فوجی قیادت کا عمران خان کو این آر او دینے سے صاف انکار

ملک کبھی بھی ڈیل سے نہیں مذاکرات اور مصالحت سے ٹھیک ہوتے ہیں، تاہم اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ پالیسی میں عمران خان کیلئے کوئی لچک نہیں ہے جبکہ موجودہ حکومت کے پاس 9 مئی کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ شہباز حکومت 9 مئی کے کیسز کے حوالے سے مکمل بے بس ہے اس لئے مستقبل قریب میں مذاکراتی عمل انجام کو پہنچتا نظر نہیں آتا۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتےہوئے سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کا نواز شریف اور آصف زرداری سے اچھا تعلق ہے، محمود اچکزئی اسٹیبلشمنٹ مخالف اور جمہوریت حامی سیاست کرتے رہے ہیں، عمران خان واقعی محمود اچکزئی کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیدیتے ہیں تو یہ مثبت قدم قرار پائے گا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھاکہ عمران خان کے فوج سے مذاکرات ہوتے ہیں تو وہ مذاکرات نہیں ڈیل ہوگی، ملک کبھی بھی ڈیل سے نہیں مذاکرات اور مصالحت سے ٹھیک ہوتے ہیں، سیاسی جماعتیں ڈیلوں سے نکل کر اب مذاکرات کی طرف جائیں یہی جمہوریت کا راستہ ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی طرف سے اپنے دور حکومت والا طرز عمل آئندہ اختیار نہ کرنے کی گارنٹی کے بغیر سیاسی جماعتوں کے مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے، عمران خان اب بھی مشکل حالات میں ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ پالیسی میں عمران خان کیلئے کوئی لچک نہیں ہے۔
پروگرام میں گفتگ کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے حکومت سے رابطے ہیں فی الحال وہ کسی تحریک کا حصہ نہیں بن رہے، تحریک انصاف ووٹرز اور سپورٹرز کی سپورٹ کو اسٹریٹ پاور میں تبدیل نہیں کرسکی۔ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف کیلئے عوام کو متحرک کرنا آسان نہیں رہا ہے۔
پنجاب کے سرکاری ڈاکٹرز مریم نواز سے معافی منگوانے پر بضد کیوں؟
دوسری جانب سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میرکا کہنا ہے کہ عمران خان نے کافی لیت و لعل کے بعد محمود اچکزئی کو مذاکرات کی اجازت دی ہے۔عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی ذمہ داری نہیں دی بلکہ یہ خود محمود اچکزئی کی تجویز ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان اور محمود خان اچکزئی کی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی بات اتمام حجت ہےکیونکہ دونوں جانتے ہیں تحریک تحفظ آئین کے نام پر عمران خان کو رہا نہیں کرواسکتے، اپوزیشن تحریک تحفظ آئین میں ایک نکتہ عدلیہ کے ساتھ حکومت کی لڑائی بھی ہے، پیپلز پارٹی بھی بجٹ کی منظور ی کیلئے حکومت کی عدلیہ کے ساتھ لڑائی ختم کرنے کی شرط لگاسکتی ہے۔حامد میر نے کہا کہ حکومت نے اپنے رویے سے عدلیہ کو آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے کی طرف دھکیل دیا ہے، تاریخ دیکھیں تو عدلیہ اور میڈیا کے ساتھ لڑائی کرنے والی حکومت بالآخر نقصان میں رہتی ہے، عدلیہ اور حکومت کی لڑائی میں ن لیگ کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو نواز شریف نہیں مناسکے تو شہباز شریف کیسے مناسکتے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن موجودہ حکومت کی باتوں میں نہیں آئیں گے،
تاہم سینئر صحافی و تجزیہ کار محمد مالک کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کو لگتا ہے مذاکرات ان کا آئیڈیا ہے مگر یہ ان کا آئیڈیا نہیں ہے، عمران خان زبردست چال چلتے ہوئے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے بات چیت کیلئے محمود اچکزئی کو آگے لائے ہیں کیونکہ ان کے دونوں جماعتوں کی قیادت سے اچھے تعلقات ہیں۔ان کا کہنا تھا محمود اچکزئی کامیاب ہوئے تو عمران خان کی کامیابی سمجھی جائے گی اگر ناکام ہوئے تو ان کی شخصی ناکامی کہی جائے گی، عمران خان نے سپریم کورٹ کے کہنے پر مذاکرات کیلئے یہ قدم اٹھایا ہے، اب مذاکرات ناکام ہوں یاکامیاب دونوں صورتوں میں عمران خان کو فائدہ پہنچے گا۔محمد مالک کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ برا ہے مگر اتنا برا نہیں کہ اس کے بعد سڑکوں پر آگ لگ جائے، پیپلز پارٹی بجٹ پر ووٹ نہیں دیتی تو حکومت گرجائے گی، تیسرا اسٹیک ہولڈر پیپلز پارٹی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
