تحریک انصاف اپنے گڑھ KPمیں بھی بِکھرنے لگی

پی ٹی آئی شرپسندوں کی جانب سے 9 مئی کو بد ترین تخریب کاری اور دہشت گردی کے مظاہرے کے بعد، عوام میں پی ٹی آئی کیخلاف پیدا ہونے والی نفرت دیکھتے ہوئے تحریک انصاف خیبر پختونخواہ کے کئی رہنما دوسری جماعتوں میں جانے کیلیے پر تولنے لگے ہیں۔ تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کا پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔
دوسری جانب کافی عرصے سے غیر فعال رہنے والے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر پرویز خٹک کا دعویٰ ہے کہ وہ پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے تاہم اطلاعات ہیں کہ پرویز خٹک نے جماعت سے اپنے راستے جدا کر لئے ہیں تاہم وہ اپنے اگلے گھونسلے کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے بعد مسلسل 2 روز تک ملک دشمن واقعات کے باعث پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنمائوں کی جانب سے دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے رہنمائوں کی جانب سے پیپلز پارٹی میں شمولیت کے لئے رابطوں کا انکشاف کر دیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے بھی بعض حلقوں نے پی ٹی آئی کے سابق ارکان کی جانب سے رابطوں کا انکشاف کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات امجد آفریدی کے مطابق تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق ممبران اسمبلی، صوبائی رہنما، تحصیل اور بلدیاتی ممبران نے رابطے کئے ہیں۔ تاہم چونکہ تحریک انصاف کے بیشتر رہنما جلائو گھیرائو میں ملوث ہیں، اس لئے قیادت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے گی۔
ترجمان پیپلز پارٹی امجد آفریدی نے کہا ہے کہ ملک میں جلائو گھیرائو کرنے والوں کے لئے پیپلز پارٹی میں جگہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے رہنمائوں کی پارٹی میں شمولیت کی خواہش سے قیادت کو آگاہ کر دیا ہے جو بھی فیصلہ ہو گا وہ پارٹی قیادت ہی کرے گی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے سابق ارکان کے ساتھ رابطوں میں ہیں البتہ ان کی شمولیت کے حوالے سے حتمی منظوری میاں نواز شریف ہی دینگے۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں گرفتار ارکان کی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق 9ارکان صوبائی ،9 ارکان قومی اسمبلی اور ایک سینیٹر گرفتار ہوئے ہیں۔ جبکہ پرتشدد مظاہروں کا مقدمہ پشاور سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزرا کے خلاف بھی درج ہے لیکن گرفتاری نہیں ہو سکی ہے۔
پرتشدد مظاہروں میں پشاور سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزرا و ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک ان کی گرفتاری بھی عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔ان میں بعض رہنما سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور بیانات بھی جاری کر رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جن کے خلاف مقد مات درج ہیں ان کی گرفتاری کے لئے کارروائیاں جاری ہیں اور جلد ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس نے ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو نقصان پہنچانے والے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کا گیٹ توڑ کر کباڑی پر فروخت کرنے والا بھی شامل ہے۔ اسی طرح دیگر شر پسندوں کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جن کی گرفتاری جلد عمل میں لائی جائے گی۔
