عمران خان اسمبلیوں سے استعفوں کی غلطی دہرانے کو تیار

پچھلے ڈھائی برس سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید عمران خان ایک مرتبہ پھر اسمبلیوں سے استعفے دینے کی اسی حکمتِ عملی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں جسے ان کی ماضی کی بڑی غلطیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور جس کے نتیجے میں آج وہ اور انکی جماعت سیاسی طور پر فارغ ہو چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2022 میں قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کے فیصلے نے نہ صرف تحریک انصاف کو پارلیمانی سیاست سے عملاً باہر کر دیا بلکہ حکمران اتحاد کے لیے قانون سازی کا راستہ بھی ہموار کیا، جبکہ آج عمران خان خود اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کی جماعت اسمبلی کے اندر اور باہر پہلے جیسی سیاسی قوت برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اب اگر ایک بار پھر قومی اسمبلی، سینیٹ اور دیگر منتخب اداروں سے استعفوں کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے تو اس کے دور رس سیاسی نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور تحریک انصاف اپنی محدود پارلیمانی قوت سے بھی محروم ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپنے وکیل کے ذریعے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو پیغام بھجوایا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے علاوہ قومی اسمبلی، سینیٹ اور دیگر منتخب ایوانوں میں موجود تحریک انصاف سے وابستہ تمام ارکان اپنے استعفے جمع کرا دیں۔ اس اطلاع نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور پارٹی کے اندر بھی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پارلیمانی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسمبلیوں میں موجود ارکان حکمران اتحاد پر مؤثر سیاسی دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے نزدیک پارلیمنٹ میں موجودگی نہ تو حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکی اور نہ ہی ان کی قانونی یا سیاسی صورتحال میں کوئی مثبت پیش رفت ممکن بنا سکی۔
اطلاعات کے مطابق عمران خان کا خیال ہے کہ پارلیمانی سیاست سے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں ہو رہے، اس لیے اب ایک نئی حکمت عملی اختیار کر کے حکومت پر دباؤ بڑھایا جانا چاہیے۔ تاہم اس تجویز نے خود تحریک انصاف کے اندر اختلاف رائے کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کو اس مجوزہ فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چونکہ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے، اس لیے وہاں کے ارکان کو استعفے نہ دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ صوبائی حکومت برقرار رکھی جا سکے، اگرچہ حکومت کی کارکردگی پر بعض تحفظات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔دوسری جانب تحریک انصاف کے ایک باخبر لیڈر نے اس اطلاع کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کی کوئی باقاعدہ ہدایت جاری نہیں کی اس معاملے پر غور و فکر جاری ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی سطح پر ابھی ایسا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ادھر پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق جیسے ہی استعفوں کے فیصلے کی اطلاع سامنے آئی، قومی اسمبلی میں موجود آزاد ارکان کی بڑی تعداد نے اس حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ کو چھوڑنے کے بجائے اسی فورم کو حکومت کا مؤثر احتساب کرنے، عوامی مسائل اجاگر کرنے اور پارٹی بیانیہ مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی پارلیمانی قیادت بھی اسی سوچ کی حامی بتائی جاتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ پہلے ہی عمران خان کی ہدایت پر کیا جا چکا تھا، تاہم استعفوں کے حوالے سے اب تک کوئی نئی باضابطہ ہدایت موصول نہیں ہوئی۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق تحریک انصاف نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد پارلیمنٹ کے اندر جو محدود مگر مؤثر سیاسی گنجائش حاصل کی ہے، اگر اجتماعی استعفے دیے گئے تو وہ بھی ختم ہو جائے گی اور حزب اختلاف کے طور پر حکومت پر دباؤ ڈالنے کے موئثر آئینی ذرائع ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف اسمبلیوں سے باہر آتی ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ حکمران اتحاد کو ہو سکتا ہے، کیونکہ اپوزیشن کی پارلیمانی موجودگی کمزور ہونے سے قانون سازی، آئینی ترامیم اور حکومتی فیصلوں کی راہ مزید آسان ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں بھی اجتماعی استعفوں کی حکمت عملی تحریک انصاف کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان کا باعث بنی تھی۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ سے باہر آنے کے بعد پارٹی اپنی مؤثر آواز سے محروم ہوئی جبکہ حکومت نے نسبتاً آسانی کے ساتھ اپنا پارلیمانی ایجنڈا آگے بڑھایا۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بھی اگر تحریک انصاف یہی راستہ اختیار کرتی ہے تو وہ خود کو پارلیمانی سیاست سے مزید دور کر لے گی، جبکہ حکمران اتحاد کے لیے سیاسی میدان نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اس لیے پارٹی کے اندر بڑی تعداد اسمبلیوں کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کو زیادہ مؤثر حکمت عملی قرار دے رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ اگر عمران خان کی جانب سے استعفوں کی ہدایت کی باضابطہ توثیق ہوتی ہے تو یہ تحریک انصاف کی سیاسی سمت میں ایک بڑا موڑ ہوگا، تاہم اگر پارلیمانی قیادت اپنے مؤقف پر قائم رہتی ہے تو پارٹی کے اندر اس حکمت عملی پر مزید مشاورت اور اختلاف رائے سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے۔
