کیا واقعی عمران خان کو عجلت میں سزائیں سنائی جا رہی ہیں؟

عمران خان کو دو دنوں میں سائفر کیس میں 10 سال جبکہ توشہ خانہ کیس میں اہلیہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی کے ہمراہ 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائے جانے کے فیصلے قانونی و سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔
جہاں ایک طرف دونوں فیصلوں کے قانونی پہلوؤں اور سیاسی اثرات پر بحث ہو رہی ہے وہیں پی ٹی آئی حلقوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ قانونی تقاضے پورے کئے بغیر عدالت کی طرف سے اتنی جلدی میں فیصلے کیوں دئیے جا رہے ہیں۔پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق انہوں نے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اتنی تیزی سے فیصلے ہوتے ہوئے نہیں دیکھے جبکہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ان پھرتیوں کا مقصد پارٹی کو توڑنا اورعمران خان پر دباؤ بڑھانا ہے۔
تاہم دوسری جانب حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء کو عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے دفاع کے لیے اچھا خاصا وقت دیا گیا تاہم پی ٹی آئی وکلاء کی طرف سے کیسز کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا بلکہ وکلاء کیسز کو لٹکانے کیلئے جتن کرتے دکھائی دئیے۔ دوسری جانب کچھ غیر جانبدار قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم خود اس ساری صورتحال کی ذمہ دار ہے۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے معروف قانون داں کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اس حوالے سے بتایا، ”عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس میں چھ وکیل اور سائفر میں آٹھ وکیل تبدیل کیے، جو پھر ججوں کے سامنے یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تیاری کا وقت دیا جائے۔‘‘انعام الرحیم کے مطابق کریمنل کیسز میں پہلے ہی دن سے ایک بیانیہ تیار کیا جاتا ہے۔ ”اگر اس طرح وکیل تبدیل کیے جائیں تو وہ بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے اور مقدمہ ملزم کے خلاف چلا جاتا ہے۔‘‘انعام الرحیم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ توشہ خانہ کے معاملے میں تمام سیاست دانوں کا رویہ ایک جیسا ہے۔ ”توشہ خانہ تحائف کے معاملے میں کسی بھی وزیر اعظم یا حکومتی بندے نے قوانین کا احترام نہیں کیا اور تقریباً سب نے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘
تاہم پی ٹی آئی سے وابستہ قانونی ماہرین اس حجت سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدالتی تاریخ میں کبھی اتنی پھرتی نہیں دیکھی۔ ” ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں بہت سے مسئلے تھے لیکن انکی بھی ایک اپیل میں ایک برس لگ گیا تھا لیکن یہاں تو معاملات چند دنوں یا ہفتوں میں ہو رہے ہیں جبکہ ملزم سے حق دفاع بھی چھینا جارہا ہے، جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔‘‘
دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو یہ سزائیں اس لیے دی جا رہی ہیں تاکہ عمران خان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔”عمران خان کو ملک اور سیاست چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا، جس کو انہوں نے مسترد کردیا۔ اس لیے اب انہیں لمبی لمبی سزائیں دے کر ایک تنگ کال کو ٹھری میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ سیاست چھوڑنے پہ مجبور ہو جائیں لیکن وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے۔‘‘علیمہ خان کے مطابق حکام سزائیں دینے میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ” نیب کے جس جج نے سزا دی ہے، عموماً وہ 11 بجے تشریف لاتے ہیں لیکن آج وہ صبح نو بجے ہی آگئے اور چھ منٹ میں سزا دے دی۔‘‘
دوسری طرف عمران خان کی لیگل ٹیم کے ایک رکن شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ عجلت میں دی جانے والی ان سزاؤں کا مقصد پارٹی کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے پھرتی سے دی جانے والی ان سزاؤں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان میں خوف پیدا کیا جائے۔ اور ”عوام میں مایوسی پیدا کی جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سزاؤں کی وجہ سے تحریک انصاف کے کارکنان کا حوصلہ مزید پختہ ہو رہا ہے۔‘‘
عمران خان کو دی جانے والی لمبی سزاؤں کے بعد کئی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ عمران خان کو کسی بھی طرح کی ریلیف نہیں مل سکتی۔ تاہم جسٹس وجیہہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ اگر عدالتیں چاہیں تو عمران خان کو ریلیف دے سکتی ہیں۔ ”جس تیزی سے ان مقدمات کا فیصلہ ہوا ہے اسی تیزی سے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ اپیلیں سن سکتی ہیں اور صرف سزاؤں کو نہیں بلکہ فیصلوں کو معطل کر کے عمران خان کو انتخابات لڑنے کی اجازت بھی دے سکتی ہیں۔‘‘جسٹس وجیہہ الدین کے مطابق عمران خان یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ الیکشن سے روکنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جس کی آئین ضمانت دیتا ہے۔ ” عمران خان یہ بھی دلیل دے سکتے ہیں کہ اس کے علاوہ یہ عوام کے بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے کہ وہ اپنی پسند کا
نمائندہ منتخب نہیں کرسکتے۔‘‘
