنم دیا۔ یوں وہ ایک ایسی شخصیت بن گیا جس کے بدیسی خدوخال اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی ولایتی لڑکیوں کو لبھا سکتے تھے۔
عمران خان کے یونیورسٹی کے دوست انہیں لڑکیوں میں ایک بہت مقبول شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں کیونکہ ایک کے بعد دوسری لڑکی انہیں کال کرتی اور ملنے کی خواہش کا اظہار کرتی۔ خان نے بھی کبھی کسی کو انکار نہیں کیا تھا، اسلئے اگر انہوں نے جنرل باجوہ کے سامنے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ ایک پلے بوائے رہے ہیں تو انہوں نے ایک ایسا سچ بولا ہے جس سے پاکستانی قوم اور انکے فینز بہت پہلے سے آگاہ ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب عمران خان کا بطور پلے بوائے گزرا ہوا ماضی ان کی آڈیوز اور ویڈیوز کی صورت میں سامنے آ کر ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان اٹھا رہا ہے۔
