عمران کے بعد PTIکی قیادت کون کرے گا؟ لڑائی شروع

جہاں ایک طرف عمران خان اپنی گرفتاری کی صورت میں تحریک انصاف کی قیادت سنبھالنے والے کا نام بتانے سے گریزاں ہیں وہیں دوسری طرف پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین عمران خان کے پابند سلاسل ہونے کے بعد پارٹی کی بھاگ ڈور سنبھالنے کیلئے باہمی دست و گریباں ہیں۔
عمران خان کی جانب سے اپنی گرفتاری کے خدشات اور ان کی ممکنہ گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں میں قیادت سنبھالنے کیلئے مقابلہ شروع ہو چکا ہے۔ شاہ محمود قریشی کی جانب سے عمران خان کی عدم موجودگی میں پارٹی سنبھالنے کے واضح بیان کے بعد اسد عمر بھی مقابلے میں سامنے آ چکے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے صدرپرویز الٰہی نے بھی متبادل قیادت کیلئے پارٹی کے اندر اور باہر لابنگ شروع کر دی ہے۔ جبکہ دوسری طرف پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے دیگر خواہشمندوں میں پرویز خٹک، فواد چوہدری، اعظم سواتی اور مراد سعید بھی شامل ہیں۔
دوسری طرف عمران خان بھی اپنے بعد پارٹی کی قیادت کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں۔9مارچ کو بی بی سی کو انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وائس چیئرمین پارٹی کی نمبر ٹو قیادت ہوتا ہے۔ پرویز الٰہی نے اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ برداشت کیا، وہ مشکل وقت میں ہمارے ساتھ رہے اس لیے انھیں عزت دینے کے لیے پارٹی کی صدارت کا عہدہ دیا‘۔ یعنی عمران خان کے مطابق ان کے بعد وائس چیئرمین یعنی شاہ محمود قریشی پارٹی قیادت سنبھالیں گے تاہم 12 مارچ کو ان کا کہنا تھا کہ میری گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار ہے‘ ہم نےتین سطح کا پوراسسٹم بنایاہے جس میں پہلا ‘ دوسرا اور تیسرامتبادل رکھاگیاہے مگر ابھی ہم اس کا اعلان نہیں کریں گےکیونکہ ہوسکتاہے یہ ان کو بھی نشانہ بنائیں‘وقت آنے پر بتاؤں گا۔ اس بیان سے عمران خان اپنے ماضی کے اعلان سے مکر گئے اور واضح طور پر تحریک انصاف کے نئے قائد کا نام لینے سے گریز کیا۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بنی گالہ سے نقل مکانی کرکے جب سے لاہور منتقل ہوئے ہیں مسلسل اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت کسی وقت بھی انہیں گرفتار کرسکتی ہے بلکہ اس حوالے سے ان کے اپنے خدشے میں اتنا یقین بھی شامل ہوگیا ہے کہ وہ ’’حکومتی منصوبہ بندی‘‘کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ انہیں بلوچستان کی کسی جیل میں رکھا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب میں انتخابات کے انعقاد تک انہیں وہیں جیل میں رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ کوئٹہ میں عمران خان کے خلاف ریاستی اداروں کے بارے میں ہرزہ سرائی کا مقدمہ درج ہے گزشتہ ہفتے عمران خان کی گرفتاری کیلئے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم لاہور بھی آئی تھی لیکن بعد میں ان کے وارنٹ گرفتاری دو ہفتے کیلئے معطل کر دیئے گئے تھے۔تحریک انصاف کے چیئرمین نے اپنی گرفتاری کا تذکرہ اتنی بار کرچکے ہیں کہ ان کے قریبی رفقاء کو بھی اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ ان کے قائد کی گرفتاری یقینی ہوچکی ہے تاہم یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کون کرے گا۔
اس حوالے سے تنظیم کے اعلیٰ سطحی رہنماؤں میں ایک خاموش خواہش تو پہلے سے ہی موجود ہے لیکن موجودہ صورتحال میں مقابلہ بھی شروع ہوچکا ہے اور اب وہ بے چینی سے ’’موقع کے منتظر‘‘ ہیں۔بعض واقفان حال کا تو کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے رانا ثناء اللّٰہ سے زیادہ خواہش اور اضطراب تو پی ٹی آئی کے ان خواہشمندوں کا ہے جو بہت مشکل سے خود پر قابو پائے بیٹھے ہیں۔
ان میں سرفہرست شاہ محمود قریشی ہیں چونکہ وہ پارٹی کے نائب چیئرمین بھی ہیں وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں اور سیاسی پس منظر رکھنے والے عوام کیلئے ایک مانوس سیاسی چہرہ ہیں اس لئے وہ متبادل قیادت کو اپنا استحقاق سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اپنے قائد کی گرفتاری کے بعد تحریک چلانے کی ذمہ داری کی خواہش پر وہ قابو نہ پاسکے اور گزشتہ دنوں انہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک کی قیادت میں کروں گا‘‘۔
جس کے بعد دیگر خواہشمند ’’اپنی سرگرمیوں‘‘ میں زیادہ فعال ہوگئے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ اپنے صاحبزادے زین قریشی کی خالی نشست پر شاہ محمود قریشی نے اپنی صاحبزادی مہربانو قریشی کو ٹکٹ دینے کیلئے عمران خان کو مجبور کر دیا تھا اور اس طرح ان کی شکست سے پی ٹی آئی ملتان کی اہم نشست سے محروم ہوگئی اس لئے شاہ صاحب اب کسی اور تقاضے کے ہرگز مجاز نہیں ہیں۔
اسد عمر بھی مقابلے میں شامل ہیں جنہوں نے عمران خان کے زخمی ہونے کے بعد لاہور سے راولپنڈی آنے والے جلوس کی قیادت بھی کی تھی پارٹی میں ان کے ناقدین اور شاہ محمود قریشی کے حامی معترضین کا کہنا ہے کہ اسد عمر بحیثیت وزیریا رکن اسمبلی پریس کانفرنسوں اور ڈرائنگ روم پالیٹکس کیلئے تو موزوں ہیں لیکن وہ متبادل عوامی سیاستدان کا چہرہ ہرگز نہیں جبکہ چوہدری پرویز الٰہی جنہیں حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کا صدر بنایا گیا ہے اگر متبادل قیادت کے متقاضی ہیں تو وہ حق بجانب سمجھے جائیں گے لیکن اس سے تنظیمی سطح پر پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں باقی خواہشمندوں کی تعداد تو خاصی ہے جن میں پرویز خٹک، فواد چوہدری حتیٰ کہ اعظم سواتی اور مراد سعید بھی شامل ہیں کیونکہ خواہشوں اور خوابوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اتوار کو ایک نجی ٹی وی پر گفتگو کے دوران جب عمران خان سے یہ سوال بہت زور دیکر وضاحت کے ساتھ پوچھا گیا کہ آپ کی گرفتاری کے بعد تحریک چلانے کیلئے آپ کا متبادل کون ہوگا تو عمران خان جنہوں نے تمام سوالوں کے جواب تفصیل سے دیئے تھے اس سوال کا جواب گول کر گئے اور سوال پوچھنے والے صحافی جواب کے انتظار میں ان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہی رہ گئے۔ عمران خان نے اس سوال کا جواب کیوں نہیں دیا یقیناً اس کی وجہ یہی ہے کہ جس کا تفصیل سے ذکر کیا گیا کیونکہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے میڈیا کے سامنے یہ کہنا کہ ۔ قیادت کے جیل جانے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت میں کروں گا تنظیمی سطح پر تنازعہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
